ادب اور سماجی تبدیلی
آپ اپنے موجودہ حالات کو من و عن پیش کرتے ہوئے بھی نئے دریچے وا کر سکتے ہیں۔ مثلاً اگر ہم ”Pride and Prejudice“ اور میکسم گورکی کی کسی تحریر (مثلاً ”بچپن“ ) اور حتیٰ کہ ”One Hundred Years of Solitude“ از گارشیا مارکیز کا موازنہ کریں تو ایک قدر مشترک نظر آئے گی: یعنی تبدیلی کی کسی واضح خواہش یا واشگاف مقصدیت کے بغیر اپنے معاشرے یا معاشرتی گروہ کی تصویر کشی کرنا۔ اگر زندگی کی صورت حال کو ریکارڈ کرنا ادب کا مشغلہ ہو تو ہم مارکیز کو عظیم ادیب اور نینسی فرائیڈے کو کمتر یا غیر ادیب کن بنیادوں پر قرار دیں گے؟ کیا ان مصنفین نے اپنے اپنے دور میں کوئی نئی سوچ کی راہ دکھائی؟ برطانوی ناول نگار کرسٹوفر اِیشر ووڈ کہتا ہے کہ ”میں کھلے ہوئے شٹر والا ایک کیمرا ہوں جو سوچتا نہیں بلکہ صرف ریکارڈ کرتا ہے۔ “ لیکن حساسیت اور جذبے کے بغیر کچھ بھی قلم زد کرنا ممکن نہیں جس سے کیمرا عاری ہوتا ہے۔ شاید ایشر ووڈ کا مقصد یہ کہنا ہو کہ وہ کھلے ہوئے شٹر والا ایک کیمرا ہے جو ہر دم بیرونی مناظر کو اپنی حساس قرطاسِ شعور پر نقش کرنے کے لیے کھلا ہوا ہے ؛ لیکن اس کا فوکس، زاویہ اور سمت کہیں باہر سے نہیں بلکہ اندر سے متعین ہوتی ہے۔
لیکن وہ کون سے عناصر ہیں جو فوکس، زاویہ اور سمت کا تعین کرتے ہیں؟ وہ شعوری ہیں یا اجتماعی لاشعور کا نتیجہ؟ شاعری اور ادب کن محرکات کا نتیجہ ہے؟ یا کیا یہ خود ایک محرک بن سکتا ہے؟ کیا باہر سے کوئی مقصد لاگو کرنے کے ذریعہ زیادہ بہتر ادب ’پیدا‘ کیا جا سکتا ہے؟ اور آج ہم کن ادبی رجحانات کے حامل ہیں؟ کیا ادب نے کبھی ہماری حالت کو متاثر کیا ہے یا کر سکتا ہے؟ متنوع ترتیب کے ساتھ ان سوالات کے جواب پیش کرنے کی کوشش کے ذریعہ ہم زیادہ بڑی سطح پر شعوری عمل اور اپنی حالت کے درمیان روابط بھی تلاش کر سکتے ہیں۔
٭٭٭
ادب کو بیان کرنے والے تھیسس یا ان کے عناصر مل کر ہماری Sensibility کو متشکل کرتے ہیں۔ یعنی انسانی تجربے کی معنویت کا بیان، ممکنہ دنیائیں تخلیق کرنا، حقیقت کی نمائندگی، نظریۂ دنیا، ثقافتی پہچان، Imagination اور تجربے کو زبان دینا۔ ان کی بنیاد پر ہم ایک ”نئی سوچ“ کا تھیسس تعمیر کر سکتے ہیں۔ ادب کو محرک کی بجائے ثمر سمجھنے کا ہمارا خیال چاہے ناقص ہو یا صحت مند، مگر کوئی بھی تھیسس پیش کرنے کے ذریعے ہم ادب کو محرک بنانے کی خواہش کر رہے ہوتے ہیں۔ بہرحال نئی سوچ کے لیے نئی Sensibility ناگزیر ہے۔ Sensibility یا ”معنوی حساسیت“ ہماری استعمال کردہ علامات، تشبیہات، استعارے، حتیٰ کہ اسلوب بھی ہے۔ کلاسیکیت کے نام پر طے شدہ ضابطوں اور اندازِ اظہار کی وکالت کرنا وہی معنوی فقدان یا بے رس کیفیت پیدا کرتا ہے جو ہمارے ہم عصر شعرا کے ہاں عیاں ہے۔ نئی معنوی حساسیت کے لیے آپ کو کلاسیکیت یا روایت کے لبادے میں لپٹی ہوئی اور کلیشے بن چکی ”دانش“ سے چھٹکارا پانا ضروری ہے۔ ہماری غزل میں اس کا اظہار سب سے واضح ہے۔ یہ صنف تکنیکی طور پر جرأت آزما اور مشق کی متقاضی ہو تو ہو، مگر ادبی حیثیت میں عقل و دانش کے ساتھ دل لگی سے زیادہ کچھ نہیں رہی۔
چنانچہ میرے خیال میں ”نئی سوچ“ یا فکری گہرائی کوئی اوپر سے لاگو کی جا سکنے والی چیز نہیں، بلکہ یہ ایک ایک لفظ میں سے پھوٹے گی۔ آب و گِل، صرصر، شیشۂ دل، صیاد، گلچیں، شش جہت، دشنہ، مِژگاں، تیغِ نگاہ وغیرہ ہماری معاشرتی حساسیت کا ہر گز حصہ نہیں رہے (بالخصوص جن کی مادری زبان اردو نہیں ) لیکن ہم عصر غزل گو شعرا کے ہاں یہ بکثرت مل جاتے ہیں۔ ہم نے غزل کی مثال یہاں اس لیے استعمال کی ہے کیونکہ اس کا جامد پن سب سے نمایاں ہے۔ ناول نہ ہونے کے برابر ہے اور افسانے کا رنگ بالکل جدا ہے۔ زیادہ تر افسانہ نگار بیسویں صدی کے نصف اول کے انگلش، جرمن اور فرانسیسی افسانہ نگاروں سے متاثر ہیں اور اپنی بجائے اُن کے دور اور بے معنویت کو پیش کرنا زیادہ بہتر سمجھتے ہیں۔
سو ہم معنوی حساسیت کے ذریعہ نئے آہنگ ایجاد کرنے کے بجائے دریافت کر کے نئی فکر کی جانب قدم اٹھا سکتے ہیں۔ اس کے لیے بہت زیادہ کچھ نیا تخلیق کرنے کی نسبت پرانے اور کلاسیکی کے بڑے حصے کا استعمال جوں کا توں کرنے سے گریز کرنا کافی ہو گا۔ یہ کام ہم سے نہیں شروع ہو گا، بلکہ ہم سے پہلے بھی ہوتا رہا ہے، بس اسے انیسویں صدی کے بجائے اپنے زمانے سے شروع کرنے کی بات ہے۔
لیکن ہم جن چیزوں کا ”تقاضا“ یا خواہش کر رہے ہیں (اپنے ادب کو ”آج“ کا ادب بنانے کے لیے ) کیا کبھی شعرا اور ادیبوں نے ان کو مدنظر رکھا ہے؟ ادیبوں کے ہاں تو ایسا ضرور نظر آتا ہے، اور کچھ شاعروں کے ہاں بھی۔ ایک سے زائد شاعروں کے مطابق شاعری اور دیوانگی (Madness) لازم وملزوم ہیں۔ یقیناً یہ دیوانگی کلینکل نہیں۔ امرتا پریتم نے کہا کہ مجھے اپنی دیوانگی پر فخر ہے، تو امریکی شاعر کرسٹوفر مورلے کے مطابق ”شاعر کی بہادری اس دروازے کو کھلا رکھنا ہے جو دیوانگی تک لیجاتا ہے۔ “ ڈبلیو بی Yeats کہتا ہے کہ ”دوسروں کے ساتھ جھگڑا علم البدیع (Rhetoric) کو جنم دیتا ہے، اور اپنے ساتھ جھگڑا شاعری کو۔ “ شاید ہمارے شعرا کو فرانسیسی شاعر ژاں کاکٹیو کی یہ بات بہت پسند آئے، ”ہم نظم سوچوں سے نہیں الفاظ سے بناتے ہیں۔ “ امریکی شاعر والٹ وہٹمین نے اصرار کیا کہ اس کی ”نظموں کو اگر سمجھنا ہے تو انہیں ادبی چیز کے طور پر نہ لیا جائے۔ “

