جسٹس قاضی فائز عیسیٰ: عدالتی خودمختاری کی آخری امید


سپریم جوڈیشل کونسل اگر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف بھی منفی حکم صادر کرتی ہے تو وہ فیض آباد دھرنا کیس کی سماعت کرنے والے اعلیٰ عدلیہ کے دوسرے جج ہوں گے جنہیں عجلت میں کارروائی کرتے ہوئے ان کے عہدے سے علیحدہ کیا جائے گا۔ تاہم شوکت صدیقی کو یہ استثنیٰ حاصل ہے کہ انہوں نے کسی فیصلہ کی بجائے ایک تقریر میں آئی ایس آئی پر الزام تراشی کی تھی۔ ان کے برعکس جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے فروری 2019 میں لکھے گئے فیصلہ میں اس دھرنا کے حوالے سے فوج کے کردار کی نشاندہی کی ہے۔ تحریک انصاف بھی اس فیصلہ سے نالاں ہے اور اس پر اپنی ناراضگی کا اظہار کر چکی ہے۔ کیوں کہ فیض آباد دھرنا کیس کے فیصلہ میں اس دھرنے کا موازنہ 2014 میں تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے دھرنے سے کیا گیا تھا جو کئی ماہ تک چلا تھا۔ تحریک انصاف نے ان ریمارکس پر اعتراض کرتے ہوئے نظر ثانی کی اپیل بھی دائر کی ہوئی ہے جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ’فیصلہ نقائص سے پر ہے۔ نا انصافی سے درگزر کے لئے اس پر نظر ثانی ہونی چاہیے‘ ۔

آئی ایس آئی نے بھی وزارت دفاع کے ذریعے فیض آباد دھرنا کیس میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے فیصلہ کے خلاف نظر ثانی کی اپیل دائر کررکھی ہے۔ یہ اپیل اٹارنی جنرل انور منصور خان اور ایڈووکیٹ نواز چوہدری کی طرف سے دائر کی گئی ہے۔ سپریم کورٹ میں دائر کی جانے والی درخواستوں میں ان دونوں نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ’بعض فوجی افسروں کے بارے میں فیصلہ کے بعض الفاظ مثلاً‘ شہریوں کے انسانی حقوق کی خلاف ورزی، ایک خاص پارٹی کی حمایت اور انتہاپسندوں میں نقد رقم تقسیم کرنے کا اقدام ’، فوجیوں کے حوصلہ پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ فیصلہ میں مسلح افواج کے بارے میں منفی رائے دی گئی ہے‘ ۔

تحریک انصاف اور آئی ایس آئی کی نظر ثانی کی درخواستوں پر ابھی سماعت نہیں ہوئی۔ تاہم یہ فیصلہ لکھنے والے جج کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کردیا گیا ہے جس کی فوری سماعت کا فیصلہ بھی کرلیا گیا۔ اصولی طور سپریم کورٹ کا وہی بنچ کسی مقدمہ میں نظر ثانی کی درخواستوں کی سماعت کرتا ہے جس نے مقدمہ سننے کے بعد فیصلہ کیا ہو۔ البتہ سپریم جوڈیشل کونسل پھرتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو فوری طور سے ’ان کےکیے ‘ کی سزا دینے کا فیصلہ کرلیتی ہے تو نظر ثانی کی درخوستوں کے لئے نیا بنچ بنایا جائے گا جو شاید ’انصاف کے ان تقاضوں‘ کو پورا کرسکے جن کا مطالبہ حکمران جماعت اور آئی ایس آئی کر رہے ہیں۔

سپریم جوڈیشل کونسل اعلیٰ عدالتوں کے ججوں کا احتساب کرنے والا واحد ادارہ ہے تاہم اس کی کارروائی اور طریقہ کار میں شفافیت کا فقدان ہے۔ یہ بات معلو م نہیں ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل کے پاس اس وقت کتنے ججوں کے خلاف معاملات زیر سماعت ہیں اور کتنے معاملات میں سماعت مکمل کرنے کے بعد فیصلے محفوظ کرلئے گئے ہیں۔ اس کے برعکس جسٹس شوکت صدیقی کے معاملہ پر فوری کارروائی کرتے ہوئے دو ماہ میں ہی فیصلہ صادر کردیا گیا تھا۔ اور اب جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس کریم آغا کے خلاف ریفرنس دائر ہونے کے دو روز بعد ہی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

ملک میں اعلیٰ عدلیہ کا احتساب کرنے والے ادارے کی یہ حکمت عملی متعدد سوالات کو جنم دیتی ہے۔ سپریم کورٹ بار کونسل اور بار ایسوسی ایشن کے علاوہ نامور وکیلوں کی طرف سے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ جیسے نیک نام جج کے خلاف ریفرنس پر سخت رد عمل ظاہر کیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ بار کونسل کے امان اللہ کنرانی نے اسلام آباد میں ایک نیوز کانفرنس میں کہا ہے کہ ’کسی ادارے اور حکومت کو جج کی عزت سے کھیلنے نہیں دیں گے۔ کسی کے خلاف کوئی شکایت ہے تو آئین اور قانون کے مطابق چلا جائے‘ ۔

جسٹس قاضی فائز عیسی کے خلاف ریفرنس سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ ملک کی سیاست اور صحافت پر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد اسٹبلشمنٹ اب اعلیٰ عدلیہ کو بھی مکمل طور سے اپنے زیر نگیں کرنا چاہتی ہے۔ بد قسمتی سے منتخب حکومت اس عمل میں درپردہ قوتوں کا آلہ کار بنی ہوئی ہے۔ سپریم کورٹ کے ایک خود مختار اور قابل احترام جج کے خلاف کوئی بھی منفی فیصلہ ملک میں عدلیہ کی آزادی پر کاری ضرب ہوگا۔

بدنام سیاست، ناقابل اعتبار اور سیلف سنسر شپ کے ستائے ہوئے میڈیا کے بعد اگر اعلیٰ عدالتوں کے ججوں کو کنٹرول کرنے کا ہتھکنڈا کامیاب ہو گیا تو ملک میں بنیادی حقوق کی حفاظت کی آخری امید بھی ختم ہوجائے گی۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 3148 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali