نجیب محفوظ اور غیر محفوظ مصر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نوبل انعام یافتہ مصری ادیب نجیب محفوظ کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ سماج کے ایک اعلیٰ دانشور کے ساتھ روا رکھے جانے والے روایتی سلوک کے عین مطابق ان کے ناول بھی عربی اورمصری سماج کے بنیادی مسائل کی عمدہ تشخیص اور حق گوئی کے باعث متنازعہ قرار پائے۔ عرب ممالک میں ان کی کتب کو ضبط کرنے کے احکامات جاری کئے گئے۔ 1994ءمیں انتہا پسندوں کے ایک حملے میں وہ شدید زخمی بھی ہوئے۔ ان کا عربی ناول جس کا انگریزی ترجمہ فرانسس لیارڈیٹ نے”اے ڈرفٹ آن نیل“ جبکہ اردو ترجمہ نیر عباس زیدی نے ”آبِ نیل پہ آوارگی “کے نام سے کیا ہے دانشور طبقے کے انہی مسائل پر روشنی ڈالتا ہے۔

ناول میں دریائے نیل پر موجود علامتی”کشتی گھر“ سماج کی مروجہ پابندیوں اور بوسیدہ روایات سے تنگ آئے دانشوروں کی پناہ گاہ ہے۔ یہ دانشور طبقہ اپنے کہنہ سماجی رویوں سے تنگ آ کر تنہائی ، بیگانگی اور نشے میں پناہ تلاش کرنے کی بےکار سعی کرتا ہے اور با لا آخر اپنے اندر کی گھٹن اور ذہنی اضطراب سے تنگ آکرٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتا ہے۔ ناول کے مکالمات ان دانشوروں کی ذہنی شکست وریخت اور اندرونی کرب کی درد ناک عکاسی کرتے ہیں۔

”میری آنکھیں ۔ ۔ اور یہ اندر کی طرف دیکھتی ہیں بجائے باہر دیکھنے کے، جس طرح دیگر مخلوقِ خدا دیکھتی ہے۔ “

ناول کے بیشتر مکالمات جمہوریت اورامریت کے درمیان ڈولتی ریاست میں عسکری طاقتوں کے غاصبانہ رویوں کو بھی سامنے لاتے ہیں۔ جن\"01 میں سادہ لوح عوام کو انقلاب کا جھانسہ دے کر ان کی قربانیوں سے اپنی منافقانہ حکومت کی بنیادوں کوسیراب کیا جاتا ہے۔ مثلاَ ناول کا یہ ایک جملہ دیکھئے جو ایک حقیقی دانشور کی گہری فکری بصیرت کا غماز ہے۔

”انقلابوں کو چالاک لوگ ترتیب دیتے ہیں۔ بہادر لڑتے ہیں اور بزدل اِن سے فائدہ اُٹھاتے ہیں۔“

”سڑک پر اب کوئی نہ تھا۔ دروازے اور کھڑکیاں بند تھیں۔ گھوڑوں کی ٹاپوں سے مٹی اُڑ رہی تھی۔ مملوک فوجی اپنے شکار کی تلاش میں شور مچاتے، نعرے بلند کرتے آزادی سے گھوم رہے تھے۔ مارگوش اور گمالیہ کے علاقوں سے باہر سڑک پر نکلنے والا کوئی بھی شخص ان کی ”مہارت“ کا شکار ہو سکتا تھا۔ اور اس شکار کی چیخیں ان فوجیوں کی بیہودہ خوشیوں اور ان کے شور کے نیچے دب جاتیں۔ جدائی کا صدمہ سہنے والی بیچاری مائیں پکارتیں۔ ”رحم ، رحم اے بادشاہان!“اس کھیل و تفریح کے وقت وہ شکاری انھیں اپنے راستے سے ہٹا دیتے ۔ ۔ یوں وہ اپنی جاہ و حشمت وایذا رسانی کی شادمانی مناتے رہے۔ “

”بغیر روشنائی کا پین۔ ۔ اس طرح کے پین امن معاہدوں پر دستخط کرنے کے لئے استعمال ہوتے ہیں۔ “

