غریب کا بیانیہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سفید داڑھی، گوری گلابی رنگت اور اجلے سفید کپڑوں میں ملبوس حاجی بادشاہ نے جب بولنا شروع کیا تو مجھے ہو چی منہ، ماﺅزے تنگ، چی گویرا اور مارکس یاد آ گئے۔ وہ کہہ رہے تھے ” پاکستان کے بائیس کروڑ لوگوں میں سے امیر لوگ کتنے ہوں گے ؟ ڈیڑھ دو کروڑ؟ اکثریت میں تو ہم ہیں۔ ہمارے بغیر ان لوگوں کا گزارہ بھی تو نہیں ہوتا۔ ان کے بچوں کو ہماری عورتیں سنبھالتی ہیں، ان کے گھروں میں کام کرتی ہیں، ہم ان کے گھروں میں ڈرائیوری کرتے ہیں، ان کے گھروں کی چوکیداری کرتے ہیں۔ لیکن ان کے اور ہمارے درمیان فرق کتنا ہے۔ یہ اتنے بڑے بڑے گھروں میں رہتے ہیں اور ہمارے چھوٹے گھروں کو بھی توڑا جا رہا ہے۔ میں تو کہتا ہوں کہ حکومت ان سارے امیر لوگوں پر ہزاروں گز کے گھر میں رہنے کے بجائے 240 گز کے گھروں میں رہنے کی پابندی عائد کرے اور ہم جیسے غریبوں کو 120 گز کے گھر بنا کردے۔

حاجی بادشاہ سرکلر ریلوے کی بحالی کے لئے رہائشی علاقوں کے انہدام کے متاثرین کی کمیٹی کے سربراہ ہیں۔ سرکلرریلوے کے آس پاس تین نسلوں سے لوگ آباد ہیں۔ وہ بجا طور پر توقع کرتے ہیں کہ حکومت انہیں متبادل جگہ فراہم کرے گی۔ سپریم کوٹ نے حکومت کو 15 دن کے اندر اندر سرکلر ریلوے پر بنے ہوئے مکانات ہٹانے اور ایک سال کے اندر متاثرین کو رہائشی جگہ فراہم کرنے کے لئے کہا ہے۔ اب یہ لوگ پریشان ہیں کہ ایک سال تک وہ کیا کریں گے اور کہاں جائیں گے۔ ان میں سے کچھ لوگ ابھی تک اپنے منہدم مکانات کے ملبے پر اپنے بیوی بچوں اور سامان کے ساتھ بیٹھے ہیں۔

ریلوے حکام نے بائیس مئی کو سندھ حکومت کے ٹرانسپورٹ سیکریٹری کو خط لکھ کر سرکلر ریلوے کے پراجیکٹ کے لئے ریلوے کی زمین خالی کرانے کو کہا تھا۔ سرکلر ریلوے کی بحالی پاکستان چین اقتصادی راہداری کا حصہ بھی ہے۔ سندھ حکومت نے ریلوے حکام سے کہا ہے کہ عدالت کے حکم پر عملدر آمد کو یقینی بنایا جائے۔ نومبر 2018ء میں شیخ رشید نے کہا تھا کہ جن لوگوں کے گھر منہدم کئے جائیں گے، انہیں معاوضہ ادا کیا جائے گا بشرطیکہ ریلوے کے پاس فنڈز ہوئے۔ انہوں نے تجویز پیش کی تھی کہ حکومت متاثرین کو گھر بنا کر دے۔

کسی بھی ترقیاتی منصوبے کے لئے لوگوں کے گھر گرانا آسان نہیں ہوتا، اس کے اقتصادی اور سیاسی ہی نہیں جذباتی مضمرات بھی ہوتے ہیں، ویسے بھی یہ رمضان کا مہینا اور عید سر پر ہے، متاثرین کا کہنا ہے کہ کم از کم عید تک تو انہیں اپنے گھروں میں رہنے دیا جائے۔ بدھ 29 مئی کو ریلوے کی پٹری کے پاس پچاس فٹ کے فاصلے کے اندر اندر سو کے قریب رہائشی مکانات اور پختہ عمارتیں گرائی گئیں۔ یہ آپریشن کا بارھواں دن تھا جس میں ریلوے حکام، ضلعی انتظامیہ اور پولیس حصہ لے رہی ہے، سماجی و ثقافتی وجوہات کی وجہ سے لیڈی پولیس کو بھی اس میں شامل کیا گیا ہے۔

ناظم آباد ریلوے ٹریک کے آس پاس ڈیڑھ سو پختہ مکانات موجود ہیں جنہیں مسمار کیا جائے گا جب کہ ڈسٹرکٹ سنٹرل میں پچھتر فی صد آپریشن مکمل ہو چکا ہے۔ متاثرین متبادل جگہوں کی تلاش میں ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق دس ہزار مکانات گرائے جائیں گے۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ سپریم کورٹ کے حکم کے نتیجے میں ایک ہنگامی صورتحال پیدا ہو گئی ہے مگر عام حالات میں بھی رہائش لوگوں کی بنیادی ضرورت ہے۔ روٹی، کپڑا اور مکان کا نعرہ لوگوں میں ہمیشہ سے مقبول رہا ہے۔ حکومتوں نے رہائشی مکانات کی فراہمی کو سیاسی نعرے کے طور پر تو استعمال کیا ہے لیکن عملی طور پر کچھ نہیں کیا، اگر کیا ہوتا تو آج ہمیں جگہ جگہ کچی آبادیاں نظر نہ آتیں۔ کراچی میں امیروں کے رہائشی علاقوں کے آس پاس آپ کو کچی بستیاں اور غیر قانونی آبادیاں نظر آئیں گی جو امیروں کو گھریلو ملازم، چوکیدار اور ڈرائیور فراہم کرتی ہیں۔ پلمبر، الیکٹریشن اور مکینک بھی یہاں سے ملتے ہیں اور حاجی بادشاہ کے بقول ان کے بغیر امیروں کا گزارہ بھی تو نہیں۔

ہم فری مارکیٹ اکونومی اور نیو لبرل ازم کے متحمل نہیں ہو سکتے، حکومت کو غریب عوام کو رہائش، تعلیم اور صحت کی سہولیات فراہم کرنا ہوں گی۔ آخر حکومت نے پنج سالہ منصوبے بنانے کیوں چھوڑ دئیے ہیں۔ ریاست کو ماں کا کردار ادا کرنا پڑے گا۔ حکمرانوں کو عوام کے مسائل جاننا ہوں گے اور انہیں حل کرنا ہو گا۔ منافع خوروں اور بلڈرز مافیا سے عوام کی جان چھڑانا ہو گی۔

عالمی نقطہءنظر سے بھی دیکھا جائے تو 2007- 2008ء کا مالیاتی بحران رہائشی مکانات کیلئے لئے گئے قرضوں کی عدم ادائیگی کی وجہ سے شروع ہوا تھا۔ بیشمار افراد کو اپنے مکانات چھوڑنے پڑے تھے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو اکیسویں صدی کا سب سے بڑا مسئلہ رہائش کا مسئلہ ہے۔ ہمارے نظام میں رہائشی مکانات بھی منافع کی خاطر بنائے اور بیچے جانے والی اشیا میں سے ایک ہیں اور اس کے نتیجے میں سماجی بحران پیدا ہوا ہے۔ ریاست اور حکومت کو اس بحران سے نکلنے کا راستا ڈھونڈنا ہو گا۔ سرمایہ دارانہ اقتصادی بحران کا حل اگر آپ کسی مارکسی ماہر اقتصادیات سے پوچھیں تو اس کا جواب ہو گا: ”بینکوں اور مالیاتی نظام کو قومیایا جائے تا کہ وسائل اس سماجی ضرورت پر صرف کئے جائیں۔ “

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •