ادب اور سماجی تبدیلی


میرے خیال میں ہمارے ادب اور ادیب کو اپنی توجہ ہستی اور وجود کی چھوٹی چھوٹی سرنگوں پر مرکوز کرنا پڑے گی۔ مگر یہ چیز معاشرے میں دیگر علوم کے ساتھ کسی حد تک مشروط رہی ہے۔ ”گلوبل ولیج“ کے باشندوں کے لیے اب یہ چیز اور بھی کم مشروط ہو گئی ہے۔ پس جدیدیت وغیرہ ہمارے ہاں اچانک اس انداز میں آئے اور اپنائے گئے ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔

البتہ یہ سوال اپنی جگہ مفہوم اور ہمارے مضمون کے موضوع سے براہ راست تعلق رکھتا ہے کہ کیا ادب بلا واسطہ یا بالواسطہ طور پر Potential معاشرے کی پیداوار اور حاصل ہے یا اسے تعمیر کرنے والے عناصر میں سے ایک؟ ماضی میں یہ اکثر حاصل یا نتیجے ہی کے طور پر نظر آیا ہے۔ مثلاً پیریکلیز (یونانی ڈرامہ نگار) کے عہد میں یونانی تہذیب عروج پر پہنچی اور مزید ایک سو سال کے لیے سقراط، ارسطو، افلاطون، یوری پیڈیز (یونانی ڈرامہ نگار) ، سوفوکلیز (یونانی ڈرامہ نگار) جیسوں کو جنم دیا۔ اس نے سارے ایتھنز میں عمارات بنانے کے کام پر لاکھوں دست کار لگائے اور اپنے عہد کی روح کو رفعت بخشی۔ لیکن آج صورت حال مختلف ہے، بلکہ بہت ہی مختلف۔ بیسویں صدی میں بھی سائنس اور فلسفہ آئن سٹائن کی پیروی میں خفیف ترین جزئیات تک اتر گیا ہے۔ سٹرِنگ تھیوری میں چھوٹے سے چھوٹے ذرات بھی شناخت کیے جا رہے ہیں۔ نظر نہ آنے والی لہریں ٹیلی ویژن، انٹرنیٹ اور موبائل کے ذریعہ ہماری صورت گری کر رہی ہیں۔ ہم ان لوگوں کے ادب اور آرٹ سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے جن کے ہاں پس جدیدیت (Postmodernism) کا دور دورہ ہے۔

ہم نے دیکھا کہ چند چینل اگر چاہیں تو چند پروگراموں کے ذریعہ آپ کے لوگوں کو بالکل نئے سانچے میں ڈھال سکتے ہیں۔ ایک جنون پوری قوم میں سرایت کر جاتا ہے اور لوگ اگلے نئے جنون کی آمد تک حواس باختہ رہتے ہیں۔ 11 ستمبر کے واقعات کے بعد سی این این اور دیگر چینلز پر ”وار آن امیریکا“ اور پھر ”وار آن ٹیرر“ جیسی سرخیاں پورے عہد کا مزاج طے کرنے کے لیے کافی تھیں۔ ایسی صورت میں ادب اور ادیب کا کردار تو دور کی بات ہے، کیا اس کی کوئی وقعت و اہمیت بھی تصور کی جا سکتی ہے؟ کیا عراق اور افغانستان میں اس وقت تخلیق کیا جا رہا ادب ان معاشروں کے مقدر پر کوئی خفیف ترین اثرات بھی مرتب کر سکتا ہے یا محض ایک کیتھارسس کا حیلہ ہی رہے گا۔ ایک یہودی شاعر نے بابلی اسیری کے زمانے میں لکھا تھا، ”اے یروشلم، اگر میں تجھے بھول جاؤں تو میرا داہنا ہاتھ اپنا ہنر بھول جائے۔ “ مگر یہودیوں کی بابلی اسیری اس وقت ختم ہوئی جب ایک رومن شہنشاہ نے انہیں واپس یروشلم جانے کی اجازت دی اور زمانۂ اسیری ختم ہوا۔ آج ہم جانتے ہیں کہ بابلی اسیری کے وقت ایک شاعر نے جلاوطنی کے کرب میں یہ لائنیں تخلیق کی تھیں۔ شاید ہمارا آج کا ادب مستقبل کے تجزیہ نگاروں اور تنقید نگاروں کے لیے ہماری تفہیم کا خام مال ہی فراہم کرے گا۔ منٹو نے اوپر مذکور مضمون میں یہ بھی کہا تھا: ”پرانی الماری کے کسی خانے سے ہاتھ بڑھا کر کوئی کتاب اٹھایے۔ بِیتے ہوئے زمانے کی نبض آپ کی انگلیوں کے نیچے دھڑکنے لگے گی۔ “

٭٭٭

البتہ جن پہلوؤں سے ہمیں ادب کا کردار فیصلہ کن اور ”اپنے عہد میں دھڑکتی ہوئی نبض“ دکھائی دیتا ہے وہاں اس کی وجہ معاشرے کی منظور کردہ اقدار سے مطابقت کا حامل ہونا ہے۔ مثلاً بچپن میں سنی، یا پڑھی یا دیکھی ہوئی کہانیاں اور فلمیں ہماری نسل در نسل چلی آ رہی امنگوں کا اظہار کرتی ہیں (نہ کہ کوئی نئی امنگ پیدا کرتی ہیں )

اسی لیے میں نے اوپر دو جگہوں پر ادب کو ایک محرک سے زیادہ ایک نتیجہ اور حاصل قرار دیا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ اکثر کسی ایک دور کی فکر اگلے دور میں ادب کا روپ دھارتی ہے۔ لیکن کیا اسے شعوری طور پر محرک اور کسی تبدیلی یا نئی سوچ کی علت بنایا جا سکتا ہے۔ یعنی کیا کسی مخصوص مقصد کے تحت ادب ”تخلیق“ کرنا ممکن ہے؟ اگر ہم اسے محرک نہیں مانتے تو یقیناً ”مقصدیت“ کے تحت لکھنے کا جواز باقی نہیں رہتا۔ لیکن یہ بات تو طے ہے کہ اگر آپ کی تحریر کسی نئے انسان یا نئے نظام یا نئی دنیا کا خواب نہیں دکھاتی یا نئی سوچ کی جانب نہیں لیجاتی تو وہ پرانی، فرسودہ اور رجعت پسندانہ سوچ کو تقویت ضرور بخشتی ہے۔ لہٰذا غیر جانب داری، یا غیر مقصدی یا مقصدی پابندیوں سے آزاد ہونے کا دعویٰ کہیں نہ کہیں (عموماً status quo کے حق میں ) ضرور معاون ہوتا ہے۔ ”نئی سوچ“ سے ہماری مراد چیزوں کا نئے (اور بظاہر ناقابل قبول) معیاروں اور علوم اور تقاضوں کو سامنے رکھ کر تجزیہ کرنا ہے۔ ایسا تجزیہ جو ہمیں ایک یوٹوپیا کی بجائے ایک ممکنہ راہ کی جھلک دکھائے۔

بلاشبہ آزادی اور نیا پن کسی مجرد (abstract) شے کا نام نہیں۔ اس کے کچھ نہ کچھ ضابطے، حدود اور اجزا ضرور ہوتے ہیں۔ جینیئس ادیبوں کے ہاں یہ ضابطے خارج کی بجائے داخل کی پیداوار ہیں۔ لیکن ادیب کا داخل یا تحت الشعور صدیوں سے جمع شدہ دانش اور عقل سے عبارت ہے (نہ کہ محض روایت اور کلاسیکیت سے ) بشرطیکہ ادیب نے اس دانش کا اکتساب کیا ہو۔ اگر کسی اقدامات یا منصوبہ بندی کے ذریعے اس دانش کے ابلاغ کے در بند کر دیے جائیں یا اسے قومی یا ملکی تحفظات کے باعث منصوبہ بندی کے تحت مسترد کر دیا جائے تو آنے والی نسلیں بے چارگی اور مجرد آزادی کا شکار ہی بن سکتی ہیں۔ جیسا کہ ہمارے ساتھ ہوا اور ہو رہا ہے۔ جس طرح رسوم اور عبادات وقت گزرنے پر اپنی اصل غایت بھول جاتی ہیں، اسی طرح پابندیوں یا ٹیبوز کا بھی معاملہ ہے۔ اکثر ہم ”اپنی“ شعری روایت کا ذکر کرتے وقت امیر خسرو، حافظ اور میر وغیرہ کا حوالہ دیتے ہیں۔ لیکن شاید میر کی نسبت کپلنگ (جنگل بک کا مصنف) زیادہ ٹھوس بنیادوں پر ”ہمارا“ بننے کا مستحق ہے (بشرطیکہ ہم صرف زبان کو ہی اپنے اور غیر کی تمیز کی کسوٹی نہ بنائیں ) ۔

دوسری طرف سوچ کو باندھنے والے یا اس کی راہ روکنے والے بندھن موجود ہیں۔ قبول شدہ، رائج الوقت اخلاقی اصول، بالخصوص مذہبی روایات، الجھی ہوئی اور گھسی پٹی شناختیں۔ ان سے ”آزادی“ کے لیے اخلاقی، مذہبی یا نیا شناختی نکتۂ نظر اپنایا جا سکتا ہے، لیکن اگر ان میں سے کوئی ایک بھی نکتۂ نظر موجود نہیں تو ہماری تخلیق ”Pride and Prejudice“ از جین آسٹن یا ”عروسہ“ از زبیدہ خاتون کی طرح قاری تو تلاش کر سکتی ہے، لیکن اس میں اپنی حالت کی توثیق کے سوا کچھ نہیں پا سکیں گے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3