جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کون ہیں؟


جسٹس قاضی فائز عیسیٰ 2009 میں بلوچستان ہائی کورٹ کے جج بنے۔ انہیں یہ منفرد اعزاز حاصل ہے کہ اعلیٰ عدلیہ میں شمولیت کے بعد پہلے ہی روز چیف جسٹس کے عہدے پر فائز ہوئے۔ ایسا اس وجہ سے ہوا کہ سپریم کورٹ کی طرف سے پی سی او ججوں کے خلاف فیصلہ آنے کے بعد بلوچستان ہائی کورٹ کے تمام جج سبک دوش پو گئے تھے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سپریم کورٹ کے 17 ججوں میں سے بلوچستان سے تعلق رکھنے والے واحد جج ہیں۔

3 نومبر، 2007 کو پرویز مشرف کی جانب سے لگائی گئی ایمرجنسی کے بعد قاضی فائز عیسیٰ نے سینئر وکیل کی حیثیت سے فیصلہ کیا تھا کہ وہ ایسے ججوں کے سامنے پیش نہیں ہوں گے جنہوں نے اپنے حلف کی خلاف ورزی کی تھی۔

یکم جنوری ، 2016 کو ریاض حنیف راہی نامی وکیل نے سپریم کورٹ میں آرٹیکل 184(1) کے تحت درخواست دائر کی، جس میں کہا گیا کہ جسٹس عیسیٰ کی بلوچستان ہائی کورٹ میں چیف جسٹس کی حیثیت سے تقرری اور اعلیٰ عدالت میں ترقی طریقہ کار پر عمل کیے بغیر کی گئی، چنانچہ غیر قانونی ہے۔

14مارچ، 2016 کو رجسٹرار نے ریاض حنیف کی پٹیشن کو فضول ٹھہرایا اور سپریم کورٹ کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے اعتراض اٹھایا کہ ریا ض حنیف راہی نے ان بنیادی حقوق کے اطلاق کی بات نہیں کی جس کی ضمانت آرٹیکل 184(3)دی گئی ہے۔

ریاض حنیف راہی کی درخواست دو سال تک زیر التوا رہی۔ اچانک ایک روز سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے وکیل کو اپنے چیمبر میں سننے کے بعد اعتراضات کو ختم کر دیا اور فیصلہ کیا کہ ان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ اس درخواست کی سماعت کرے گا۔ تاہم اپریل، 2018 میں بینچ نے غیر متعلقہ ہونے کے باعث درخواست مسترد کردی اور فیصلہ دیا کہ جسٹس عیسیٰ اب سپریم کورٹ کے جج ہیں۔

جسٹس عیسیٰ نے سبی میں بلوچستان ہائی کورٹ دوبارہ کھلوائی جو کئی سالوں سے بند تھی۔ انہوں نے تربت میں بلوچستان ہائی کورٹ کی تعمیر کے لیے زمین حاصل کی اور اس کی عمارت کے ڈیزائن کی منظوری دی۔ انہوں نے بلوچستا ن ہائی کور ٹ میں افسران اور عہدیداروں کی شمولیت کا شفاف نظام متعارف کرایا۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ، پشین کے مرحوم قاضی محمد عیسیٰ کے بیٹے ہیں جو کہ تحریک پاکستان میں شامل تھے۔ جبکہ ان کے دادا قاضی جلال الدین ریاست قلات کے وزیر اعظم تھے۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے والد صوبے کی پہلی شخصیت تھے جس نے برطانیہ سے بیرسٹر کی ڈگری حاصل کی تھی۔ انہیں قائد اعظم نے صوبائی لیگ کا صدر نامزد کیا تھا اور وہ آل انڈیا مسلم لیگ کی سینٹرل ورکنگ کمیٹی یں بلوچستان سے واحد رکن تھے۔

Facebook Comments HS