جسٹس فائز عیسیٰ کا ایک اور گناہ جو قابل قبول نہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر لگے دو الزامات یا یوں کہیے ان سے منسوب دو شکایات سے تو آپ سب ہی واقف ہیں ۔ ایک شکایت یہ ہے کہ انھوں نے کوئٹہ کے وکلاء پر خود کش حملے کی تحقیقاتی رپورٹ لکھتے ہوئے سرخ لکیر کو عبور کیا ہے اور دوسرا الزام ان پر فیض آباد دھرنا کیس کے فیصلے میں پس چلمن پردہ نشینوں کو طشت ازبام کرکے حد فاصل کا خیال نہ رکھنے کا ہے ۔ مگر میں ان کے ایک اور گناہ کا ذکر کرنا چاہتاہوں جو کبھی ان کے کسی فیصلے یا رپورٹ میں تو نہیں آیا مگر ان کے کردار اور گفتار سے ہمیشہ چھلکتا رہا ۔ ہر گناہ گار کی طرح ان کو اپنے اس گناہ سے پیار بھی بہت ہے اور وہ یہ گناہ تاحیات کرتے رہنا بھی چاہتا ہے۔

حکومت پاکستان کی وزارات انسانی حقوق نے بھی ایک سرکاری نیشنل کمیشن آف ہیو من رائٹس آف پاکستان بنائی ہوئی ہے ۔ اس کمیشن کے بنانے کا مقصد ملک میں انسانی حقوق کا تحفظ ہے یا غیر سرکاری اور غیر سیاسی ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے انسانی حقوق پر بے باک اور مبنی بر حقائق متوازی بیانیہ کو زائل کرنے کی سرکاری کوشش یہ اس تحریر کا موضوع نہیں ، اس کمیشن کے ذکرسے یہاں صرف ان دو مختلف اداروں میں تخصیص مقصود ہے۔

سرکاری ہیومن رائٹس کمیشن کی طرف سے گزشتہ سال اسلام آباد میں انسانی حقوق پرایک بین الاقوامی سمپوزیم کا اہتمام کیا گیا تھا جس میں مقامی شرکاء کے علاوہ کچھ دیگرممالک کے سرکاری بابو ٹائپ مندوبین اور پاکستان میں موجود اقوام متحدہ اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے مندوبین اور غیر سرکاری تنظیمیوں کے کچھ لوگ بھی مدعو تھے۔ اس سمپوزیم میں موضوعات کا انتخاب بڑی احتیاط سے کیا گیا تھا اور سوال کرنے والوں نے بھی کوئی ایسا سوال نہیں پوچھا جس میں غیر انسانی حقوق کی باتیں ہوں اور ملک کے روشن چہرے پر کسی قسم کے داغ لگنے کا خطرہ ہو۔

مذکورہ سمپوزیم کے ایک سیشن میں شرکاء کی پہلی صف میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو براجمان دیکھ کر میں نے بھی یہ سوچ کر نظر انداز کردیا تھا کہ وہ بھی شائد سمپوزیم منعقد کرنے والوں کے کاندھے پر قانون کی تھپکی دینے آئے ہوں گے۔ جسٹس فائز کو دعوت خطاب دینے سے قبل میزبان نےان کا تعارف بھی جس انداز میں کروا دیا اس سے بھی میرے اندازوں کو تقویت ملی تھی۔ مگر جب وہ روسٹرم پر آئے اور ایک لگی پٹی تقریر کے بجائے اپنے کمپیوٹر کی مدد سے پھنڈر جھیل کی تصویر سمپوزیم کے ہال کے چاروں کونوں پر لگی سکرینوں پر جگمگائی تو میں نے بھی باہر جاکر سگریٹ پینے کا ارادہ ترک کردیا۔

جسٹس فائز نے کچھ اس طرح کے کلمات سے اپنی بات کا آغاز کیا کہ وہ اس محفل میں بطور جج سپریم کورٹ آف پاکستان شریک نہیں ہوئے بلکہ گلگت بلتستان کے وکیل کے طور پر وہاں ہونے والی ماحولیاتی تباہی کا مقدمہ پیش کرنے آئے ہیں جس سے پورا ملک اور دنیا کو بھی خطرات درپیش ہیں۔ ان کی گفتگو کا سفر دیامر سے شروع ہوا وہاں پر ہونے والی جنگلات کی تباہی کا تصویری شواہد کے ساتھ مقدمہ پیش کرنے کے بعد عطا آباد کی جھیل اور دیگر تمام حقائق سامنے رکھ دئے اور ساتھ ہی اس تباہی کی وجوہات بھی بیان کردیں۔

گو کہ یہ ایک عام سی پریزنٹیشن تھی جو عموماً ماحولیات اور موسمیاتی تبدیلی کے موضوع پر کسی بھی سمینار یا کانفرنس کا لازمی حصہ ہوتی ہے مگر یہاں مقدمہ پیش کرنے والا کسی این جی او کا اہلکار یا کسی بین الاقوامی ادارے کا ماہر و مبصر نہیں بلکہ ملک کی سب سے بڑی عدالت کے مستقبل کا چیف جسٹس تھا۔ عام طور ایسی شخصیات کوایسی تقریبات میں اس لئے مدعو کیا جاتا ہے کہ ان سامنے سفارشات رکھی جائیں تاکہ وہ قانون و پالیسی میں بدل سکیں مگر یہاں بات بالکل ہی الٹی تھی ایک جج مقدمہ لے کر آیا تھا اور دادرسی چاہتا تھا۔

ملک کی سب سے بڑی عدالت کے ایک جسٹس کا بطور وکیل مقدمہ لے کر ایک بین الاقوامی سمپوزیم میں پیش ہونا از خود بہت بڑی بے بسی کا مظہر تھا۔ جس عدالت کے ایک حکم پر ملک کا وزیر اعظم جیل جا سکتا ہو، پھانسی چڑھتا ہو اور قانون تبدیل ہو سکتا ہو اس کا جج کہتا ہے کہ وہ بھی بطور جسٹس کچھ نہیں کر سکتا ہے تو اس سے مقدمہ کی پیچیدگی کی نوعیت کا اندازہ لگانا مشکل نہیں تھا اور نہ ہی جج کی اس مقدمے سے دلی وابستگی کوئی ڈھکی چھپی بات تھی۔

اس واقعہ کے کچھ عرصے بعد پاکستان کی میڈیا میں زور و شور سے چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار کے کروفر کے ساتھ گلگت بلتستان کے دورے کی خبریں آنے لگیں۔ چیف جسٹس نے دیامر بھاشا ڈیم کی مجوزہ جگہ پر جاکر ڈیم کی اہمیت پر بھاشن دیا اورڈیم کی چوکیداری کرنے کا عہد بھی کیا۔ مختلف جگہوں پر لوگوں سے ملے ان میں سے80 سال کے لئے بغیر کسی گناہ کے ضمیر کے قیدی بابا جان کی والدہ بھی شامل تھی جو اپنے بیٹے کی رہائی کے لئے فریاد کر رہی تھی۔ مگر منصف اعلیٰ کے وعدوں کے باوجود وہ آج بھی پابند سلاسل ہے۔ اس دورے کے دوران میڈیا میں مسلسل چیف جسٹس آف پاکستان کی عوامی رابطہ مہم کا چرچا رہا ۔ اس دوران ثاقب نثار صاحب کی کہیں مقامی لوگوں کی میزبانی کی تعریفیں اور کہیں حب الوطنی کو داد اور کہیں لوگوں کے ساتھ مل کر رقص کی خبریں اور تصویری جھلکیاں منو رنجن کا سامان کرتی رہیں۔

اسلام آباد واپسی پر چیف جسٹس ثاقب نثار نے گلگت بلتستان کے قانونی اور آئینی مسئلے پر دائر کی گئی تمام درخواستوں کو جمع کرکے شنوائی کا آغاز کردیا اور یہ تاثر دیا کہ وہ ایک ایسا فیصلہ دینے والے ہیں کہ اس خطے کا دیرینہ مسئلہ حل اور تمام دلدر دور ہونے والے ہیں۔ مگرانتظامی حکم نامہ کی پرانی شراب عدالتی تائید کی نئی بوتل میں پیش کرنےاور ثاقب نثار صاحب کے ایک دوست اور سابق رفیق کار کو بعد از ریٹائرمنٹ دوبارہ سپریم کورٹ کے جج کے برابر تنخواہ اور مراعات کے ساتھ نوکری دینے کے کچھ نہ نکلا۔ خطے میں سپریم کورٹ کے تائید کردہ انتظامی حکم نامہ کے خلاف وکلاء سمیت تمام سیاسی تنظیمیں اب بھی سراپا احتجاج ہیں۔

جسٹس فائز عیسیٰ کی انسانی حقوق کے سمپوزیم میں گفتگو کے بعد میں ان سے چائے کے وقفے میں اس مقدمہ کو موثر انداز میں پیش کرنے پر مبارکباد دینے کے لئے ملا تو انھوں نے اپنی بیگم اور بچوں سے تعارف کرواتے ہو کہا کہ ًان سے ملو یہ ہمارے لوگ ہیں گلگت بلتستان سےآئے ہیںً۔ مجھے جسٹس صاحب کے ساتھ بے تکلف گفتگو کرتے دیکھ کر ایک دوست نے جملہ کسا کہ اًحتیاط کرنا کہ کہیں توہین عدالت نہ ہو جائےً ۔ اس پر قاضی فائز عیسیٰ صاحب نے برجستہ جواب دیا کہ ًمیں چاہوں تو بھی اس کے خلاف کچھ نہیں کرسکتا کیونکہ یہ بطور شہری میری عدالت کے دائرہ کار میں نہیں آتاً۔ یہ وہ حقیقت ہے جو ثاقب نثار کو گلگت بلتستان کا مقدمہ چلانے کے بعد آخر میں سمجھ آگئی تھی۔

جسٹس فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ وہ گلگت بلتستان اور وہاں کے لوگوں سے پیار کرتے ہیں اور مستقل طور پر پھنڈر جیسی کسی جگہ رہنا ان کی خواہش ہے۔ وہ ہر وقت برف پوش پہاڑوں کی اونچائی، بہتی دودھیا نہروں کی جلترنگ اور نیلگوں جھیلوں کی گہرائی میں کھوئے رہتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اگر وہ ان لوگوں اور علاقے کے لئے کچھ نہیں کرسکتے ہیں تو کیا ہوا وہ ان کے ساتھ کھڑے تو رہ سکتے ہیں۔ گلگت بلتستان سے محبت ان کا وہ گناہ ہے جو وہ کرتے رہنا چاہتے ہیں مگر شاید ان قوتوں کو جو گلگت بلتستان کے لوگوں کے بنیادی حقوق کے راستے میں حائل ہیں ان کو کو یہ بھی قابل قبول نہ ہو۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

علی احمد جان

علی احمد جان سماجی ترقی اور ماحولیات کے شعبے سے منسلک ہیں۔ گھومنے پھرنے کے شوقین ہیں، کو ہ نوردی سے بھی شغف ہے، لوگوں سے مل کر ہمیشہ خوش ہوتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہر شخص ایک کتاب ہے۔ بلا سوچے لکھتے ہیں کیونکہ جو سوچتے ہیں, وہ لکھ نہیں سکتے۔

ali-ahmad-jan has 192 posts and counting.See all posts by ali-ahmad-jan