 ”ایک چیز کا دوسری چیز سے کوئی رابطہ نہیں ہوتا۔ ۔ حتٰی کہ گولی چلنے اور انسان کے مرنے میں بھی نہیں۔ “

naguib mahfouz

دانشورانہ ذمہ داری کا ایک تقاضا ریاست کے سیاسی و سماجی مسائل کی حقیقی عکاسی اور سچ کی تلاش ہے۔ بسا اوقات کہنہ سماجی نظریات کے منہدم قلعے ہمیں ہماری کوتاہ علمی کی اس سطح پہ لا کھڑا کرتے ہیں جہاں سے سچ کو تلاشنا تاریخ کی بھول بھلیوں میں کھوجانے کے مترادف ہو جاتاہے۔ یہ ایک دانشور ہی ہے جوہماری محدود سوجھ بوجھ کی گرہ کھولتے ہوئے ہمیں سماج کے اِن شکستہ و ادق سوالات کی عمارات سے باہر نکال کر ششدر کر دیتا ہے۔ حق گوئی کا یہ عمل ایک سماجی دانشور کوبار ہا جس ذہنی و روحانی کرب سے گزارتاہے اس کی تفہیم ہماری سماجی فہم سے بالاتر ہے۔

بلا شبہ ایک دانشور کا سماج کی مروجہ روایات و رجحانات سے فرار ممکن نہیں۔ یہ اس کی اخلاقی اور سماجی ذمہ داری ہے کہ وہ بحیثیتِ فرد اپنے سماج کو فکری ارتقاءکی منازل سے روشناس کراتے ہوئے اُس میں جدید خیا لات کی تخم ریزی بھی کرے۔ لیکن جب سماج میں ایک ایسی فضا تشکیل پانے لگے جس میں آزادی ¿ اظہار پہ قدغن لگائی جائے ، حق گوئی کی قیمت کئی قیمتی جانوں کا نذرانہ ٹھہرے نیزاستحصال اورمنافقت کو ریاکاری کابدنمالبادہ پہنا کر سماجی دانش کا سوانگ رچایا جائے تب یہ سماجی دانش خود اپنے ہی خول میں مقیدہو کردم توڑنے لگتی ہے ۔

ناول میں دکھائے گئے المیے کا تعلق ان معاشروں سے ہے جہاں اظہارِ رائے کی آزادی کوریاستی مفادات واحکامات کی بیڑیوں سے جکڑ دیا جاتا ہے۔ جہاںحقیقی دانشور طبقہ تنہائی اور بیگانگی کا شکار ہو جاتا ہے اور ان کی جگہ رواج پانے والا سطحی دانشور طبقہ سماج کی علمی و فکری بنیادوں کو اندر ہی اندر کھوکھلا کر تا رہتاہے۔ وہ سماج کے اجتماعی فکری شعور کو اپنی کوتاہ علمی سے صدیوں پیچھے دھکیل دیتا ہے۔

بد قسمتی سے دیکھا جائے تو ہمارے سماج کی حالت بھی اس سے کچھ خاص مختلف نہیں۔ علم و دانش کے نام پہ یہاں مفادات کی تجارت کی جاتی ہے۔ میڈیا، ٹی وی چینلز، اخبارات ا و ررسائل جدھر دیکھو ان گنت دانشور وں کا تانتا بندھا ہے ۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر ہمارے سماج میں عقل ودانش کی اتنی ہی افراط ہے تو ترقی کی اتنی تفریط کیونکر ہے؟ اس سوال کا جواب تلاش کرنے پر ہمیں ادراک ہوتا ہے کہ سماج میں پنپتے اَن گنت گیان ودھیان کے دانشورانہ طلسم کدوں میں در حقیقت سچائی بکتی ہے۔ طاقتور طبقہ جب چاہے ، جہاں چاہے ان مجازی دانش کدوں کی بدولت اپنی مرضی کا سچا بیانیہ تشکیل دے سکتاہے۔ جس کو جھٹلانے یا اس کی بابت سچ سننے کی ہمت ہماری عوام میں ہر گز نہیں ہوتی۔ سستی شہرت اورریٹنگ کے حصول کی خاطریہ فرضی دانشور حضرات گھمبیر مسائل کو مزید پیچیدہ اور سنگین بنا نے کی صلاحیت سے بھی بدرجہ اتم واقف ہوتے ہیں۔ مقامِ حیرت تو یہ ہے کہ طاقت اور سرمائے کے صرف ایک اشارے پر یہ اپنی چرب زبانی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کبھی بھی کسی بھی موضوع کے موافق اور مخالف جا سکتے ہیں۔

یہاں ایک نہایت تکلیف دہ امریہ ہے کہ ہماری ریاست کا ایک بڑاحقیقی دانشور طبقہ سماج کے ان بوسیدہ رویوں سے دلبرداشتہ ہو کریا امانِ جان کی غرض سے زبان بندی اختیارکر لیتا ہے اور تنہائی کا شکار ہو کراور اندر ہی اندر گھٹتا رہتا ہے۔ باقی ماند ہ سے جو بھی اپنی جان ہتھیلی پررکھ کر سچ کو سامنے لانے کی کوشش کرتاہے اس کی آوازکو پست کرنے یا دبانے کی مساعی ہمارے لئے نئی بات نہیں۔ چند ایک مٹھی بھر لوگ ایسے بھی ہیں جن کی دور اندیشی اورفکری بصیرت کی بدولت ہمارے سماج کا رہا سہابھرم قائم ہے۔ جو اس ریا کاری سے بنے فکری جمود کو اپنے گہرے شعورو ادراک کے چبھتے سوالوں سے کریدتے رہتے ہیں۔ لیکن ہم تنقیدی بصیرت سے عاری لوگ تلخ اور کڑوے سچ سننے کے متحمل کہاں؟ سو جواباََصلے میں انھیں کافر، ملحد ، ایجنٹ اور غدار جیسے القابات سے نوازنے کی روش ہماری بہت قدیم ہے۔ جس سے دلبرداشتہ ہو کر وہ یا تو اس سماج کو چھوڑ دیتے ہیں یا پھرخود ساختہ خاموشی کے کربناک حصار میں مقید ہو جاتے ہیں۔

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا دانشوروں اور سوچنے والوں کو اسی طرح معاشرے سے کٹ کراپنی ہی گھٹن میں مر جانا چاہئے؟ یا پھراپنی سماجی ذمہ داری سے عہدہ برآ ہونے کے لئے حالات کا ڈٹ کرسامنا کرنا چاہئے؟ یقیناَ آپ کا اتفاق دوسرے سوال کے مثبت جواب سے مشروط ہوگا ۔ بلا شبہ ایک دانشور کو اپنی سماجی ذمہ داریوں کی تکمیل اور معاشرے میں عمدہ خیالات کی ترسیل و تریج کے لئے مشکل حالات کا سامنا کرنا چاہئے۔ کیونکہ یہ ایک حقیقی دانشور ہی ہے جس نے دنیا میں شروع سے اب تک ہر طرح کے حالات میں ظلم ، جبر اور بر بریت کے خلاف آواز اُٹھا کر نہ صرف خود کو منوایا ہے بلکہ تاریخ کے کئی بڑے بڑے انقلابات کو بھی جنم دیا ہے۔ لیکن یہاں اس کے ساتھ ساتھ بحیثیت فرد یہ سماجی ذمہ داری ہم پر بھی عائد ہوتی ہے کہ ہم حقیقی اور سطحی دانش کے مابین کھرے اور کھوٹے کی ایک امتیازی لکیر قائم کر نا اور دانشوارانہ خیالات کی باہم ترسیل کرنا سیکھیں۔ تاکہ ہمارے سماج اور ہماری آئندہ آنے والی نسلوںکی تربیت درست شعوری و فکری خطوط پر استوار ہو سکے اور ہم سماجی آگہی اور ترقی کے اس معیار تک پہنچ سکیں جسے پانے کی آرزو ہمارے دلوں میں نہاں ہے ۔ اور اگربد قسمتی سے ہم ایسا کچھ بھی نہ کر پائیں تو صرف اتنا جان لیں کہ ہمارے حال کا یہ المیہ نجیب محفوظ کے مصر سے کچھ زیادہ مختلف نہیںہے۔

تمہارے ہم پیالہ لوگوں نے تم سے جھوٹ بولا

یہ ماہ و سال دکھ درد، جنگ و جدل سے بھرپور ہیں

یہ کیا ہے جو مصر میں ہو رہا ہے

دریائے نیل میں اب بھی سیلاب آتا ہے

جو کنگال تھے اب رئیس ہو گئے ہیں

کاش میں اپنی آواز پہلے بلند کرتا

اے عارف ! تم نے اور کیا کہا تھا؟

تمہارے پاس دانائی ہے، تصوارت ہیں اور انصاف ہے

لیکن بد عنوانی تمہاری سر زمین کو گھن کی طرح کھا رہی ہے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply