شعبہ تعلیم اور اساتذہ کی ٹر یننگ
پیشہ ورانہ تربیت کسی بھی شعبہ کو نا صرف بدلتے ہوئے تقاضوں س ہم آہنگ کروا تی ہے بلکہ اس شعبے کی بقا کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی مانند ہے۔ پیشہ وارانہ مہارت ہی شعبوں کے دائمی نتائج کی ضامن ہے۔ بلا شبہ تمام شعبہ ہائے زندگی میں تعلیم کو نمایاں حیثیت حاصل ہے۔ یوں تو محکمہ تعلیم میں پیشہ وارانہ تربیت کا عمل کافی عرصے سے مختلف اشکال میں رائج رہا ہے۔ مگر 2006 سے پیشہ وارانہ تر بیت کو اسا تذہ کے لئے لازمی جزو بنا دیا گیا ہے۔
اس کے لئے گورنمنٹ نے (ڈی ایس ڈی) ”ڈائر یکٹو ریٹ اینڈ سٹاف ڈیو یلپمنٹ“ کے نام سے ایک ادارے کو اسا تذہ کی پیشہ وارانہ تربیت کی یہ اہم ذمہ داری سونپ دی۔ جس کے انتظامی ڈھانچہ، صوبائی سطح پر پروگرام منیجر ( پی ڈی ) ، ڈویثرنز کی سطح پر ریجنل پروگرام منیجرز ( آر پی ایم ) اور ضلع کی سطح پر ڈسڑکٹ ٹرینگ اینڈ سپورٹ سینڑز پر سر براہان ( ڈی ٹی ایس سی ہیڈز ) ، تحصیل کی سطح پر تحصیل ایجو کیٹرز ( ٹی ای ) اور براہ راست اساتذہ استعداد کار کو بڑ ہانے کے لئے ڈسٹرکٹ ایجوکیٹرز ( ڈی ٹی ای ) تعینات کیے۔
جو اسا تذہ کو روزانہ کی بنیا د پر اسکولز کی سطح پر تدریس کے جدید طریقو ں سے نہ صرف متعارف کرواتے بلکہ اس کا عملی مظاہرہ بھی کمرہ جماعت میں پیش کرتے۔ اس کاوش نے اساتذہ کے رویوں کو نہ صرف پرو فیشنل بنایا بلکہ اس کے عوض معاشرے میں سرکاری اسکولوں کی ساکھ بہتر ہوئی اور عام آدمی کا اعتماد سرکاری اسکولوں پھر سے بحا ل ہوا۔ اس کی بڑی وجہ پرائمری سطح پر تدریسی عمل میں سر گرمیوں پر انحصار اور بڑھتا ہوا ویول ا یڈز ( تصاویرپر مشتمل کارڈز، چارٹس اور مڈلز وغیرہ ) کا استعمال تھا۔
جن کی وساطت سے طلبا ٕ کے اندر تخلیقی صلاحیتوں اور خو اعتماد ی کو فروغ دینے میں مدد ملی۔ 2016 اور 2017 کے وسط میں ایک بیورو کریٹ، جو خو د ایک پرائیویٹ اسکولوں کے گروپ کے مالک تھے ان کو پرائیو یٹ سیکڑ کے لوگوں نے اپنی گرتی ہوئی ساکھ کو بحال کرنے کی استداعا کی تو اس زیرک انسان نے ٹریننگ کے اس مربو ط اور منظم نظام کی بساط کو ہی لپیٹ دیا۔ 2018 میں تعینات ہونیوالے سیکر ٹر ی تعلیم ڈاکٹر اللہ بخش طارق صاحب نے ”قائد اعظم ایجوکیشن اکیڈ می“ کے پروگرام کے زیر اثر اکیڈمک ڈیویلپمنٹ یونٹس کا قیام عمل میں لانے کی تجویز دی۔
جس کے تحت اساتذہ کو مضامین کے اعتبار سے مخصوص تربیت دینا مقصود تھا اسی دوران ہی اسسٹنٹ ایجوکیشن افسرز کو ما نیٹرنگ اور مینٹو رنگ کی ذمہ داریا ں سونپ دی گئیں۔ جو بلا شبہ ان پر مانیٹرنگ کے ساتھ ساتھ مینٹورنگ کا ایک بھاری بوجھ تھا۔ تا حال بھی مینٹورنگ کا عمل فعال ہونے سے قاصر ہے۔ اور اسا تذہ کی ایک کثیر تعداد پیشہ وارانہ مہارت کے حصول کے لئے پھر سے کسی مسیحا کی منتظر ہے۔


