کند ذہن خوش قسمت مرد اور کوڑیوں کے بھاؤ بکتی لڑکیاں

\"saleem

”عورت ذات ہے غلطی کرتی ہے۔ اگر یہ غلطی کرے تم بجلی کا کرنٹ لگا کر اسے مار دینا۔ میں اس سے چھوٹی والی آپ کو دے دوں گا۔“ سوات کے ارد گرد کا کوئی علاقہ تھا۔ پانچ لوگوں پر مشتمل ایک بارات کہیں دور سے آئی ہوئی تھی۔ دولہا کی عمر کوئی ستر برس کے لگ بھگ ہو گی۔ وہ پندرہ سال کی روتی ہوئی دولہن کو لے کر رخصت ہونے لگے تو دولہن کے باپ نے اپنے سے پندرہ سال بڑے داماد کو یہ نصیحت فرمائی۔

کئی سال پہلے کی بات ہے کہ عورتوں اور بچوں کے خلاف تفریق اور تشدد کے خاتمے کے لئے کام کرنے والی ایک سماجی تنظیم ”بیداری“ نے تحصیل کلر کہار ضلح چکوال کے چند گاؤں کا سروے کیا۔ سروے کا مقصد ایسی خواتین سے ملنا تھا جو دور دراز علاقوں سے شادی کے نام پر خرید کر لائی گئی تھیں۔ یعنی ان کی شادیوں کا موجب عام شادیوں کی طرح کوئی رشتہ داری، جان پہچان یا محبت نہ تھی بلکہ وہ روپے تھے جو دولہا کی جانب سے دلہن کی فیملی کے مردوں نے وصول پائے۔ یہ شادیاں ”وچولن“ خواتین نے نہیں کروائی تھیں بلکہ مرد ایجنٹوں کی مدد سے دلہن کا باقاعدہ بھاؤ طے کر کے ہوئی تھیں۔ اور ایجنٹ نے اپنا معاوضہ الگ وصول کیا تھا۔

اس مہم کے دوران 44 خواتین سے ملاقاتیں ہوئیں۔ ان خواتین میں سے زیادہ تر سوات اور اس کے ملحقہ علاقوں سے تعلق رکھتی تھیں۔ یہ تمام خواتین جب شادی ہو کر آئی تھیں تو ان کی عمریں 15 سال لے لگ بھگ تھیں۔ انہوں نے شادی سے پہلے اپنے دولہے کی کبھی شکل نہ دیکھی تھی نہ ہی کبھی اس کا نام سنا تھا۔ وہ دولہے کی عمر، پیشہ یا اس کی ازدواجی حیثیت تک کے متعلق کچھ نہیں جانتی تھیں۔ ظاہر ہے ان تمام شادیوں میں لڑکیوں سے ان کی مرضی بھی نہیں پوچھی گئی تھی۔ نکاح کے وقت زاروقطار روتے رہنے کو ہی ہاں سمجھا گیا تھا۔

\"young-girl-bride\"

انٹرویو کے دوران شروع کے دنوں کا ذکر کرتے ہوئے اکثر رو پڑتیں۔ اس خوف کو یاد کر کے لرز جاتیں جس کے ساتھ وہ شادی کے بعد پہلی مرتبہ اس اجنبی دیس کو لائی گئی تھیں۔۔ یہ نووارد دلہنیں چونکہ چکوال کی لوکل زبان سے بالکل ناواقف تھیں اور یہاں کے لوگ، ان کے دولہا سمیت، ان کی زبان نہیں جانتےتھے اس لئے وہ سارے محلے بلکہ گاؤں کا مذاق بنی ہوئی تھیں۔ کیا ہو رہا ہے انہیں کچھ سمجھ نہ آتا تھا۔ لوگ ان پر ہنستے اور مذاق اڑاتے یا ترس کھاتے۔ یہی دو قسم کے جذبات تھے جو زبان جانے بغیر بھی بالکل صاف دکھائی دیتے تھے۔ ان لڑکیوں کو یہ سب یاد تھا چاہے جتنا بھی پرانا تھا۔

یہ ساری لڑکیاں، جب آئی تھیں تو، کم عمر تھیں۔ چکوال کے لوگوں سے زیادہ گوری چٹی تھیں لہٰذا بہت خوب صورت سمجھی جاتی تھیں۔ ان پڑہ اور بے بس تھیں۔ ڈری اور سہمی تھیں۔ اپنی مرضی سے نہیں آئی تھیں۔ یہاں ان کا کوئی رشتہ دار یا دوست نہ تھا۔ والدین یا بہن بھائیوں سے رابطہ بہت کم ہوتا تھا۔ اکثریت نے خودکشی کا سوچا۔ ایک دو نے تو کوشش بھی کی۔ ہر لڑکی ایک الگ کہانی تھی دکھوں سے بھری ہوئی کہانی۔ ہر انٹرویو رونے پر ختم ہوتا۔ انٹرویو کرنے والی اور انٹرویو دینے والی دونوں ہی رو رہی ہوتیں۔

