ہمارے تصور انصاف سے عبرت خارج کرنے کی ضرورت ہے


بچپن میں جو کہانیاں سنا کرتے تھے ان میں ایک عادل بادشاہ کا بہت ذکر ہوتا تھا۔ اس بادشاہ کو عادل اس لیےکہا جاتا تھا کہ اس کے دور میں جرائم نہ ہونے کے برابر تھے اور اس کی رعایا بہت امن چین سے زندگی بسر کرتی تھی۔ جرائم نہ ہونے کا سبب یہ تھا کہ وہ بادشاہ مجرموں کو بہت بھیانک سزا دیتا تھا۔ اس کی پسندیدہ سزا یہ تھی کہ مجرم کو نصف دھڑ تک زمین میں گاڑ دیا جاتا تھا۔ باقی دھڑ پر دہی چھڑک اس پر بھوکے کتے چھوڑ دیے جاتے تھے جو اس مجرم کو نوچ کھاتے تھے۔ مجرم کا یہ انجام دیکھ کر رعایا عبرت پکڑتی تھی اور کسی کو جرم کا ارتکاب کرنے کا حوصلہ نہ ہوتا تھا۔

بچپن کے بعد اب عمر کا آخری دور ہے لیکن دیکھتا ہوں کہ ابھی تک ہمارے پڑھے لکھے لوگوں کا انداز نظر کچھ ایسا ہی ہے۔ آج ہی فیس بک پر ایک پوسٹ نظر سے گزری ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ ایک نیک دل اور پارسا میجر جنرل نے لوگوں سے لوٹی ہوئی دولت نکلوانے کا فارمولا پرویز مشرف کو بتایا تھا ۔ فارمولا یہ تھا کہ جس کے متعلق یقین ہو جائے کہ اس نے دولت لوٹی ہے، اس کو پکڑ لیا جائے اور ہر جمعہ کو اس کی ایک انگلی کاٹی جائے۔ لیکن وہ اس پر آمادہ نہ ہوا جس کے نتیجے میں لوٹی ہوئی دولت بدستور لاپتہ ہے۔ اچھے بھلے پڑھے لکھے دوستوں کو یہی کہتے سنتا ہوں کہ فلاں کو پکڑ کر تھانے میں اس کی چھترول کی جائے تو وہ سب کچھ مان جائے گا۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا جرائم میں کمی لانے کا یہ طریقہ موثر ہے؟ کیا بھیانک سزا یا سزائے موت سے کم تر کوئی اور سزا جرائم کی شرح کو کم کرنے میں مددگار نہیں ہو سکتی؟

اگر تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ طریقہ جرائم کے استیصال میں کبھی مددگار نہیں ہوا۔ ایک زمانہ تھا جب انگلستان میں جیب کتروں کو موت کی سزا دی جاتی تھی اور انھیں سر عام پھانسی پر لٹکایا جاتا ہے اور لوگوں کا جم غفیر اس کا نظارہ کرتا تھا۔ عبرت ناک بات یہ ہے کہ جیب کترنے کی سب سے زیادہ وارداتیں اسی مجمع میں ہوتی تھیں۔

جرم کے ارتکاب سے جو چیز باز رکھتی ہے وہ ہے قانون کا موثر اور بے لاگ اطلاق۔ ہم ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کا معاملہ لے لیتے ہیں۔ فرض کیجیے ٹریفک سگنل کی خلاف ورزی پر 500 روپیہ جرمانہ ہے۔ اگر خلاف ورزی کرنے والے کو یہ پتہ ہو کہ اسے جرمانہ نہیں دینا ہو گا، یا وہ ٹریفک وارڈن کو سو روپیہ دے کر بچ سکتا ہے تو ٹریفک سگنل کی خلاف ورزی جاری رہے گی۔ لیکن اگر اس کو قانون کے موثر ہونے پر یقین ہو، یعنی اسے پتہ ہو کہ اسے خلاف ورزی پر لازماً 500 روپے جرمانہ ادا کرنا ہو گا تو وہ خلاف ورزی نہیں کرے گا۔

اسی طرح جرائم کی تعداد اور عدالت سے ملنے والی سزا میں بھی ایک نسبت ہے۔ اگر سزا ملنے کا تناسب زیادہ ہو گا تو اسی نسبت سے جرائم کے ارتکاب میں کمی آتی جائے گی۔ یعنی اگر 100 لوگ سگنل کی خلاف ورزی کرتے ہیں لیکن ان میں سزا صرف پانچ فی صد لوگوں کو ہوتی ہے تو شاید خلاف ورزی کے واقعات میں کوئی خاص کمی نہ آئے۔ اس کے برعکس اگر جرمانہ ادا کرنے والوں کی تعداد 30 فیصد ہو جائے تو سگنل کی خلاف ورزی میں پچاس فیصد سے زاید کمی ہو جائے گی۔ اسی نسبت سے اگر سزا پانے والوں کی تعداد بڑھتی رہے تو سگنل خلاف ورزی کے واقعات اکا دکا رہ جائیں گے۔

اس کا ایک ثبوت موٹر وے پولیس کی کارکردگی ہے۔ جب موٹروے پولیس بلا لحاظ ٹریفک رولز کی خلاف ورزی پر جرمانہ عاید کرتی ہے تو موٹر وے پر ٹریفک بہت بہتر انداز میں چلتی ہے۔ یہی معاملہ سیٹ بیلٹ باندھنے کا ہے۔ لاہور میں جرمانوں کی وجہ سے اب اکثر کار چلانے والے سیٹ بیلٹ باندھتے ہیں۔

اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ نظام انصاف کا موثر ہونا جرائم میں کمی میں مددگار ہوتا ہے۔ اگر دلاور فگار کے اس مصرع

لے کے رشوت پھنس گیا ہے، دے کے رشوت چھوٹ جا

میں بیان ہونے والی صورتحال برقرار رہتی ہے تو انسداد رشوت ستانی کے لیے جتنے بھی سخت قوانین بنا لیں، ان سے رشوت ستانی کا خاتمہ نہیں ہو گا بلکہ رشوت کا ریٹ بڑھ جائے گا۔ ہمیں یقین دلایا جاتا تھا کہ ملک میں اگر اسلامی قوانین نافذ ہو جائیں تو جرایم کا خاتمہ ہو جائے گا۔ لیکن اسلامی قوانین نافذ کرنے کا بس یہ نتیجہ برآمد ہوا ہے کہ پولیس اورعدالتوں کے نرخ میں اضافہ ہوا ہے۔

جرائم میں کمی کا ایک اور اہم سبب ہے عوام کا عدلیہ اور پولیس پر اعتماد۔ جب یہ یقین عام ہو جائے کہ وہ اپنے فرائض بلا رو رعایت، قانون اور انصاف کے تقاضوں کے مطابق ادا کر رہے ہیں تو جرائم کی شرح میں کمی آ جائے گی۔ اگر ایسا نہیں ہو گا تو اکا دکا واقعات میں سزا بھی کوئی موثر نتیجہ پیدا کرنے میں ناکام رہے گی۔ اس کے لیے ہم زینب بچی کے کیس کو مثال بنا سکتے ہیں۔ اس جرم کا مجرم گرفتار ہوا، بہت تیز رفتاری سے اس کے مقدمے کی سماعت ہوئی، سزا کے بعد اپیلوں کا فیصلہ بھی غیر معمولی سرعت سے ہوا۔ اس کے بعد مجرم کو تختہ دار پر بھی لٹکا دیا گیا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا اس کے بعد بچوں سے زیادتی کے واقعات میں کمی ہوئی یا نہیں۔ ظاہر ہے اس کا جواب نفی میں ہے۔ سبب اس کا وہی ہے کہ اس کیس کو مثال بنانے کے باوجود دونوں ادارے عوام میں اپنا اعتماد بحال کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے۔

آخر پر استاد محترم پروفیسر مرزا منور صاحب کی بات بیان کرنا چاہتا ہوں۔ وہ فرمایا کرتے تھے کہ عبرت پکڑنے کے لیے پہلے انسان ہونا ضروری ہے۔ جانوروں کے ریوڑ سے آپ ایک جانور کو پکڑ کر اس کے گلے پر چھری چلا دیں۔ باقی جانور اسی طرح چارہ کھاتے، جگالی کرتے اور ایک دوسرے کو سینگ مارتے رہیں گے۔ کسی پر اس واقعہ کا کوئی اثر نہیں ہو گا۔

میں انسانوں میں کسی قسم کی طبعی یا جبلی تفریق کرنے کا قائل نہیں۔ انسان نہ نیک پیدا ہوتا نہ بد۔ وہ بس انسان پیدا ہوتا ہے لیکن اسے انسانی معاشرے میں رہنے کے آداب، اس کا طور طریقہ اور سلیقہ سکھانا پڑتا ہے۔ جدید دنیا کے مہذب اور متمدن معاشروں کا اگر مطالعہ کیا جائے اور جانا جائے کہ انھوں نے کس طرح جرائم پر قابو پایا اور ان میں کیسے خاطر خواہ کمی کی ہے تو عبرت پکڑنے والے نظریے میں کوئی جان باقی نہیں رہتی۔

Facebook Comments HS