اساتذہ کو عصر حاضر میں درپیش چیلنجز


تیزی سے بدلتی دنیا میں، جہاں انسان کو بیشمار معاشی، سیاسی، ماحولیاتی، معاشرتی، صحت، اخلاقی اور روحانی چیلنجز کا سامنا ہیں، وہاں معاشرے کا سب سے معتبر پیشہ درس وتدریس اور اس سے وابستہ طبقہ بھی اس سے متاثر ہویے بغیر رہ نہیں سکا ہے۔ دنیا میں تیزی سے وقوع پزیر نت نئی ایجادات، سیاسی طاقتوں کے مابین کھینچاتانی، مادیت پرستی اور سرمایہ درانہ نظام کے اندر موجود کمزوریوں نے ہر شعبہ زندگی کو بالعموم، انسانی اخلاقیات اور احساس مروت کو بالخصوص بے حد متاثر کیا ہے، آج دنیا میں مادی فراوانی تو بہت ہے لیکن روح آہ، سوز و گداز سے خالی ہے۔

بے یقینی اور افراتفری کا عالم عروج پر ہے۔ رشتے تیزی سے سکڑ رہے ہیں، اسلام کا آفاقی پیغام یعنی امن، بھائی چارہ، بڑوں کا احترام، چھوٹوں پر شفقت، ہمسائے کے حقوق، یتیم، مسکین کی دلجوئی کرنا، صلح رحمی، بزرگ والدین کو اف تک نہ کہنا وغیرہ محض الفاظ کی حد تک محدود ہوکر رہ گیا ہے۔ ، ایسے میں درس وتدریس سے منسلک افراد کے کندھوں پر بہت بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ کیونکہ یہ استاد ہی ہے جو مستقبل کے معماروں کی درست شخصیت سازی اور صحیح سمت متعین کرتاہے، تاکہ معاشرے کو ایک صحت مند اور متوازن قیادت  افراد مل سکے، جو معاشی، معاشرتی انصاف کے ساتھ ساتھ اسلامی اقدار پر مبنی معاشرے کا وجود عمل میں لانے میں مددگار ثابت ہو۔

اساتذہ کیلے درپیش چیلینجز کی فہرست بہت لمبی ہے، صرف چند ایک پر طائرانہ نظر ڈالتے ہیں جن میں کلاس اور کلاس روم سے باہر استاد اور شاگرد کا رشتہ، اس رشتے کی تقدس کو برقرار رکھنا، درس و تدریس کے جدید طریقوں سے خود اگاہی، لکچر کے دوران ایڈز جدید گیجٹس کا بہتر استعمال، بچوں کی علمی رہنمائی کے ساتھ ساتھ اخلاقی اور ذہنی نشوونما پر بھی توجہ مرکوز کرنا اور سب سے بڑھ کر کردار سازی اور اخلاقیات کے میدان میں استاد اپنے آپ کو بطور رول ماڈل پیش کرنا شامل ہیں۔

درس وتدریس کے شعبے سے وابستہ دور جدید کے ماہرین کا ماننا ہے کہ بچہ ماں کے پیٹ سے ہی سیکھنا شروع کرتا ہے، ان کا خیال ہے کہ ان ایام میں جب بچہ پیٹ میں ہوتا ہے، ماں کو زیادہ سے زیادہ آرام، احتیاط کی ضرورت ہے۔ مناسب اور متوازن غذا، آرام دہ ماحول کا میسر ہونا بھی بہت ضروری ہے۔ اس نظریے کو سامنے رکھتے ہویے دنیا بھر میں خاص کر ترقیاتی دنیا میں ”ای سی ڈی“ یعنی Early childhood Development کا نظریہ متعارف کرایا گیا۔ خوش قسمتی سے گلگت بلتستان ان چند علاقوں میں شامل ہے جہاں اس نئے نظام کا عملاً آغاز ہوچکاہے، آغا خان ایجوکیشن سروس نے اس سلسلے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ رفتہ رفتہ علاقے کے طول و عرض میں بھی اس نئے نظام کو خوش آمدید اور سراہا جا رہا ہے الحمدللہ۔

ماں کے پیٹ میں سکھلائی کا نظریہ بہت پرانا ہے۔ سقراط اور ان کے شاگرد اس نظریے کے خالق مانے جاتے ہیں جنھوں نے اپنی تعلیمات اور کتابوں میں اس موضوع پر روشنی ڈالی ہیں۔ وہ اس بات کے بھی قائل تھے کہ بچے ماں کے پیٹ سے لے کر شروع کے پانچ، چھ سال تک چیزوں کو جلدی پک اور بہتر طور پر سیکھ سکتے ہیں۔ ان کا ماننا تھا کہ اس عمر میں بچوں کے لیے خواتین بہترین ٹیچر ثابت ہوسکتی ہیں، کیونکہ بچوں کی جذباتی نشوونما کیلے جب وہ سکول جاتے ہیں، بچے اور ماؤں کے درمیان مختصر جدائی کے خلا کو خواتین ٹیچرز بہتر طور پر، پر کرسکتی ہیں۔

قارئین کی دلچسپی کیلے، سقراط نے اس بات پر زور دیا تھا کہ ایتھنز قدیم یونان میں ذہین اور صحت مند عورتوں کی شادی بیاہ ذہین اور صحتِ مند مردوں سے کی جانی چاہیے تاکہ بہترین نسل قوم پیدا ہو سکے اور ایسے بچوں کی پرورش والدین کی بجائے ریاست خود کریں۔ سقراط اس میں کتنے کامیاب ہوئے، ہم کچھ نہیں جانتے ہیں۔ قدیم یونان کے علاؤہ اسلامی تاریخ میں بھی اولیا اللہ کے حوالے سے مشہور ہے کہ بہت سے خوش قسمت بچے جو بعد میں ولایت کے درجے پر فائز ہوئے، جن میں شیخِ عبد القادر جیلانی بھی شامل ہے، بہت چھوٹی عمر میں ہی قرآن، تصوف، روحانیت اور دیگر علوم میں بے پناہ مہارت رکھتے تھے، جب ان کی غیر معمولی ذہانت اور دین سے لگاؤ کے بارے میں کھوج لگایا گیا تو پتہ چلا کہ ان سب کی ماؤں میں ایک چیز مشترکہ تھی، وہ سب اپنے زمانے میں بہت ہی نیک، متقی اور عبادت گزار تھیں، ان ایام میں جب بچہ پیٹ میں ہوا کرتا تھا، زیادہ سے زیادہ ذکر و فکر اور درود و تسبیح کا ورد کیا کرتی تھیں، سبحان اللہ۔

گو کہ اس آرٹیکل میں زیر بحث موضوع پر تفصیلاً قلم اٹھانا، تمام عوامل اور چیلنجز کا احاطہ کرنا ممکن نہیں، یہ اہل علم تعلیمی ماہرین کا کام ہے، البتہ تین سکول جانے والے بچوں کا باب ہونے کے ناتے جو وقت بچوں کے ساتھ گھر میں گزارتے ہیں، ان کے حوالے سے مشاہدات سامنے آتی ہیں، بات چیت ہوتی ہے، ان کا اٹھنا بیٹھنا، غیر نصابی سرگرمیوں میں دلچسپی، وقتاً فوقتاً اساتذہ سے ملاقاتیں اور دیگر مشاہدات، خصوصاً بچوں کا الیکٹرانک گیجٹس اور سوشل میڈیا کا بے جا استعمال، ایریاز جس میں بچے کمزور دکھائی دیتے ہیں، جہاں قابل احترام اساتذہ کو زیادہ سے زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے، اس پر اپنے خیالات قلم کے ذریعے محترم قارئین تک پہنچانے کی کوشش کرونگا۔ خوش قسمتی سے اپنے ادارے میں جہاں روزی، روزگار لگی ہوئی ہے، دو سال خود بھی درس وتدریس سے منسلک رہا ہوں، جس کی وجہ سے کافی کچھ دیکھنے، سمجھنے اور سیکھنے کو ملا۔

بحثیت والدین ہم اپنے بچوں سے ان کے مستقبل کے حوالے سے کیا چاہتے ہیں، اور اساتذہ سے بچوں کی تعلیم و تربیت کے حوالے سے کیا تواقعات رکھتے؟ اس سوال کا ایک لائین یا چند سطور میں جواب دینا مشکل ہے کیونکہ والدین کی اپنی اپنی ترجیحات ہوتی ہیں۔ البتہ بچوں کی بہتر مستقبل اور تعلیم و تربیت کے حوالے سے بعض چیزیں ایسی ہیں جن پر تقریباً تمام والدین متفق ہوسکتے ہیں۔ یعنی سکول کالجز یونیورسٹیوں میں معیاری تعلیم کے ساتھ ساتھ بچوں کی ذہنی نشوونما اور اخلاقی تربیت بھی ہو تاکہ کل بچے عملی زندگی میں قدم رکھتے ہیں تو ایک اچھے اور ذمہ دار شہری کے طور پر ابھر سکے اور زندگی کے فرائض بہتر طور پر سر انجام دے سکے۔ ایک اور سوال ؛ بحثیت مسلمان والدین، ہم اپنی اولاد کیلے کس قسم کا مستقبل سمت متعین کرنا چاہتے ہیں؟ اس سوال کا جواب ڈھونڈنے کیلے ہمیں مذہب یعنی دین اسلام سے مدد اور رہنمائی حاصل کرنی ہوگی۔ یعنی اللّٰہ اپنے بندوں سے کیا چاہتا ہے؟ یا کس قسم کا انسان اللہ کو مطلوب ہے؟

مزید پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے 

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2