EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

سرکاری حج اور عمرے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہمیں نہ تو یہ دعویٰ ہے کہ ہم مولوی یا عالم دین ہیں اورنہ ہی ہمیں سیاسی فتویٰ بازی پر دسترس ہے ’ہم تو ٹھہرے سیدھے سادھے قلم کے مزدور‘ لہٰذا آس پاس دیکھنے اورڈھونڈنے کے باوجود ہمیں تو کوئی ایسی سہانی پیشکش نظر نہیں آتی ’سہانی پیشکشیں بھی عجیب ہی ہوا کرتی ہیں اس حوالے سے بات کرنے پر بھی بے شمارخدشات لاحق ہوتے ہیں لہٰذا چپ ہی بہتر‘ تاہم ایک عرصہ سے سوچ رہے ہیں (بقول بھولا ہم سوچتے ہی رہ جائیں گے اور دنیا ترقی کرجائے گی) کہ حج عمرہ تو بڑا ہی ثواب کاکام ہے ’خاص طورپر حج کو تو اسلام کے پانچ بنیادی اراکین میں خاص اہمیت حاصل ہے‘ یقینا وہ لوگ خوش قسمت ہوتے ہیں جنہیں یہ شرف حاصل ہوتا ہے لیکن ایک سوچ اکثر ذہن کو کھائے جاتی ہے کہ سرکاری اخراجات پر حج ’عمرہ کس کھاتے میں جائے گا۔ تسلیم کرلیا کہ جنہیں خدا نے توفیق نہ دی ہو وہ تو چلو کسی نہ کسی بہانے اگر سرکار کے جیب خرچ پر اگر یہ فریضہ انجام دے آئے تو اچھا کیا لیکن جنہیں خدا نے توفیق بخشی ہو وہ؟

سرکاری سطح پر حج یاعمرہ کرنیوالوں کی ”قبولیت“ کے ضمن میں ہم فتویٰ جاری نہیں کرسکتے لیکن سرکاری سطح پر جانیوالے وفود کے فائدے بہرحال ضرور سمجھ میں آجاتے ہیں ’خدا جھوٹ نہ بلوائے‘ عموماً تصور کیا جاتا ہے کہ سرکار کے جیب خرچ پر جانیوالوں کو ”وی آئی پی“ پروٹوکول دیا جاتا ہے۔ اب یہ کہنا کہ محض ”پروٹوکول“ کے چکر میں سرکار کی جیب خرچی جاتی ہے تویہ سراسر غلط اورغلط فہمی پر مبنی ہے۔ اس کے علاوہ بھی بے شمار فائدے فوائد ہوتے ہیں ’اول یہ کہ سرکاری سطح پر حج عمرہ ادا کرنے والوں کے ضمن میں کہا جاتا ہے کہ یہ ایک سرٹیفکیٹ ہے‘ اب پتہ نہیں آج تک ہماری سمجھ میں نہیں آسکا کہ یہ ”سرٹیفکیٹ“ ہے کیا؟ اللہ جھوٹ نہ بلوائے سابق صدر پرویز مشرف بھی بڑے ہی زور وشور سے حج عمرہ کے لئے جایا کرتے تھے اب یہ کہنا کہ وہ محض اکیلے ہی جاتے تھے تو یہ سراسر غلط ہے ان کے ہمراہ باقاعدہ ایک ”سول بریگیڈ“ جایا کرتی تھی ’اب یہ کہنا کہ محض حج عمرہ ادائیگی ہی کافی ہے تو یہ سوچ بھی غلط ہے

محض پرویز مشرف ہی کیوں ہمارا تو پورا ماضی ہی حج عمرہ کے معاملے میں خاصا ”دلکش“ دکھائی دیتا ہے ’ہردور حکومت میں سرکاری حاجیوں کے لئے باقاعدہ ”کوٹہ“ مخصوص ہوتا ہے‘ پتہ نہیں یہ کوٹہ کس مد میں ہوتا ہے ’کس معیار کے تحت لوگ بھیجے جاتے ہیں‘ کون کون جا سکتا ہے اورکس کس پر ”پابندی“ ہوتی ہے۔ ہمیں اتنی خبر تو ضرور ہے کہ ہمارے شعبہ سے وابستہ لوگ بھی ”بہتی گنگا میں خوب نہا دھو چکے ہیں“ گویا سبھی شعبہ جات کو شرف حاصل ہے کہ وہ ”بہتی گنگا میں اپنے گناہ دھلوا چکے ہیں“

ایک معروف علمی ’مذہبی شخصیت سے مکالمہ کے دوران ایک ٹی وی اینکر نے پوچھ لیا کہ ”سرکاری سطح پر حج‘ عمرہ کی کیاحیثیت ہے ’کیا انہیں شرف قبولیت حاصل ہوتاہے یا نہیں“ انہوں نے واضح اورکڑے الفاظ میں کہا یہ حج عمرہ قبول نہیں‘ ہم سوچتے رہ گئے پھر اتنے سارے لوگ ہرسال حج کے لئے اور ہر ماہ عمرہ کے لئے کیوں روانہ کیے جاتے ہیں؟ محض ”نوازشات“ کے لئے یا کوئی اور بھی مقاصد ہوتے ہیں۔ ہمارے ایک جاننے والے ہیں ہمارے سمیت انہیں سبھی دوست احباب ”سیاسی لطیفہ باز“ کہتے ہیں ’اللہ جھوٹ نہ بلوائے وہ سچ بھی بولتے ہیں لگتا یہی ہے کہ وہ سیاسی لطیفہ سنا رہے ہیں‘ اس لئے ان کی بات پر کم کم ہی یقین کیا جاتا ہے ’وہ ایک دفعہ بتا رہے تھے کہ ایک بہت بڑی سیاسی شخصیت سرکاری خرچ پر حج کے لئے گئے جونہی شیطان کو کنکریاں مارنے کاوقت آیا وہ بیحد رنجیدہ تھے‘ قافلہ والوں نے پوچھ لیا ”سر کیوں پریشان ہیں“ فرمانے لگے ”اپنے بھائی بند کو پتھر مارتے ہوئے دکھ تو ہوتا ہے ناں“ سبھی سرکاری حاجی مسکرا کر کہنے لگے ”کیفیت تو ہماری بھی یہی ہے لیکن کیا کریں“ فرض ” بھی تو نبھانا ہے۔ اب ہمیں نہیں پتہ چل سکا کہ اس لطیفے میں کتنی صداقت ہے تاہم یہ بات پورے وثوق سے کہہ سکتے ہیں کہ سرکاری سطح پر جانے والے“ حاجیوں ”کے اس فعل سے شیطان ضرور خوش ہو جاتا ہو گا۔ کیسے؟ کاجواب نہیں دیں گے کہ فی الحال ہمارے اتنی جرات نہیں ’کیونکہ شیطان سے لڑنا آسان مگران سے۔

نوازشات کے ضمن میں بے شمار قصے کہانیاں عام ہیں ’مثال کے طورپر کسی رکن اسمبلی کو منانا ہو‘ اس کی ناراضگی دورکرنا ہو ’یا وہ ہو دوسری جماعت کا اوراسے اپنے ساتھ ملانا ہو‘ کسی اخبار نویس کی ناراضگی دورکرنا اور اسے ہمنوا بنانا ہو تو اسے عموماً بیرون ملک جانے والے خصوصی وفد میں شامل کر لیا جاتا ہے اب بعض ”سادہ مزاج“ یہی فرمائش کرتے پائے جاتے ہیں ”ہمیں تواس وفد میں شامل کرنا جو وزیراعظم کے ہمراہ حج یاعمرہ کے لئے جا رہا ہو“ تاکہ ”رند کے رند رہے ہاتھ سے جنت بھی نہ گئی“ کے مصداق دوطرح کے فائدے حاصل ہوجائیں ’یعنی رام بھی راضی اور رحیم بھی۔

بہرحال سرکاری خرچے پر ”دودھ“ سے نہا ’دھوکر ”پوتر“ ہونیوالوں کی داستان ایسی ہے کہ بس ”سنتاجاشرماتا جا“ کی کہانی معلوم ہوتی ہے۔ ہم تو محض یہی دل کے پھپھولے ہی دکھا سکتے ہیں کہ دنیا بھر میں ”قرض“ کے حوالے سے مشہور پاکستان کے وزرائے اعظم‘ وزرا ’وزرائے اعلیٰ کے ایسی تعیشات دنیا کے لئے کیا پیغام دے رہے ہیں۔ ہم تو سوچتے ہیں لیکن کیا وہ نہیں سوچتے جن کی پانچوں انگلیاں ہی نہیں ہاتھ پاؤں بلکہ پورا جسم ”کڑاہی“ میں ہوتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •