میرٹ اور ہمارا واویلا
گزشتہ روز سے سوشل میڈیا پر ایک شور مچا ہے کہ وزیر مملکت برائے موسمیاتی تبدیلی زرتاج گل نے اپنی اسسٹنٹ پروفیسر بہن کی نیکٹا میں بطور ڈائریکٹر تقرری میں اپنے عہدے کا ناجائز استمال کرتے ہوئے میرٹ کی دھجیاں اڑا دیں۔ ان سطور کو لکھتےہوئے یہ خبر بھی آگئی ہے۔کہ وزیراعظم نے اس خبر کا سختی سے نوٹس لیا اور زرتاج گل کو نیکٹا کو لکھے گے خط کو واپس لینے کی ہدایت جاری کی۔ یہ ایک واقعہ ھے جس پر ہم نے واویلا کیا. خاص طور پر سوشل میڈیا پر اور اس کا نتجیجہ بھی سامنے آ گیا ۔ یہ واقعہ کیوں اتنی جلدی سامنے آگیا کیوں کہ اس میں موجودہ حکومت کی ایک وزیر شامل تھی۔ اور حکومت بھی وہ جس نے لوگوں سے وعدہ کیا تھا وہ اس فرسودہ اور گلے سڑے نظام کو ٹھیک کرنے کی کوشش کرے گی۔ اور اقرباپروری کی بنیاد پر تقرریوں کی حوصلہ شکنی کرے گی۔
لیکن میرا سوال آپ سب سے یہ ہے۔ کیا یہ اس ملک میں پہلی اس طرح کی تقرری تھی۔ اگر نہیں تو کیا ہم اسی طرح شور مچاتے ہیں جب کسی بھی شعبہ میں اقرباپروری کی بنیادوں پر تقرریاں ہوتی ہیں؟ چلیں یہ واقعہ تو میڈیا میں رپورٹ ہو گیا تو ہائی لائٹ ہو گیا۔ لیکن ہمارے ارد گرد جب چند صاحب اقتدار لوگ جب اپنے اپنے منظور نظر لوگوں کو نوازتے ہیں۔ لوگ جن عہدوں کے اہل نہیں ہوتے، ان کے لے راتوں رات رولز بدل کر اور کسی کو نظر نہ آنے والے آسامیو ں کے اشتہار دے کر لوگوں کو بھرتی کیا جاتا ہے۔ تعلیمی اداروں میں، ہسپتالوں میں، دفتروں میں گویا جس ادارے کی بھی بات کرو، میرٹ آپ کو منہ چڑاتا ہوا ملے گا۔ یہاں تک کہ سرکاری اداروں میں منظور نظر لوگوں کے سکیل سالوں نہیں، مہینوں نہیں بلکہ دنوں میں بڑھا دئے جاتے ہیں۔ لوگوں کو راتوں رات 17 گریڈ سے 18، 19 گریڈ اور زیادہ قابل ہونے کی صورت میں 17 سے 21 میں بھی ترقی دے دی جاتی ہے ۔ ہم خاموش تماشائی بنے دیکھتے رہتے ہیں کیو نکہ بہت سے کیسیز میں ہمارے بو لنے سے بھی کوئی فرق نہیں پڑتا۔ الٹا بولنے والوں کو نشانِ عبرت بنا دیا جاتا ہہے۔ اور ہم ڈرتے ہیں نشانِ عبرت بننے سے۔ کچھ اپنی معاشی اور معاشرتی مجبوریوں کی وجہ سے خاموش ہو جاتے ہیں۔ کچھ اس لئے خاموش ہو جاتے ہیں کہ ہمیں کیا ہم اپنی جگہ خوش ہیں۔
ویسے بھی ترقیاں دینے والوں کو کوئی پوچھنے والا نہیں ہوتا۔ بلکہ ان کی اسی قابلیت کی بنا پر اس مملکت خداداد میں ان کو اور اعلی عہدوں سے نواز دیا جاتا ہے۔ اور ترقیاں لینے والے بھی گردنیں اکڑا اکڑا کر چلتے ہیں کہ روک سکو تو روک لو۔ اور ان کو کوِئی روک نہیں پاتا۔ اور وہ آج بھی اپنی بےپناہ محنت اور ان تھک کوششوں کی وجہ سے قانون ساز عہدوں پر بیٹھے ہیں۔ آپ بگاڑ لو ان کا اگر بگاڑ سکتے ہو تو۔
میں اور آپ اپنے اپنے خوف اور اپنی اپنی جگہ کڑھ کر دوبارہ ان لوگوں کو سلام کرنے چل پڑتے ہیں جو قانون روندتے ہیں۔ میں ایک بات کہوں گی آپ سب کو بھی اور خود کو بھی کہ ہم زرتاج گل کی بہن کے کیس کو ایک ٹیسٹ کیس کے طور پر بھی لے سکتے ہیں۔ ہمیں سلکیٹو واویلا نہیں کرنا بلکہ اجتماعی واویلا کرنا ہے، ہر شعبہ میں میرٹ کی دھجیاں اڑانے والوں کی اور ان کا پھل کھانے والوں کی بھی تو شاید اگلے چند برسوں میں ملک میں واقعی تبدیلی آ جائے۔ کیونکہ میرٹ کی دھجیاں اڑانے والوں کو ہماری اجتماعی خاموشی نے ہمارے سروں پر سوار ہونے کی ہمت دی ہے۔ کیونکہ وہ ہمیں ڈرا کر اور تقسیم کر کے پھل کھاتے ہیں۔


