’گرو نانک محل‘ کی بے بنیاد افواہ کے باعث قدیم حویلی میں 72 برس سے آباد خاندان بے گھر

عمر دراز ننگیانہ - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نارووال

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گرو نانک محل
شیر محمد گجر اپنے خاندان سمیت کبھی دوبارہ اپنے پرانے گھر واپس جا سکیں گے یہ سب انھیں بھی معلوم نہیں ہے

پاکستان کے صوبہ پنجاب کا شہر نارروال ان علاقوں میں شامل ہے جہاں سے بٹوارے کے وقت بڑی تعداد میں ہندوؤں اور سکھوں نے انڈیا کی طرف ہجرت کی۔ انھوں نے جو گھر خالی کیے ان میں انڈیا سے آنے والے مسلمان آباد ہوئے۔

انڈیا پاکستان کی سرحد سے لگ بھگ چار کلو میٹر دور نارروال کا ایک نواحی گاؤں باٹھانوالہ ہے۔ کچے پکے گھروں پر مشتمل اس قدیم دیہات کی پتلی اور پیچیدہ گلیوں میں ایک گھر بہت منفرد نظر آتا ہے۔

مقامی افراد اسے محل کہتے ہیں۔ اس کی اس قدر شہرت اس کے محلِ وقوع اور طرزِ تعمیر کی وجہ سے ہے۔ ایک کنال پر محیط حویلی نما اس عمارت میں ایک اندازے کے مطابق 22 کے قریب کمرے تھے جو منزلوں میں تعمیر کیے گئے تھے۔ چاروں کونوں میں تین منزلیں جبکہ باقی صرف عمارتیں تھیں۔

دروازوں اور کھڑکیوں میں محرابیں نمایاں ہیں۔ لکڑی سے بنا بھاری بھرکم مرکزی دروازہ عمارت کے ماتھے کا ٹیکہ معلوم ہوتا ہے۔ عمارت کی چند اندرونی دیواروں پر سکھ مذہب سے تعلق رکھنے والے پیشواؤں، راجوں یا مہاراجوں کی تصاویر نقش تھیں۔

یہ حویلی کب کس نے تعمیر کروائی، تاحال نہیں معلوم ہو سکا لیکن بٹوارے کے بعد سے چند روز قبل تک اس میں شیر محمد گجر کا خاندان آباد تھا۔ اس خاندان کا بھی اس تاریخی گھر سے ناطہ ختم ہو چکا ہے۔ شیر محمد کا خاندان اس عمارت سے نکلا تو اس کی دوبارہ تعمیر کی غرض سے تھا لیکن اب یہ جگہ ہی ان کے لیے ممنوعہ علاقہ بن چکی ہے۔

یہ خاندان اب دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہے۔ اب کبھی دوبارہ وہ اپنے پرانے گھر واپس جا سکیں گے؟ یہ سب انھیں بھی معلوم نہیں ہے۔

ایک شاندار حویلی سے بے گھری تک کا یہ سفر شیر محمد کے خاندان نے گذشتہ صرف 15 روز میں طے کیا۔

اب وہ خود اسی حویلی کے پہلو میں واقع ایک میدان میں کھلے آسمان تلے چارپائی ڈال کر سوتے ہیں۔ سامنے چند گائے بھینسیں بندھی ہیں۔

گرو نانک محل کا کامبو
نارووال کی ضلعی انتظامیہ نے ایکشن لیتے ہوئے تاریخی حویلی کو مقفل کر دیا تا کہ اسے مزید نقصان سے بچایا جا سکے (کامبو تصویر)

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ ان کا خاندان محنت مزدوری سے وابستہ تھا۔ 85 سالہ شیر محمد خود جوانی میں پہلوانی کیا کرتے تھے۔

’اِک اوہ ویلا سی جدوں ریل گڈی وی سانوں پُچھ کے لنگدی سی (ایک وہ وقت بھی تھا کہ جب یہاں سے ریل گاڑی بھی ہماری اجازت سے گزرتی تھی)۔’

لیکن ان 15 دنوں میں ایسا کیا ہوا کہ شیر محمد اپنے خاندان سمیت سڑک پر آ گئے؟

‘گرو نانک محل’

شیر محمد کے مطابق دو ہفتے قبل وہ حویلی سے اس لیے نکلے تھے کہ ‘وہ اس قدر بوسیدہ ہو چکی تھی کہ اس کے کمروں کی چھتیں گرنا شروع ہو چکی تھیں۔ کچھ دن قبل ایک چھت ہمارے بچوں پر بھی گری خوش قسمتی سے وہ بچ گئے۔’

چھتیں دوبارہ تعمیر کروانے کی غرض سے شیر محمد کا خاندان کچھ دن کے لیے حویلی سے باہر نکلا تو اتنے میں سرکار نے حویلی مقفّل کر دی۔ اس کے چند روز بعد کچھ مقامی ذرائع ابلاغ نے خبر جاری کی کہ شیر محمد جس حویلی میں رہائش پذیر تھے وہ سکھ مذہب کے بانی ‘بابا گرو نانک کا محل تھا جو قریباً چار سو برس قبل تعمیر کیا گیا تھا۔‘

یعنی یہ عمارت سکھوں کے لیے مذہبی اور ثقافتی اعتبار سے اہمیت کی حامل تھی۔ خبر میں یہ بھی کہا گیا کہ اس کے ایک بڑے حصے کو گرایا جا چکا ہے اور اس کے ملبے کو فروخت کیا جا رہا ہے۔

اس خبر کے نشر ہونے کے ساتھ ہی انڈیا میں سکھوں اور پاکستان کو لے کر تبصرہ شروع ہو گیا تو دوسری جانب پاکستان میں بھی ثقافتی ورثے میں دلچسپی رکھنے والے افراد میں تشویش پیدا ہوئی۔

نتیجتاً حکومتی مشینری حرکت میں آئی اور معاملے کی چھان بین کا آغاز ہوا اور متعلقہ اداروں کو اس عمارت کی تاریخی اور ثقافتی حیثیت جانچنے کے لیے کہا گیا۔

اتنا کچھ ہو جانے کے بعد شیر محمد اور ان کے خاندان کو ڈر ہے کہ 72 برس سے ان کا گھر رہنے والی حویلی اب شاید ان کو کبھی واپس نہیں مل سکے گی۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ‘ہمارے والد صاحب اس میں آئے تھے۔ پھر ہم پانچ بھائی تھے ہم یہاں رہے اور اب میرے بھائیوں کی اولاد یہاں رہ رہی ہے۔’

گرو نانک محل
کہا جاتا ہے کہ حویلی میں سکھوں کے راجوں مہاراجوں یا پھر دیگر گروؤں کی تصویریں بھی تھیں

کیا اس جگہ کا گرو نانک سے کوئی تعلق ہے؟

نارووال کی ضلعی انتظامیہ کے مطابق ابتدائی تحقیق سے یہ واضح ہو چکا ہے کہ نہ تو یہ عمارت سکھوں کے لیے مذہبی اور نہ ہی ثقافتی اہمیت کی حامل تھی۔ یہ محض ایک متروکہ رہائشی عمارت تھی۔

ضلعی انتظامیہ کے ایک افسر نے بی بی سی کو بتایا کہ ایسی عمارتیں ایویکیو ٹرسٹ پراپرٹی بورڈ (متروکہ وقف املاک) کے زیرِ انتظام ہوتی ہیں، یہ عمارت کسی طرح ان سے رہ گئی تھی۔

ڈپٹی کمشنر نارووال وحید اصغر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے پاس شکایت درج کروائی گئی تھی کہ ‘کسی تاریخی عمارت کا ملبہ چوری کر کے بیچا جا رہا تھا۔ اس پر انتظامیہ نے ایکشن لیتے ہوئے اس کو مقفل کر دیا تا کہ اسے مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔‘

یہ قریباً رواں ماہ کی 20 تاریخ کا واقعہ تھا۔ اس کے چند روز بعد ہی وہ خبریں سامنے آئیں جن میں اس عمارت کو بابا گرو نانک سے منسوب کیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر نارووال کے مطابق اس پر ضلعی حکومت نے آثارِ قدیمہ اور دیگر متعلقہ اداروں کو خط لکھے کہ وہ اس عمارت کی تاریخ اور ثقافتی اہمیت کے حوالے سے جانچ پڑتال کر کے بتائیں۔

’محض عام لوگوں یا ریوینیو کے عملے کی باتوں پر تو انحصار نہیں کیا جا سکتا تھا وہ کوئی ماہرین تو نہیں تھے تو ہم نے بہتر سمجھا کہ ماہرین سے اس کی جانچ کروائی جائے۔’

تاہم سوال یہ ہے کہ ‘بابا گرو نانک کا محل’ آیا کہاں سے؟

‘یہ گرو نانک محل ایک ہفتہ پہلے ہی بنا ہے’

ڈپٹی کمشنر نارووال وحید اصغر کا کہنا تھا کہ یہ وہ بھی نہیں جانتے کہ اس عمارت کو ‘گرو نانک محل’ کس بنیاد پر کہا گیا۔ تاہم شیر محمد اور ان کے محلے دار جانتے ہیں کہ ایسا کیسے ہوا۔

انہیں یہ نہیں معلوم تھا کہ میڈیا کے مقامی نمائندوں کو اس حویلی کی موجودگی یا وہاں سے مبینہ طور پر ملبے کی چوری کی خبر کس نے دی تاہم ثمر عباس نامی مقامی رہائشی نے بی بی سی کو بتایا کہ چند ٹی وی چینلز اور اخبارات کے مقامی نمائندے چند روز قبل یہاں آئے تھے۔

’انھوں نے عمارت کو دیکھا بھی اور ہم سے کہا کہ ہم بس اس حد تک بیان دیں کہ یہ عمارت قدیم ہے۔ اگر ہم نے اس کے علاوہ کوئی بات بتائی بھی تو وہ انھوں نے نکال دی تھی۔‘

شیر محمد کا بھی کہنا تھا کہ چند روز قبل ’ویڈیو والا ایک آیا تھا اور اس نے جا کر خبر لگا دی کہ یہ ایک گرودوارہ ہے۔’ ان خبروں میں اس بات کی دلیل ایک یہ بھی پیش کی گئی کہ عمارت کی اندرونی دیواروں پر بابا گرو نانک یا سکھ مذہب سے تعلق رکھنے والے افراد کی تصاویر نقش تھیں۔

شیر محمد کے مطابق ایسا نہیں تھا۔ ‘نہیں جناب وہ (تصاویر) اس قسم کی ہیں جیسے ہم کسی اپنے پیر و مرشد کی تصویر گھر میں لگا لیں۔’ ان کا کہنا تھا ان نقوش میں بھی بابا گرو نانک کی تصویر نہیں تھی۔

شیر محمد کا کہنا تھا کہ ‘ایک ہفتہ ہی ہوا ہے جو پارٹی آئی تھی اس نے میڈیا میں اس کا نام رکھ دیا ہے گرو نانک (محل) ورنہ ہے نہیں، آپ بھی دیکھ لیں بیشک۔ وہ سکھوں کے راجوں مہاراجوں یا پھر دیگر گروؤں کی تصویریں تھیں۔’

کیا حویلی سے واقعی ملبہ چوری ہوا؟

حویلی کے سامنے والی دیوار اور عقبی دیواروں پر چند مقامات سے اینٹیں غائب نظر آتی ہیں۔ ظاہری طور پر اس کی مجموعی حالت انتہائی بوسیدہ ہے۔ سامنے کے حصے کی ایک بلند دیوار سامنے کو جھکی ہے جس کو دیکھ کر لگتا ہے کہ کسی بھی وقت گر سکتی ہے۔

یہاں کے رہائشی ثمر عباس کے مطابق کچھ عرصہ قبل اس دیوار کا ایک حصہ گرا تھا اور اس سے گلی سے گزرنے والے بچے بال بال بچے تھے۔ شیر محمد نے بتایا کہ حویلی کے زیادہ تر کمروں کی چھتیں کافی عرصہ پہلے سے گر چکی تھیں۔