ان شادیوں کے دولہے بھی سارے گاؤں سے الگ تھلگ تھے۔ ظاہر ہے یہ وہ لوگ تھے جنہیں اپنی کمیونٹی سے شادی کا کوئی امکان نظر نہیں آتا تھا یا وہ شادی کے لائق نہیں تھے۔ ان سارے مردوں کے ان فٹ ہونے کی وجہ ان کا ذہنی طور پر ٹھیک نہ ہونا تھا۔ کافی تو پیدائشی طور پر ہی ذہنی کمزوری کا شکار تھے۔ ایسے لوگوں کو نفسیات دان ”سلو لرنر“ کہتے ہیں۔ ان لوگوں میں سے اکثر کو سکول جانے کا موقع ملا مگر کبھی پرائمری پاس نہ کر سکے۔ ان میں سے کئی لوگوں کو تو اپنی کمیونٹی میں بھی ایک آدھ شادی کا بھی موقع ملا لیکن وہ چل نہ سکی۔ کیونکہ لڑکی نے کسی نہ کسی طرح اپنی جان چھڑا لی تھی۔

\"child-bride\"دولہوں کی دوسری قسم ان بوڑھے لوگوں پر مشتمل تھی جو سٹھیا گئے۔ یہ وہ لوگ تھے جن کی اولادیں بڑی ہو گئیں۔ شادیاں کر کے الگ ہو گئیں۔ وہ بوڑھے اکثر بہت تیز مزاج اور غصے والے تھے اور اپنے بیوی بچوں کے ساتھ ان کا سلوک اچھا نہ تھا۔ لہٰذہ بیوی اگر زندہ تھی تو بھی اپنی اولاد کے ساتھ چلی گئی اور یہ بوڑھے اکیلے رھ گئے۔ یہ بوڑھے ایجنٹوں کا شکار ہوئے اور اپنی جمع پونجی لگا کر شادی کے نام پر لڑکی خرید لائے۔ ایسے واقعات میں دولہا اور دلہن کی عمروں میں فرق بچاس سال سے بھی زیادہ ہو سکتا تھا۔

ایسی ہی ایک شادی اس سروے سے چند ماہ قبل ہی ہوئی لیکن ”ناکام“ ہو گئی تھی۔ بس محلے کے لوگوں نے ہی واقعہ سنایا۔ یہ صاحب پیدائشی ذہنی کمزوری کا شکار تھے۔ ان کی عمر پچاس سے اوپر تھی۔ ان کے لئے گھر والے ایجنٹ کی مدد سے کوئی بارہ تیرہ سال کی بچی خرید لائے۔ بارات کی واپسی کا سفر کوئی دس گھنٹے کا تھا۔ سارے اجنبیوں کے ساتھ اس سفر میں بچی سوتی رہی یا روتی رہی۔ وہاں پہنچ کر بھی بچی مسلسل روتی رہی اور کچھ کھانے پینے سے بھی انکار کر دیا۔ دو اڑھائی دن مسلسل روتا دیکھ کر محلے کے لوگ اکٹھے ہو گئے اور گھر والوں سے احتجاج کیا کہ وہ یہ ظلم نہ کریں اور بچی کو اس کے والدین کے حوالے کر آئیں۔ گھر والے بھی اللہ کے عذاب سے کچھ ڈر گئے تھے لہٰذا وہ بچی کو واپس اس کے والدین کے گھر چھوڑ آئے۔ کہتے ہیں بچی کے والد نے بچی کو ڈرا اور مار کر واپس ساتھ بھیجنے کی کوشش کی۔ اسے ڈر تھا کہ یہ لوگ بچی واپس ہو جانے کی وجہ سے پیسوں کی واپسی کا مطالبہ بھی کریں گے۔ جب اسے لگا کہ پیسوں کا مطالبہ اتنا شدید نہیں ہے تو اس نے اپنی بچی کو واپس قبول کر لیا۔

ایک گاؤں جس میں آدھا درجن ایسی خواتیں کے انٹرویو کیے گئے تھے وہاں کے معززین سے بھی اس مسئلے کے متعلق گفتگو کرنے کا موقع ملا۔ ایک شریف آدمی نے نچوڑ پیش کیا۔ اس کا کہنا تھا کہ اس گاؤں کے جتنے بھی مرد ذہنی طور پر ہلکی معذوری کی حد تک کمزور ہیں اور اپنا خیال رکھنے سے قاصر ہیں وہ شادیوں کے حوالے سے بڑے خوش قسمت ہیں۔ سب کو ایک سے زیادہ شادیوں کا موقع ملا ہے۔ یہ تو ایجنٹ بہت پیسے کھا جاتا ورنہ لڑکی تو کوڑیوں کے بھاؤ آتی ہے اور ساری زندگی غلاموں کی طرھ کام کرتی ہے اور بچے بھی پیدا کرتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words