غریب ملازماؤں پر ظلم و تشدد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گھر میں صفائی کے دوران اپنی اماں جان سے جو جملے اور ڈانٹ ہمیں اکثر سننے کو ملا کرتی تھی وہ کچھ اس طرح ہوتی تھی۔ ”بستر کے نیچے جوتوں سینڈلوں کا ڈھیر ہے، جوتوں کی الماری کس لیے ہے؟ کیا سلیمہ تمہاری نوکر ہے جو ایک ایک جوتا اٹھا کر صفائی کرے گی؟ “

چھٹی والے دن صبح صبح جب باجی سلیمہ پنکھا بند کر کے سپڑ سپڑ کمرے میں جھاڑو شروع کر دیتیں تو ہم جھنجلا کر کہتے باجی سلیمہ آپ تھوڑا دیر سے نہیں آ سکتیں؟ اور سلیمہ سے پہلے اماں کی گرج دار آواز آتی کہ کیوں کیا وہ تمہاری نوکر ہے؟ اس کو کوئی اور جگہ کام نہیں؟ کبھی کبھی تو دل کرتا کہ کہہ دیں نوکر نہیں تو پھر کیا ہے؟ مگر نہیں صاحب ہمیں پیار نہیں واقعی اماں کے تھپڑ سے ڈر لگتا تھا۔

پھر اماں کی چھوٹی چھوٹی ہدایتیں۔ ”سلیمہ فرش ٹھنڈا ہے چپل پہن کر پوچھا لگاؤ“ یا ”سلیمہ کپڑے گرم پانی سے دھونا ورنہ ٹھنڈ لگ جائے گی۔ “

” عظمی جاؤ، بھائی کے ساتھ جا کر سلیمہ کو اسٹاپ تک گاڑی میں چھوڑ کر آؤ دھوپ بہت ہے۔ “
”آج گھر پر ہو تو سلیمہ کا ناشتہ تم بناؤ تا کہ وہ کام شروع کرے“۔

سلیمہ باجی کے آنے پر ہم کبھی بھابی سے مذاقاً کہتے، لیں اماں کی اصل لاڈلی بیٹی آ گئیں۔
یہ سب لکھنے سے نہ اپنی اماں کی بڑائی مقصود ہے نہ یہ بتانا کہ ہم میں کس قدر صلہ رحمی پایا جاتا ہے۔

کام کوئی چھوٹا بڑا نہیں ہوتا اگر وہ محنت کر رہی ہیں تو ان کی عزت، ان کا خیال اور احترام بحیثیت انسان ان کا حق ہے۔ یقیناً آج بھی کئی گھرانوں کا یہ ہی دستور ہو گا۔

مگر دوسری طرف کیوں ہمارے معاشرے میں فرعونیت بڑھتی جا رہی ہے؟ کیوں انسانیت کی تذلیل، بے حسی، بے رحمی سفاکی ہماری رگوں میں سرائیت کرتی جا رہی ہے؟ کیوں صرف دولت مند اشرف المخلوقات کے درجے پر فائض ہیں اور کیوں غریب کی کوئی عزت کوئی توقیر نہیں؟ عزت تو دور کی بات ایسا لگتا ہے کہ وہ انسان ہی نہیں شاید روبوٹ ہیں کہ ذرا خرابی آئی تو ہتھوڑا چھینی لے کر مار مار اس کے نٹ بولٹ ٹائٹ کر دیے۔ اور بے کار ہو گیا تو اسے بھٹی میں پگھلا دیا۔ انسان تھوڑا ہی ہے جو اسے درد ہو گا!

ہر دوسرے دن اخباروں میں معصوم بچیوں کی تصویریں چھپتی ہیں جنہیں ان کے ماں باپ غربت کے ہاتھوں مجبور ہو کر امیر گھروں میں ملازمت کے لیے بھیج دیتے ہیں اور جہاں ان کے ساتھ بہیمانہ سلوک ہوتا ہے۔ یہ کیسے امیر ہیں؟ یہ کیسی ان کے والدین کی تربیت ہے؟ یہ کیسا پیسہ کا خمار اور طاقت اور ملکیت کا نشہ ہے؟ معصوموں پر ہاتھ اٹھاتے، انہیں کاٹتے جلاتے ان کے ہاتھ نہیں کانپتے؟ یہ کون سا وحشی جانور ان کے اندر بستا ہے جس کی تسکین تشدد سے ہوتی ہے؟ یہ کیسا معاشرہ ہے جہاں داڑھیوں، برقعوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے اور جنسی اور جسمانی تشدد کے واقعات بھی؟ نہ انہیں کسی خدا کا خوف ہے اور نہ کسی قانون کا؟

نوشہرہ میں بارہ سال کی بچی کو کپڑے جلانے پر سزا کے طور پر مالکن نے استری سے جلا دیا! کیا اس عورت کی اپنی اولاد نہیں؟ اس کے ہاتھ کیسے نہ لرزے؟ جلتے وقت بچی کی چیخوں سے اس کا دل کیسے نہ پھٹ گیا؟ کیوں نہ اس کے اپنے جسم پر، اس کے بچے کے جسم پر گرم استری رکھ کر اسے احساس دلایا جائے کہ درد اور تکلیف ہوتی کیا ہے!

چک سیداں ملکوال میں پیر عزیز شاہ کے ڈیرے پر کام کرنے والی لڑکی کو نہ صرف جنسی اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا بلکہ تیزاب سے اس کے چہرے کو جلا دیا گیا۔

اتنا ظلم؟ زمین کیوں نہ پھٹ گئی؟ زلزلہ کیوں نہ آگیا۔ اس ظالم کے ہاتھ کیوں نہ کٹ گئے؟ وہ معصوم لڑکی جس کا تصور آنے پر بھی بند آنکھیں خوف سے کھل جاتی ہیں جس کا غریب باپ نہ تو انصاف لے سکتا ہے نہ ہی بیٹی کا علاج کروا سکتا ہے۔ کیا اس لڑکی کی کوئی عزت نفس نہیں؟ کیا ساری زندگی وہ ایک نارمل زندگی گزار سکتی ہے؟ کیا کبھی آئینے میں وہ اپنا چہرہ دیکھ سکتی ہے؟

اس جیسے کتنے ہی انگنت بہیمانہ جنسی اور جسمانی تشدد کے واقعات ہر دوسرے دن اخباروں اور سوشل میڈیا کی زینت بنتے رہتے ہیں۔ وقتی ہا ہا کار بھی مچتی ہے۔ کالم لکھے جاتے ہیں۔ قانونی شقیں بھی موجود ہیں۔ مگر کتنے غریبوں کو انصاف ملتا ہے؟ کتنے مجرموں کو سزا ملتی ہے؟ کتنے اپنے پیسے، اپنے عہدے اور اپنے اثرورسوخ کی بدولت بچ نکلتے ہیں؟

کیوں نہیں ہم بچپن سے اپنے بچوں کو سب سے پہلے انسانیت کا سبق سکھاتے۔ ان کے ہاتھ میں فون، آئی پیڈ پکڑانے کے ساتھ انہیں دوسروں کی عزت، احترام اور رحم دلی کی تعلیم کیوں نہیں دیتے۔ کیوں نہیں مجرموں کو بروقت سزائیں دے کر دوسروں کے لیے نشانۂ عبرت بنا دیا جاتا؟ انصاف کا معیار امیر اور غریب کے لیے الگ کیوں؟ یہ کیسا گلا سڑا معاشرہ ہے جس کے انصاف کے نظام کا یہ عالم ہے کہ کم سن ملازمہ کو تشدد کر کے قتل کر دینے کے بعد لاش گٹر میں بہا دینے والی خواتین کو دیت کی معمولی رقم ادا کر دینے کے بعد رہا کر دیا جاتا ہے!

برسوں پہلے ایک کہانی پڑھی تھی،

کہتے ہیں خوبصورت طوطوں کا ایک جوڑا کھلی ہوا سے لطف اندوز ہوتا، ہوا کے رخ جا رہا تھا کہ طوطی کی نظر ایک آبادی پر پڑی جو عذاب میں گرفتار تھی اور جہاں لوگ خشک سالی اور قحط سے تباہ و برباد ہو رہے تھے۔ طوطی نے اپنے ساتھی کی توجہ اس آبادی کی جانب کروائی۔ طوطے کو آبادی کے کنارے ایک خشک درخت پر ایک بڑا الو بیٹھا دکھائی دیا۔ ہنس نے کہا کہ دیکھو یہ اس الو کی نحوست ہے کہ آبادی تباہ و برباد ہو رہی ہے۔

اتفاق ہے کہ الو نے یہ گفتگو سن لی، اس نے طوطوں کے جوڑے سے کہا کہ کیا ہی اچھا ہو کہ کوئی نتیجہ اخذ کرنے سے پہلے وہ اتر کر اس کی بات بھی سن لیں۔

طوطی نے کہا کہ اس الو کی بات سن لینے میں کیا ہرج ہے مگر جیسے ہی طوطوں کا جوڑا الو کے سامنے والی شاخ پر بیٹھا الو نے طوطی کو دبوچ لیا اور ہنس سے کہنے لگا کہ تم یہاں بیٹھے کیا کر رہے ہو؟ یہ تو میری مادہ الو ہے۔ طوطے نے کہا کہ خدا کا خوف کرو، کیا تم اندھے ہو؟ تمہاری اور اس کی نسل کا فرق تمہیں نظر نہیں آتا؟ الو نے کہا اس کا فیصلہ تو پنچایت ہی کرے گی۔

پنچایت نے بڑے غور سے مقدمہ سنا اور علیحدہ ایک شاخ پر فیصلہ کرنے اکٹھے ہوئے۔ ایک پنچ نے کہا، ظاہر ہے الو زیادتی کر رہا ہے۔ الو نے جسے پکڑا ہوا ہے وہ طوطے ہی کی مادہ ہے اس پر سب نے کہا کہ اس میں کیا شک ہے، لیکن فیصلہ کیا کرنا ہے؟

اس پنچ نے پھر کہا جو بھی کچھ ہے یہ الو تو ہماری اپنی آبادی کا ہے، ہمارے کام آئے گا اس لیے فیصلہ تو اس کے حق میں ہونا چاہیے۔ ساری پنچایت نے ہاں میں ہاں ملائی اور یہ ہی فیصلہ دیا کہ ہنس کا مقدمہ خارج کیا جاتا ہے اور الو نے ہی اپنی مادہ کو طوطے سے نجات دلائی ہے۔

اب الو نے طوطے کی جانب دیکھا اور کہا تمہیں یہ تو معلوم ہو گیا ہو گا کہ عذاب میری نحوست کی وجہ سے نہیں آیا ہے۔ اور تم نے اپنی آنکھوں سے عذاب آنے کی وجہ دیکھ لی۔ اب اپنی مادہ کو لو اور یہاں سے غائب ہو جاؤ۔
خدا میرے ملک کو عذاب سے بچائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •