جوان پاکستان
2018 میں United Nation Development Program کے جا نب سے شائع کردہ National Human Development Reportکے مطابق پاکستا ن د نیا کے ان چند جوان ترین ممالک میں سے ایک ہے جن کی زیادہ تر آبادی جوانوں پرمشتمل ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق پاکستان کی کل آبادی کا 64 فیصد 30 سال سے کم عمر افراد پر مشتمل ہے نیز 29 فیصد افراد کی عمر 15 سے 29 سال کے درمیان ہے۔ پاکستان کی کل آبادی کا نصف سے زیادہ جوا نوں پر مشتمل ہو نا جہاں خوش آئند ہے وہی جوا نوں کو مناسب ترقی کے مواقع، نوکریاں اور دیگر ضروریات مہیا کر نا بہت بڑا چلینج ہے۔
ون ولنگ اوراس طرح کے دیگر پر خطر کھیلوں میں جوش جذبے سے شرکت کی ایک وجہ نوجوان نسل کو مناسب مواقع دستیاب نہ ہونابھی ہے۔ پورے ملک میں جوانو ں کے لیے مرکزی طور پر ایک پروگرام بھی پورے سال میں منعقد نہیں ہو رہیں ہے اگر منعقد ہو بھی رہیں ہے تو چھوٹے پیمانے پر۔ نئے پاکستان بنانے کے لیے ضروری ہے کہ جوان پاکستان کے لیے بہترین ترقی کے مواقع، صحت، تعلیم نوکریاں اور دیگر ترقی کے مواقع جوا نوں کو مہیا کیے جائے جب ہی نیا پاکستان بنے کی راہ جلد ہموار ہوسکتی ہے۔
پاکستان میں جہاں دیگر کئی شعبوں میں کام کر نے کی سخت ضرورت ہے وہی Human developmentکے شعبے میں کزشتہ کہی دہائیوں سے اس شعبے میں بھی کوئی خاطر خواہ سرمایہ کاری نہیں کی گئی۔ وزیر اعظم جناب عمرا ن خان بھی بارہا اپنی تقریروں میں اس بات کا اظہار کر چکے ہے کہ پاکستان میں Human development کے شعبے میں خاطر خواہ کام نہیں ہوا۔ کسی بھی ادارے اور ملک کے لیے سب سے اہم اس کے باصلاحیت افراد ہے اگر افراد کی ترقی پر توجہ نہ دی جائے تو ملک یا ادارے ترقی ہیں کرسکتے۔
development Index 2018 human UN میں شامل 189 ممالک میں سے پاکستان 105 پر ہے جبکہ بھارت 130 اور بنگلہ دیش 136 نمبر ہے۔ Human development Index کی درجہ بندی بنیادی طور پر تین شعبوں صحت، تعلیم اور آمدنی کے مطابق کی جاتی ہے۔ جوا ن پاکستان کو جہاں دیگر کئی چلینجز کا سامنا ہے وہی جوا نوں کے لیے بہتر ترقی کے مواقع اچھی تعلیم اور بہتر آمد نی کے زرائع مہیا کر نا بھی ہے۔ مملکت خداداد کی ترقی کی ذمہ داری جہاں حکومت کی ہے وہی محب وطن باصلاحیت افراد کے کندوں پر بھی ہے۔
بفصل خدا پاکستان میں ایسے باصلاحیت افراد موجود ہے جو دن رات مملکت خداداد کی ترقی میں ایک کیے ہوئے ہے۔ وطن عزیز میں جہاں بیشمار ادارے جوا نوں کی تربیت اور جوانوں میں قائدا نہ صلاحیت اجاگر کر نے کے لیے کام کررہیں ہے وہی ان سب میں چمکتا دمکتا ادارہ یوتھ پارلیمنٹ پاکستان ہے جس کے با نی جناب رضوا ن جعفر ہے۔ جناب رضوان جعفر معروف صحافی ہے۔ یوتھ پارلیمنٹ کی بنیاد 14 اگست 2005 کو رکھی گئی یوتھ پارلیمنٹ کا بنیادی مقصد جوا نوں کی تربیت نیز ان میں قائدا نہ صلاحیت کو اجاگر کر نا ہے۔
School of future leaders، legislative council Pakistan، Debate council، Scout group، Road Safety، Thinker forum اور جدید پاکستان تحریک یوتھ پارلیمنٹ کے لاتعداد پروجیکٹز میں سے چند ایک ہے۔ 28 اپریل 2019 کو یوتھ پارلیمنٹ سندھ کیبنٹ کے الیکشن ہوئے جس میں ملکی تاریخ کے برخلاف ایک اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے فرد کو یوتھ پارلیمنٹ 2019 کا صدر منتخب کیا گیا۔ یوتھ پارلیمنٹ جوان پاکستان کے جوا نوں کی تربیت میں گزشتہ کیے سالوں سے کوششیں جارے رکھے ہوئے ہے۔
یوتھ پارلیمنٹ کراچی سے لے کر بلتستان تک کے تمام جوا نوں اور طالب علموں کے کے لیے یکساں ترقی کے مواقع ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے فراہم کر رہا ہے۔ جوان پاکستان کی ترقی کے لیے لازم ہے کہ سب کو یکساں مواقع فراہم ہو تعلیم، صحت، روزگار ان تمام بنیادی ضرورتوں کو پورا کیے بغیر مجموعہ ترقی کا حصول مشکل ہے۔ یوتھ پارلیمنٹ کے بارے میں مزید جا نیے کے لیے اس لنک پر جائے youthparliament۔ com۔ pk


