اساتذہ کو عصر حاضر میں درپیش چیلنجز


اس حوالے سے پورے قرآن کا نچوڑ یہ ہے کہ، اللہ کو مطلوب اصل انسان وہی ہے، جو دین اور دنیا میں توزان قائم کرسکے۔ نہ جوگی کی طرح کسی پہاڑی، غار میں پناہ تلاش کرے اور نہ دنیوی زندگی کے رنگینیوں میں مست غرق ہو جائے اور نہ صرف دنیوی تعلیم، پیسے کمانے کو زندگی کا مقصد بنائے اور خود احساس سے عاری چلتا پھرتا ایک روبوٹ بن جائے، بلکہ زندگی کے باقی پہلوں جس میں دین، اخلاقیات بھی ہیں، کو بھی زندگی میں شامل کریں۔ دونوں دنیاؤں کو ان کے مناسب مقام پر رکھے۔

بچوں میں یہ توازن والدین کے بعد اساتذہ ہی پیدا کرسکتے ہیں۔ استاد کا کام بچے کو اے سے ایپل پڑھانا ہی کافی نہیں، بلکہ بچے کو یہ بھی سکھانا ضروری ہے کہ اگر اس کے پاس ایک سیب ہے تو اسے شئیر کس طرح کرتے ہیں؟ بچے کو تخلیق کائنات اور اس کی ہئیت پر لکچر دیتے وقت خالق کائنات کے بارے میں بھی تھوڈا کچھ سمجھانے کی ضرورت ہے۔ محترم ڈاکٹر ہود بھائی یا چند دنیا پرستوں کی طرح دین مذہب کا نام لینے سے ہمیں شرمانے کی کوئی ضرورت نہیں، البتہ یہ ذہن میں ضرور رکھا جائے کہ ریاضی، کمسٹری یا بیالوجی کا لکچر اسلامیات کی نذر نہ ہو جائے۔

توازن ضروری ہے جو دین اسلام کی روح ہے۔ چونکہ یہاں میرا مطلب مذہب کے عمومی پہلو سے زیادہ اخلاقی پہلو ہے (بچوں کو مذہبی تعلیم گھر، مذہبی سکول میں بھی دیا جاسکتا ہے ) اس لیے اساتذہ کو دنیوی علم کے ساتھ ساتھ طلباء کی اخلاقی تربیت پر فوکس کرنا، اور ان میں موجود پوشیدہ صلاحیتوں کو اجاگر کرنا اصل تعلیم و تربیت ہے۔ اخلاقیات ایک ایسا دقیق اور مشکل سبجیکٹ ہے جو لکچر سے کم، ذاتی عمل سے بہتر طور پر سکھلایا جاسکتا ہے۔

اس لیے کہتے ہیں کہ اچھا استاد وہ ہے جو آپنے اسٹوڈنٹس کیلے خود رول ماڈل بنے۔ مزے کی بات یہ ہے، بچے کم از کم اٹھارہ گھنٹے والدین کے ساتھ ہوتے ہیں، لیکن بیچارے والدیں جتنے بھی پڑھے لکھے کیوں نہ ہو، بچے استاد کی بات کو ہی پتھر کی لکیر سمجھتے ہیں۔ کچھ دن پہلے بیگم چھوٹے بیٹے کا کلاس ورک چیک کر رہی تھی جس میں بیشمار غلطیاں موجود تھیں، استانی نے چیک بھی کیا تھا، ان بیچاریوں کی اپنی مجبوریاں ہوتی ہیں، کئی درجنوں اسٹوڈنٹس کا ہوم ورک تسلی بخش چیک کرنا بہت تھکا دینے والا کام ہوتا ہے، اس لیے بسا اوقات غلطیوں کا پورا احاطہ کرنا ممکن نہیں۔

خیر بیگم نے اصلاح کرنے کی کوشش کی لیکن بیٹے نے ماں کی ایک نہ مانی، ان کا ضد تھا، چونکہ ٹیچر نے صحیح ٹک لگایا ہے اس لیے اس میں غلطی کی گنجایش موجود نہیں۔ مجبوراً اگلے دن سکول جاکر متعلقہ ٹیچر سے مسز کی اور اپنی تعلیمی قابلیت کے حوالے سے فتویٰ لکھوا کر لیے آنا پڑا تا کہ بچوں کو باوار کراسکے کہ والدین کی بات بھی ٹھیک ہو سکتی ہے اور بچوں کو ان کی بات سننی بھی چاہیے۔

مختصراً اپنے معزز اساتذہ کرام سے یہ عرض کرنا مقصود ہے کہ اس بڑھتی مادی دباؤ کے دور میں بہتر تعلیم کے ساتھ ساتھ بچوں کی اخلاقی، روحانی اور سماجی رویوں کے حوالے سے بھی تربیت ضروری ہے۔ تاکہ ہمارے اندر بڑھتا ہوا روحانی خلا کم سے کم ہو جائے اور ہمیں اس زندگی اور اگلی زندگی کے اختصار کا پتہ چل سکے۔ کہتے ہیں کہ مغرب، جاپان اور دوسرے بعض ممالک میں بچوں کی ابتدائی پانچ سال کی عمر تک صرف اخلاقیات کی تعلیم دی جاتی ہے جس میں سچ بولنا، کام کی عظمت، حلال کمائی، دوسروں کا احترام کرنا، ارد گرد ماحول کو صاف ستھرا رکھنا وغیرہ شامل ہے۔

اساتذہ کے حوالے سے ایک اہم نکتہ، اچھا استاد وہ نہیں جو غیر معمولی صلاحیتوں کا مالک ہو، بلکہ بہترین استاد وہ ہے جو بہترین کردار اور مناسب پیشہ ورانہ قابلیت کے ساتھ ساتھ اپنے پیشے سے مخلص ہو۔ جو اساتذہ باصلاحیت تو ہیں مگر مخلص نہیں وہ دراصل اپنے اور خاندان کو دھوکا دیتے ہیں اور ظلم کرتے ہیں، میں نے ایسے اساتذہ اور ان کی اولاد کو زندگی میں دھکے کھاتے اور آزمائشوں سے گزرتے ہوئے دیکھا ہے۔ دوسری طرف وہ اساتذہ جو اوسط درجے کے حامل تھے، مگر اپنے پیشے سے بہت ہی مخلص تھے وہ اور پورا خاندان کو پھلتے پھولتے اور باوقار زندگی گزارتے ہوئے دیکھا اور گزار رہے ہیں اور اولاد بھی بہت اچھے مقام پر پہنچ چکی ہیں۔ ماشاءاللہ۔

خدانخواستہ زندگی میں کوئی ایسی نوبت اجایے کہ اپنے بچوں کیلے دو میں سے ( معیاری تعلیم اور اچھی تربیت اخلاق ) میں سے کسی ایک کو چننا پڑے، تو میں بغیر کسی ہچکچاہٹ کے اچھی تربیت اور اخلاق کو چنوں گا، کیونکہ میں اپنے آس پاس بیشمار ایسے بوڈھے والدین سے ملا ہوں جنھوں نے سب کچھ قربان کرکے بچوں کو معیاری اور اعلیٰ تعلیم دلوائی، بچے بڑی بڑی پوزیشنوں پر تو پہنچ گئے لیکن اتنے بڑے ہوگئے کہ والدین کو بھی بھول گیے، اپنی مذہبی اور اخلاقی ذمہ داری کو بھول گیے۔

بوڈھے والدین انتہائی کسمپرسی کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ وجہ کیا بنی؟ ان والدین نے بچوں کو معیاری تعلیم تو دلوادی لیکن اچھا اخلاق اور دین شناسی دینا بھول گیے۔ اور تو اور ایک بوڈھا، ناتوان جوڈا جن کے چار بچے بچیاں ولایت میں ڈاکٹر، سافٹ ویئر انجیر ہیں، کروڑوں کما رہے، پچھلے سال دونوں واش روم میں گر کر دنیائے فانی سے رخصت ہوگئے۔ والدین بیچارے تو جان سے گیے لیکن وہ بدبخت اولاد بھی جلدی مکافات عمل سے گزریں گی، اس میں بالکل بھی کوئی شک نہیں۔ ایسی اولاد کیسے خوش و خرم رہ سکتی ہیں خواں احد پہاڈ جتنا سونا بھی کیوں نہ اکٹھا کیا ہو۔ یہ قانون فطرت ہے، دوسروں کو خاص کر بزرگ والدین کو دھتکار کر دھکیل کر کوئی بھی خود سکھی نہیں رہ سکتا ہے۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2