انضمام الحق کی ڈبل سنچری اور گالی


دیکھیے مسئلہ گالی میں ضرور ہے لیکن اصلی، وڈا اور باتصویر مسئلہ تو گالی دینے کے بعد شروع ہوتا ہے۔ اب دیکھیے گالی بعض اوقات ایک انتہائی ضرورت کے طور پر سامنے آجاتی ہے۔ راقم کو ایک حسرت ناک صبح یاد آتی ہے، بلکہ اس سے پہلے ایک سہانی شام یاد آتی ہے۔ کیلنڈر پر مارچ کی تاریخ چڑھی تھی اور سنہ 2005 تھا۔ پاکستان کی کرکٹ ٹیم انڈیا میں تھی اور ایک صفر سے نیچے لگی ہوئی تھی۔ تیسرا ٹسٹ بنگلور میں شروع ہوا۔ انضمام الحق کا وہ سواں ٹسٹ میچ تھا۔

میچ کے پہلے دن انضمام نے انڈیا کے باولروں کے ساتھ وہ کیا جو تحریکِ لبیک نے پچھلے سے پچھلے سال ہماری حکومت کے ساتھ کیا تھا یعنی مارا بھی اور گھسیٹا بھی۔ جب شام ہوئی تو ہمارے حالیہ چیف سلیکٹر مبلغ 184 رنز پر ناٹ آوٹ تھے اور انڈیا کے کمنٹیٹر یہ کہہ رہے تھے کہ اگلے چودہ سولہ گھنٹے میں اگر قیامت نہ آئی تو کل یہ آدمی ہمارے ساتھ وہ کرے گا جو بخت نصر نے یروشلم کے ساتھ کیا تھا۔ اعداد و شمار کے رسیا بڑھ بڑھ کر تانیں لگا رہے تھے کہ جناب آج تک کسی بلے باز نے اپنے سویں ٹسٹ میں ڈبل سنچری نہیں بنائی۔ کل ایک نیا عالمی ریکارڈ بننے جارہا ہے۔ فلاں و ڈھمکاں و دیگراں وغیرہ۔

خادم ایک جگہ ملازمت کرتا تھا اور اپنی نحوست سے نہایت بخوبی آگاہ تھا۔ اب اس نحوست بارے کیا بیان ہو، اس نحوست کا احوال یہ ہے کہ کھیلوں کے دیوانے جانتے ہیں کہ اگر آپ کا پسندیدہ کھلاڑی کسی ریکارڈ کے نزدیک ہو تو آپ کے ٹکٹکی لگانے سے یا کمنٹری سننے سے اس کو نظر لگ جاتی ہے (ضرور ہنسیے لیکن مذاق نہیں، ہند و سندھ ہی کیا، ریاست ہائے متحدہ امریکہ تک میں کھیلوں کے دیوانوں کے احوال درج ہیں جنہوں نے میدان میں موجود ہونے کے باوجود سارا وقت آنکھیں بند رکھیں کہ کہیں ان کے پسندیدہ کھلاڑی کو ان کی نظر نہ لگ جائے۔ صاحب، کھیلوں کی دیوانگی معمولی سطح کی بکواس نہیں ہے۔

جو بت کدے میں بیاں کروں تو صنم بھی بولے ہری ہری۔

دل میں عزیمت باندھی کہ جناب کل صبح تو کرکٹ کے دوالے نہیں پھٹکنا۔ خیر خیریت سے ڈبل سنچری بن جائے تو پھر جھلکیاں وغیرہ دیکھ لیں گے اور جی شاد کر لیں گے۔

اس کارِ محبت میں کیا ہم سے کیا جائے۔

امید گزیدہ ہی، لازم ہے جیا جائے۔

خیر۔ اگلے دن صبح (وہی حسرت ناک والی جس کا ذکر شروع میں ہوا ہے ) کمپنی کی وین میں بیٹھے آفس کی طرف رواں تھے۔ میچ کے اوقات تو دل پر نقش تھے ٰ (المیہ دیکھیے کہ جو زمانہ عظیم محبتیں پالنے کا ہوتا ہے یعنی جس عمر میں پچھلی صدیوں کے لڑکے بالے مزدوروں کے حقوق کے لیے جانیں دیتے تھے اور اوقاتِ کار کی بے رحمی کے خلاف خون بہا رہے ہوتے تھے، ہماری نسل کے نوجوانوں کی وہ عمر کرکٹ میچوں کے سکور یاد کرنے میں کٹ جاتی ہے۔ کیا مزاحیہ حد تک افسوسناک قحط الرجال ہے واللہ) سوچا جب تک آفس کے ابتدائی معاملات سے نبٹیں گے میچ کو شروع ہوئے گھنٹا بھر ہوگیا ہوگا، سولہ رنز ایک گھنٹے میں آرام سے بن جائیں گے۔ سو گھنٹے بھر کے بعد ہی کرک انفو کھولیں گے اور آنکھوں کو ثمر بار کرلیں گے۔

یہی سوچ رہے تھے کہ اچانک وین میں ایک آواز ابھری جو اپنے بھاؤ تاؤ سے کسی کرکٹ کمنٹیٹر کی لگی، بے یقینی سے سر گھمایا تو اگلی سیٹ پر ایک مارِ آستیں، ایک ناوکِ بے سمت، ایک نطفہِ بے فیض اپنے کان کے ساتھ ریڈیو لگا کر اونچی آواز کے ساتھ میچ کی کمنٹری سنتا پایا گیا۔ پہلے اپنے کانوں، پھر اپنی قسمت اور پھر موجوہ صورتحال پر باری باری بالکل یقین نہ آیا۔ یعنی ہم جیسے لوگوں کے معاملے میں نحوست سٹنگر میزائل بن جاتی ہے جو آپ کی دم کا پیچھا کرتا ہے۔

حد ہے یار۔ خیر، اس کے بعد جو ہوا وہ تاریخ ہے۔ پہلا گیند، جی بالکل، پہلا گیند جو کہ باولر نے پھینکا وہ الحق صاب کی بڑی بڑی ٹانگوں سے تقدیر کا فیصلہ بن کر ٹکرایا اور ایمپائر نے انگلی ایسے کھڑی کی جیسے غریب کی کھٹیا کھڑی ہوجاتی ہے۔ انتہائی شدید مایوسی، غم اورغصے میں راقم نے وین کے شیشے سے کہکشاوں کی طرف نگاہِ غلط بلند کی اور زیرِ لب ایک ایسی گالی دی جس کے مشمولات، مفعولات، مسائل اور تراکیب آج بھی راقم کو اپنی زبان پر عبور اور جنسی معاملات کی ادق فہمی پرحیران و پریشان کر دیتے ہیں۔

گالی کیا تھی صاحب، عوامل کے ظہورِ ترتیب، راقم کی اپنی قسمت کے مذاقیہ حد تک بیہودہ ہونے اور قدرت کی حسِ مزاح کی سنگینی و رنگینی کے خلاف ایک فحش احتجاج تھا۔ وہ لمحہ آج بھی راقم کے تحت الشعور میں ایسے زندہ ہے جیسے لوگوں کو دیا گیا ادھار اور جب بھی کبھی تحت الشعور سے شعور کی منزل طے کرتا ہے تو بقول شاعر

گو زخم پرانا ہے پر ٹیس نئی ہے۔

خیر، اتنی رام کہانی بلکہ انضمام کہانی سنانے کا مقصد یہ تھا کہ کمزور لمحے تو ہر شحص کے رستے میں گھات لگائے کھڑے ہیں۔ کسی نہ کسی موڑ پر خدا کے بندے کسی گھات میں ہاتھ پیر پھنسا ہی بیٹھتے ہیں۔ تاہم راقم نے ایک کام بالکل نہیں کیا اور وہ یہ کہ جب کسی نے اس واقعے بلکہ وقوعے کو سن کر گالی دینے کے عمل کو برا کہا تو اس کے جواب میں راقم نے اپنی بشری کمزوری اور غلطی کا اعتراف تو کیا لیکن خدا گواہ ہے کہ کبھی اپنی گالی کو قران، حدیث اور صحابہ کے عمل کا سہارا لے کر درست ثابت کرنے کی کوشش نہیں کی۔ جب کسی نے اعتراض کیا تو غلطی مانی، آگے سے سورۃ قلم کی آیت نہیں پڑھی۔ بس یہی ایک عمل ہے جس پر فخر ہے۔

یہ ایک داغِ محبت کہاں چھپا رکھوں

تمام عمر کا حاصل ہے کیا کِیا جائے

Facebook Comments HS