‘کوئی ایک آدھ ہی کھڑی ہو گی اور کچھ دن پہلے ایک کمرے کی چھت اس وقت گری جب نیچے ہمارے بچے سو رہے تھے۔ ان کی قسمت اچھی تھی کہ شہتیر کا ایک حصہ پلنگ کے سرہانے والی طرف کٹہرے پر گر کر رک گیا۔’

ثمر عباس کا کہنا تھا کہ محلے دار بھی کچھ عرصے سے شیر محمد کے خاندان پر زور ڈال رہے تھے کہ وہ اس بوسیدہ عمارت کو گرا دیں کیونکہ یہ خطرناک ہو چکی تھی۔

‘اس تازہ واقعہ کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ اس کو آہستہ آہستہ گرایا جائے گا اور پھر کچھ دنوں سے گھر والے اسے تھوڑا تھوڑا کر کے گرا رہے تھے۔’

انھوں نے اس جگہ کی بھی نشاندہی کی جہاں چھتوں سے اترنے والی لکڑی رکھی گئی تھی۔

تو ملبہ چوری کی خبر کیسے نکلی؟

ڈپٹی کمشنر نارووال وحید اصغر کے مطابق اس حوالے سے مخلتف آرا ہیں۔ تاہم اس کی وجہ دو گروہوں کا آپسی جھگڑا بھی ہو سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جب انھوں نے اس عمارت کو مقفل کیا تو اس وقت اس میں کوئی آباد نہیں تھا۔ نہ ہی یہ عمارت کسی کے نام پر رجسٹرڈ تھی یا کسی کی ملکیت تھی۔

شیر محمد کو حویلی کیسے ملی؟

شیر محمد اور ان کے محلے کے لوگوں کا دعوٰی تھا کہ اس گاؤں میں جو لوگ انڈیا سے ہجرت کر کے آئے تھے انہیں جو جگہ خالی ملی وہ اس میں گھس گئے تھے۔ وہ جائیدادیں آج تک ان کی ملکیت نہیں ہیں۔

‘ہم جب ہجرت کر کے آئے تو ادھر ہی آئے۔ ہمارا ضلع امرتسر اور گاؤں مجیسہ تھا پیچھے۔’ ان کا کہنا تھا کہ انہیں یہ جگہ ملی اور وہ اس میں گھس گئے۔ ‘ہمیں آج تک کسی نے نہیں پوچھا۔ اب حکومت نے ہمیں نکال کر گلی میں بٹھا دیا ہے۔’

ان کا کہنا تھا کہ وہ اس حوالے سے شکایت لے کر اسسٹنٹ کمشنر کے پاس جا چکے ہیں۔

حویلی کتنی باقی ہے، اب اس کا کیا ہو گا؟

شیر محمد کے مطابق حویلی جب تعمیر ہوئی ہو گی تو اس کے زیادہ کمرے ہوں گے تاہم 22 کے قریب کمرے انھوں نے خود دیکھے تھے۔ تاہم ان میں زیادہ تر کی چھتیں اب غائب ہیں۔

شیر محمد کا خاندان بوسیدہ چھتوں اور دیواروں کی جگہ نئی تعمیر کر کے اس کے بعد ان میں دوبارہ آباد ہونے کا ارادہ رکھتا تھا۔ تاہم اب وہ یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ ایسا ہو پائے گا۔

سرکار کے کاغذوں میں یہ جائیداد کسی کی ملکیت نہیں یعنی متروکہ ہے۔ اصولاً سکھوں یا ہندوؤں کی متروکہ جائیداد ایویکیو ٹرسٹ پراپرٹی بورڈ (متروکہ وقف املاک) اپنے زیرِ انتظام لے لیتا ہے۔ امکان یہ کیا جا رہا ہے کہ اس عمارت کے ساتھ بھی ایسا ہی ہو گا۔

ساری عمر ایک شاندار حویلی کے باسی رہنے والے شیر محمد کے سر پر اب چھت تک نہیں ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 14283 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp