وجاہت مسعود سے پہلی ملاقات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

\"husnain

وجاہت بھائی سے ملاقات کی ایک عجیب کہانی ہے۔ زندگی میں ایک وقت یہ آیا جب فقیر اس غرور کا شکار ہوا کہ لو بھئی، اردو میں تو سب کچھ قابل ذکر پڑھ لیا، اب کوئی اور زبان چھانی جائے یا ترجموں کا رخ کیا جائے۔ یوں تھا کہ بیس بائیس برس کی عمر تھی، ابا کے آگے بڑی بڑی باتیں کیں، انہوں نے پوچھا، یار اسد محمد خاں کی فلاں کتاب آئی ہے، وہ پڑھی ہے تم نے، کہا نہیں، تو وہ پڑھ لو، انہوں نے جواب دیا۔ کتاب کا بندوبست کر لیا گیا، اب اس کے بعد ندامت میں غرق ہونے کا سماں تھا، کتاب ختم ہوتی گئی، شرمندگی بڑھتی گئی کہ اے آدمی، کیوں تو نے اتنی بڑی بات سوچ بھی لی، اور ابھی تو اسد محمد خان کی اکثر کتابوں سے ناواقف ہے۔ خیر عمر کم تھی، اس کے نمبر دے کر معاف کیا جا سکتا ہے۔ پھر اس کمی کو پورا کرنے کی بھی کوشش کی، ڈھونڈ ڈھانڈ کر اسد صاحب کی تمام چیزیں پڑھیں اور اپنے تئیں شاد پایا۔

دوسری مرتبہ پھر کچھ غرور وغیرہ ہونے ہی والا تھا کہ آغا کے ساتھ گپ شپ شروع ہو گئی، آغا کون ہیں، نیٹ پر ڈھونڈ لیجیے، یار من آغا کے نام سے ان کا خاکہ بھی لکھا تھا۔ تو بات چیت جاری تھی کہ اچانک انہوں نے پوچھا، یار آپ وجاہت مسعود کو جانتے ہیں، عرض کیا نہیں جانتے (آج تک افسوس ہے کہ پہلے کیوں نہ جانا، اٹھائیس تیس برس ضائع گئے)، وہ کہاں ہوتے ہیں کیا کرتے ہیں؟ کہنے لگے کہ بی بی سی پر کالم لکھتے ہیں، کمال ہے، آپ کیسے نہیں جانتے، آپ اخبار وغیرہ بھی نہیں دیکھتے کیا؟ ان دنوں اخبار، ٹی وی، ہر اس چیز سے پرہیز ہوتا تھا جہاں کوئی بھی چیختی چنگھاڑتی خبر نظر آ جائے، اچھے دن تھے، کہہ دیا بھئی نہیں دیکھتے، بس ادبی تحریروں سے دل چسپی ہے تو انہیں میں لگے رہتے ہیں۔ اس پر انہوں نے مشورہ دیا کہ اور کچھ نہیں تو کوشش کیجیے کہ محاصرے کا روزنامچہ دیکھ لیا کریں، اردو والی رگ بھی سکون میں رہے گی اور باقی معاملات میں بھی مجموعی طور پر معتدل معلوم ہوتے ہیں۔ مشورہ مان لیا گیا۔ زندگی اس کے بعد بہت بدل گئی۔ فخر کیوں نہیں ہونا چاہئیے یہ بھی معلوم ہوا، غرور کیوں نقصان دہ ہے، یہ بھی سمجھ آ گیا۔

فیس بک پر آمد ہوئی تو بس ایک ہی مشن تھا کہ چن چن کر وہ تمام لوگ اپنے پاس اکٹھے کر لیے جائیں جن کو تمام عمر پڑھا ہے یا جن کی تحریر پسند ہے۔ بہت سے لوگوں کو فرینڈ ریکوئسٹ بھیجی گئی۔ کئی نے ایڈ کر لیا، بہت سوں نے نہ بھی کیا۔ اس وقت تو لوگ اتنا بھی واقف نہیں تھے جیسے اب دو چار جاننے والے کسی بھی ادبی میلے میں نظر آ جاتے ہیں۔ تو جنہوں نے نہیں کیا وہ حق پر تھے بے چارے، جو کر گئے ان میں سے ایک وجاہت بھائی بھی تھے۔ بہت خوشی ہوئی۔ لیکن خوشی کے ساتھ ساتھ احترام کا جذبہ اور کہیے کہ کچھ انجان پن کا خوف بھی تھا جو ان سے ان باکس میں بھی کبھی بات نہیں کی۔ وقت گزرتا رہا۔

ابا کا ایک خاکہ لکھا، وہ پہلی تحریر تھی، اسے عقیل عباس جعفری صاحب کو زبردستی پڑھوایا، انہوں نے کھلے دل سے پاس کر دیا اور فقیر کے پہلے استاد ٹھہرے (وہ کہتے ہیں کسی کو بتایا مت کرو، لوگ لاٹھی لے کر مجھے ڈھونڈنے لگ جاتے ہیں)۔ ان سے پاس کروانے کے بعد فیس بک پر چھاپا اور کوئی پینتالیس لوگوں کے ساتھ وجاہت بھائی کو بھی ٹیگ کر دیا۔ صبح دفتر میں وقت گزارا، اس وقت ویسے بھی انٹرنیٹ ایسی بے دردی سے ہر وقت میسر نہیں ہوتا تھا، رات کو گھر جا کر سارا کچھ دیکھ لیا جاتا اللہ اللہ خیر صلا۔ تو دن کاٹ کر جب رات آئی اور لکھنے والا گھر گیا اور اس نے کمپیوٹر کھولا تو ان باکس میں وجاہت بھائی جگمگا رہے تھے، ”مولانا، بہت عمدہ لکھا، کہاں ہوتے ہیں آپ، ملاقات کیسے ممکن ہو سکتی ہے؟“

آپ میں سے کئی لوگ ہائی ہونا نہیں جانتے ہوں گے، جو دوست واقف ہیں وہ یہ سطر نہ پڑھیں، جو نہیں جانتے انہیں خبر ہو کہ ہائی ہونا اس کیفیت کا نام ہے جب آپ کسی بھی وجہ سے (عموماً نشے کی کیفیت میں) لطف اندوز ہونا شروع ہوتے ہیں، اس کیفیت کو اردو کے حساب میں یہ کہہ لیجے کہ آپ ساتویں آسمان پر ہوتے ہیں اور دنیا کی ہر چیز آپ کو نہایت پیاری دکھ رہی ہوتی ہے۔ تو بس لکھنے والا ہائی ہو چکا تھا۔

\"wajahat\"

یا للعجب، وجاہت مسعود بقلم خود پیغام بھیج رہے ہیں، ملنا چاہتے ہیں، کہاں میں اور کہاں یہ مقام اللہ اللہ، کیا لکھا جائے، کیسے بات کی جائے، چیونٹی کے گھر بھاگوان پدھارے ہیں، واہ رے نصیب! آج ہی گھر میں بوریا نہ ہوا، اٌما میکے تھیں، اور کچھ یہ خیال بھی کہ اتنے بڑے آدمی کو پہلی بار میں ہی گھر کیسے بلایا جائے (یہ الگ بات کہ آج تک مرشد غریب خانے پر نہیں آئے)، لکھ دیا کہ سر آپ کیوں زحمت کریں گے، توبہ کیجیے، بندہ خود حاضر ہو گا، کہاں ہو، کب ہو؟
ایک مبارک گھڑی طے ہوئی اور حسنین جمال دھڑکتے دل کے ساتھ ماڈل ٹاؤن پہنچ گئے۔

وجاہت بھائی اس وقت یونیورسٹی گئے ہوئے تھے۔ ان کا سٹڈی روم کھول کر مہمان کو بٹھا دیا گیا۔ اتنی کتابیں! کبھی ایک الماری پر نظر جائے، کبھی دوسری پر، کبھی تیسری پر، اور پھر آوارہ بھٹکتی ہی جائے، سوائے میز کرسی اور صوفوں کے، ہر جگہ کتابیں سجی ہوئیں، نئی سے نئی اور پرانی سے پرانی کتاب، خیر صبر کر کے مہمان اپنی جگہ پر بیٹھا رہا۔
کمرے پر اندھیرا غالب تھا، جتنی بھی روشنی تھی، بہرحال کچھ کم لگتی تھی لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ اس کی کسر پوری کی جا سکتی ہے باقی کے لیمپ وغیرہ روشن کر کے، نیم روشنی میں بیٹھے بیٹھے جب پندرہ بیس منٹ گزرے تو ہلکا سا دروازہ کھلا اور لو اینڈ بی ہولڈ! سامنے وجاہت صاحب مسعود کھڑے ہیں۔

سلام دعا کے بعد وہ اپنی کرسی کی طرف گئے اور مہمان صوفے پر بغیر ٹیک لگائے آگے سا ہو کر بیٹھ گیا۔ علم کا رعب تھا بھئی، مرشدوں کے آگے تمیز سے رہنا ہے، بزرگوں کا سکھایا بھی یاد آتا تھا تو مہمان بے چارہ بہت سارے پریشر میں بس کمر سیدھی کیے بیٹھا تھا۔ بھائی نے دو تین بار کہا کہ یار آپ ایزی ہو جائیں لیکن اس نے نہ سننا تھا نہ سنا۔ اپنی جگہ پر جوتے وغیرہ تبدیل کر کے بھائی صوفے پر آ کر بیٹھ گئے۔ وہ سامنے بھی ہیں، روبرو بھی ہیں، ان کو دیکھوں کہ ان سے بات کروں۔ معاملہ عشق عاشقی کا نہیں تھا مگر جاننے والے جانتے ہیں کہ شعر ادھر بھی پورا بیٹھتا ہے۔ بات چیت شروع ہوئی، یاد نہیں اب کس کس موضوع پر کیا کیا بات ہوئی، لیکن ایسی خوب ملاقات رہی کہ اس دن کے بعد سے آج تک دس بارہ دن سے زیادہ کا ناغہ نہیں ہوتا، کسی نہ کسی بہانے حاضری کی کوشش رہتی ہے۔ یہ سب کچھ بس ایک یاد تھی جو لکھ دی۔ وجاہت بھائی باقاعدہ طور پر ایسے ہیں کہ ان کا دلچسپ خاکہ لکھا جا سکتا ہے، بس رواں ہونے کی دیر ہے۔ طبیعت جب حاضر ہوئی، بہت جلد پیش خدمت ہو گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

حسنین جمال

حسنین جمال کسی شعبے کی مہارت کا دعویٰ نہیں رکھتے۔ بس ویسے ہی لکھتے رہتے ہیں۔ ان سے رابطے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں۔ آپ جب چاہے رابطہ کیجیے۔

husnain has 481 posts and counting.See all posts by husnain

2 thoughts on “وجاہت مسعود سے پہلی ملاقات

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *