اٹھ رخت سفر باندھ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میں شخصیت کے حوالے سے مضطرب انسان ہوں جسے آپ Hyperactive یا Mildly autistic بھی لیبل کر سکتے ہیں۔ میں کتاب پڑھتے پڑھتے اس کے کسی لفظ پہ فقرہ پورا پڑھے بن مطالعہ ترک کر سکتا ہوں۔ کتاب کے اختتام پر تو ویسے ہی جھنجھلایا ہوتا ہوں معلوم نہیں میں نے سوا سات سو صفحات کی کتاب کیونکر لکھی اور ہاں ایک بالکل مختلف وصف بھی ہے مجھ میں کہ کچھ ٹھان لوں تو نتیجہ تک پہنچے بن، چاہے غلط ہو یا درست، سود مند ہو یا مبنی بر خسارہ، میں چین سے نہیں بیٹھتا دوسرے یہ کہ میں بالعموم کسی سے یعنی باقاعدہ کسی سے محبوب ہو یا حبیب، بچے ہوں یا بڑے بہن بھائی، دوست ہوں یا اغیار وعدہ نہیں کرتا، ہمیشہ کہہ دیتا ہوں کوشش کروں گا لیکن اگر وعدہ کر لیتا ہوں تو طبع پر چاہے جتنی گرانی گزرے، وعدہ پورا کرتا ہوں۔

عزیزی زاہد کاظمی نے میری خود نوشت کا پہلا دوسرا حصہ جو عشرہ سے زیادہ عرصے سے غیر مطبوعہ تھا کو شائع کرنے کی خواہش کے اظہار کے ساتھ یہ بھی پوچھا آپ کب پاکستان آئیں گے تاکہ کتاب کی رونمائی آپ کی موجودگی میں ہو۔ اس نے واپسی کی تاریخ پوچھی تو میرے منہ سے نکل گیا کہ بھئی تم نے کہا ہے تو رونمائی کے بعد ہی جاوں گا۔ پہلے مارچ کے دوسرے عشرے میں کتاب کی رونمائی کا پروگرام تھا۔ پھر اپریل کے دوسرے ہفتے کا پروگرام بنا مگر کتاب تھی کہ طباعت گھر اور پھر جلد ساز سے نکل کے نہیں دے رہی تھی۔

میں لاہور سے 9 اپریل کو ہی راولپنڈی پہنچ گیا۔ 17 اپریل کو میرا جی بہلانے کی خاطر کاظمی مجھے پہلے ہنزہ لے گیا اور پھر پشاور۔ کتاب کہیں اپریل کے اواخر میں ملی۔ ایک تو جن اصحاب کو رونمائی میں بولنا تھا، انہیں کتاب پڑھنے کو وقت چاہیے تھا اوپر سے ماہ رمضان المبارک شروع ہو گیا۔ یوں رونمائی کی تقریب عید کے بعد جا پڑی۔ میں نے زاہد سے کہا کہ روزے رکھنے کو معتدل یا سرد مقام ڈھونڈو۔ اس نے حامی بھری کہ ٹھنڈیانی میں اس کے دوست کا مکان ہے جہاں جتنا عرصہ چاہیں رہا جا سکتا ہے مگر زاہد فون پر طویل گفتگو، صبح تک جاگنے اور پھر سب بھول کر سونے اور سوتے رہنے کا رسیا ہے اس لیے آج تک ڈھنڈیانی نہ جا سکے البتہ ایک دوست ڈاکٹر مسرور کی کار میں ایبٹ آباد، نتھیا گلی اور اسلام آباد کے چکر لگتے رہے۔

زاہد کاظمی اور اس کی اہلیہ نے مجھے گھر میں ہر وہ سہولت مہیا کی جو وہ کر سکتے تھے یعنی ٹھنڈا کمرہ، باقاعدہ افطاری و سحری کا اہتمام، نہانے کو پانی گرم کرکے ٹب میں ڈال کر غسل خانے میں رکھنا وغیرہ۔ آج تک گرم پانی سے ہی نہایا ہوں۔ ان سہولتوں کے علاوہ بے تحاشا کتابیں دستیاب۔ دو ایک مکمل پڑھ سکا، کئی ایک کی ورق گردانی کی۔

زندگی میں شاید ہی میں کسی اور کے ہاں اتنا عرصہ رہ پایا ہوں جتنا عرصہ میں زاہد کاظمی کے ہاں مقیم رہا ہوں البتہ آج رات میں ڈائیوو بس سے ہری پور سے ملتان اور آگے اپنے آبائی قصبے علی پور جا رہا ہوں۔ وہاں 47 ڈگری سنٹی گریڈ کی گرمی کا سن کے جی کانپ رہا ہے مگر مجھے عید منانے بہر طور گھر جانا ہے جہاں مقیم بڑے بھائی کی عمر 86 برس ہے اور بہنوں کی بالترتیب 80 اور 79 برس، میں بھی کم معمر نہیں ہوں، سات ماہ بعد 68 برس پورے ہو جائیں گے انشا اللہ۔

مگر ہری پور سے روانگی ایک بار پھر لوٹنے کی خاطر ہے کیونکہ خودنوشت کی رونمائی کی ایک تقریب بارہ یا تیرہ جون کو بے نظیر ہال ہری پور میں اور دوسری تقریب بحریہ ٹاون اسلام کے فیز 6 میں واقع Coffe Planet میں 15 جون کو ہونا طے ہے۔ افتخار عارف صاحب، محمد حمید شاہد صاحب آنے کا وعدہ کر چکے ہیں۔ عاصم بخشی صاحب، عثمان قاضی صاحب اور روف کلاسرہ کی آمد بھی عین متوقع ہے۔ اسلام آباد میں موجود دوست تو خیر سے اس تقریب میں ہوں گے ہی۔ میری خواہش ہے کہ لاہور سے وجاہت مسعود اور ناصر عباس نیر بھی تشریف لائیں مگر یہ ان کی گوناگوں مصروفیات پر مبنی ہے کہ وہ وقت نکال سکیں یا نہ۔

15 جون کی تقریب کے بعد کسی مناسب تاریخ کی فضائی ٹکٹ خرید کر ماسکو مراجعت کا بندوبست کیا جائے گا۔ دعا کیجیے میں لاہور کی گرمی برداشت کر پاوں۔ فیس بک پر دیکھا تھا کہ درجہ حرارت 48 ڈگری تک جا چکا ہے۔ ادھر ہری پور میں کم از کم رات تو اب تک ٹھنڈی رہی۔ مگر مسافر تو مسافر ہوتے ہیں جنہیں سارے موسم سہنے پڑتے ہیں تبھی تو طرح طرح کے لوگوں سے ملاقاتیں ہوتی ہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •