تین میں سے ایک خاتون جنسی یا جسمانی تشدد کا نشانہ بنتی ہے
بین الاقوامی خبر رساں ادارے تھامسن رائٹرز فاونڈیشن (ٹی آر ایف) کے سروے کے مطابق دنیا بھر میں ہر تین میں سے ایک خاتون کو زندگی میں کبھی نہ کبھی جنسی یا جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ٹی آر ایف نے 2018 میں خواتین کے لیے خطرناک ترین ثابت ہونے والے ممالک کی جو فہرست جاری کی ان میں بھارت، افغانستان، شام اور صومالیہ سمیت پاکستان بھی چھٹے نمبر ہے۔ یاد رہے کہ مغربی ممالک کے بر عکس ہمارے ہاں ایسے واقعات کو رپورٹ نہیں کیا جاتا بلکہ حتی الا مکان چھپانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ لہٰذا اصل تعداد کہیں زیادہ بھی ہو سکتی ہے۔
کہتے ہیں کہ انسان ترقی کر رہا ہے۔ پہلے انسان غاروں میں رہتا تھا، کچی پکی خوراک کھاتا تھا۔ جانوروں سے ملتی جلتی زندگی گزارتا تھا۔ آج مہذب معاشرے وجود میں آ چکے ہیں۔ اب انسان مہذب ہو چکا ہے مگر روز بہ روز بڑھتے ہوئے جنسی تشدد کے واقعات کچھ اور ہی کہانی سناتے ہیں۔ بڑھتی ہوئی جنسی بھوک انسان کو انسانیت کے معیار سے گرا رہی ہے۔ لڑکیوں اور عورتوں کے ساتھ ساتھ اب تو معصوم بچوں اور بچیوں کے ریپ، اغوا اور قتل کے واقعات میں بہت تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔
ہمارے ہاں ایسے واقعات پر انٹر نیٹ، فلموں، ڈراموں، گانوں، ڈانسز اور بولڈ اشتہارات وغیرہ کو سب سے بڑا محرک قرار دیا جاتا ہے۔ اس خیال کے حامی افراد کے نزدیک چونکہ انٹرنیٹ کے ذریعے فحش ویڈیوز تک رسائی بہت آسان ہے لہٰذا انہیں دیکھ کر انسان جنسی درندے بن جاتے ہیں۔
ذرا سوچ کی گہرائی سے کام لیا جائے تو اندازہ ہو گا کہ اس طرح کے واقعات میں ملوث کتنے افراد ہوں گے جو انٹرنیٹ، فلموں، ڈانسز اور گانوں سے متاثر ہو کر جانور کا روپ دھارتے ہیں۔ زینب کیس کا مجرم تو محلے میں دیندار شخص کے طور پر مشہور تھا۔ ایسے واقعات تو ہر جگہ ہوتے ہیں۔ شہروں، دیہاتوں، گلی، محلوں اورمدرسوں میں بھی حیوانیت کے مظاہرے ہوتے ہیں۔
ایسے واقعات کا تعلق لڑکیوں کے لباس سے جوڑنا بھی درست نہیں۔ اگر لڑکیوں کے مختصر کپڑوں سے تعلق ہوتا تو پھر مغربی معاشروں میں ایسی حیوانیت کئی سو فی صد زیادہ ہوتی۔ یہ کہاں کا انصاف ہے کہ ملک کی نصف آبادی کوگھروں میں قید کر دیا جائے۔ لڑکیوں کے پردہ کرنے یا نہ کرنے سے مردوں کے ذہنوں اور آنکھوں میں موجود درندگی اور ہوس کم نہیں ہوتی جو جنسی جرائم کا موجب بنتی ہے۔
دراصل ہمارا معاشرہ گھٹن کا شکار ہے۔ فرسٹریشن کے شکار افراد انسان سے حیوان بن کر اسی طرح اپنے سفلی جذبات کی تسکین کرتے ہیں۔ جس نوجوان نے عہدِ شباب تک کسی لڑکی سے بات تک نہ کی ہو اس کے لیے لڑکی جنسی بھوک مٹانے کی شے سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتی۔ وہ لڑکی کو انسان سمجھنے سے قاصر ہوتا ہے۔
ہمارے ہاں نوجوانوں کے لئے تفریح کے مواقع نہ ہونے کے برابر ہیں۔ تفریح، تعلیم اور تخلیق کے بہتر مواقع میسر ہوں تو نوجوان اپنی توانائیاں مجرمانہ اور غیر تعمیری کاموں میں ضائع نہیں کریں گے۔ ہمیں اپنے نوجوانوں کو ایسا معاشرہ دینا چاہیے جہاں نوجوان سیر و سیاحت کے مقامات پر، کھیل کے میدانوں میں، سینما گھروں میں جا کر کتھارسس کریں۔ میوزک، ڈانس، مصوری، شاعری اور ادبی تخلیقات بھی احساسات اور جذبات کو تسکین پہنچاتے ہیں۔
محض اخلاقی لیکچر دینے اور عورتوں کو بند کر دینے سے آپ جبلی خواہشات کے آگے بند نہیں باندھ سکتے۔ اندرونی غبار اور ذہنی انتشار کا باہر نکلنا ضروری ہے بصورتِ دیگر گھٹن بڑھ کر سنگین نتائج کا پیش خیمہ ثابت ہوتی ہے۔
چونکہ ہمارے ہاں ایسی سوچ کو غلط سمجھا جاتا ہے اسی لئے ہم انسان سے جانور بنتے جا رہے ہیں۔ ہر انسانیت سوز واقعے پر سارا زور اس بات پر ہوتا ہے کہ لڑکیوں اور عورتوں کو باہر نہ نکلنے دیا جائے۔ مجرموں کو سرِ عام پھانسی دی جائے۔ فلم، ٹی وی، ڈراموں اور تفریح کے دیگر ذرائع پر پابندی عائد کر دی جائے وغیرہ۔ اس سوچ کو بدلنے کی ضرورت ہے اور ایسے واقعات کے اصل محرکات کا کھوج لگانے کی ضرورت ہے وگرنہ ہم انسانی معاشرے سے حیوانی معاشرے میں تبدیل ہوتے چلے جائیں گے۔


