حکومت کی ڈولی اب کہاروں کے حوالے ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

شادی ہو چکی، ڈولی اٹھ چکی لیکن دلہا کو اب سمجھ آنا شروع ہوئی ہے کہ ڈولی کا رخ اس کے گھر کی بجائے کہیں اور موڑ دیا گیا ہے۔ ظاہر ہے دلہن کے مستقبل کا فیصلہ تو اب کہار ہی کریں گے۔ باراتی بیچارے اس معاملے میں کیا کر سکتے ہیں کہ ان کا کام تو کھانا کھانے کے بعد ختم ہو چکا۔

پاکستان میں سوشل میڈیا کی کوئی ویب سائٹ کھولیں آپ کو نیکٹا میں ہونے والی ایک تعیناتی کا شور سنائی دے گا۔ موسمیاتی تبدیلیوں کی وزیرمحترمہ زرتاج گل نے ایک وفاقی سیکرٹری کو ٹیلی فون پر حکم سنایا کہ ان بہن شبنم گل جو کہ ایک جامعہ میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں انہیں نیکٹا میں تعینات کیا جائے۔ اسی پر بس نہیں بلکہ اس حکم کی یاد دہانی کے لئے ستائیس فروری کو ایک خط بھی روانہ کیا گیا۔ اس سے پہلے کہ اسسٹنٹ پروفیسر صاحبہ کی تعیناتی کی جاتی، کسی ظالم نے چپکے سے اس خط کا عکس سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر ڈال دیا۔ یہ خط دنیا بھر میں ایسے پھیلا جیسے برے وقتوں میں شہروں میں طاؤن کی وبا پھیلتی تھی۔ کچھ دیر بعد بائیس مئی کا ایک خط بھی سوشل میڈیا کی زینت بن گیا جس میں محترمہ شبنم گل صاحبہ کی تعیناتی کا ذکر تھا۔

سماجی ذرائع ابلاغ کی ویب سائٹس دیکھیں، خبروں سے متعلق ویب سائٹس کھنگال ماریں، ٹی وی چینلز بھی دیکھ لئے لیکن محترمہ زرتاج گل یا کسی حکومتی ذمہ دار کی طرف سے کسی قسم کاکوئی بیان موجود نہ تھا۔ پراسرار خاموشی بتا رہی تھی کہ دال میں کچھ کالا نہیں بلکہ پوری کی پوری دال ہی کالی ہے۔ اس دوران معروف کالم نگار ارشاد بھٹی کی ٹویٹ نظر سے گزری جس سے ظاہر ہوتا تھا کہ زرتاج گل صاحبہ نے کہیں یہ فرمایا ہے کہ ان کو اپنی بہن کی قابلیت پر فخر ہے جس نے ایم فل میں تیسری پوزیشن حاصل کی تھی۔ ارشاد بھٹی صاحب نے بجا طور پر یہ سوال بھی اٹھایا کہ کیا ایم فل میں پہلی اور دوسری پوزیشن حاصل کرنے والے سکالرز کو ان کے مقام و مرتبے کے مطابق نوکری مل گئی ہے؟

کچھ ہی دیر بعد عقدہ کھلا کہ زرتاج گل صاحبہ کی بہن کو تو پنجاب یونیورسٹی نے تعلیمی مواد چوری کرنے کا الزام ثابت ہونے پر ان کی ایم فل کی رجسٹریشن ہی ختم کر دی تھی۔ نہیں معلوم اس کے بعد اسسٹنٹ پروفیسر بننے کے لئے انہوں نے ایم فل کہاں سے کیا۔ نیکٹا میں ڈائریکٹر تعیناتی کے لئے بنیادی قابلیت پی ایچ ڈی تھی۔ حیران کن امر یہ ہے کہ جن محترمہ کو اس انتہائی اہم اور نازک عہدے پر متمکن کیا جا رہا تھا اور جن کے بارے میں مبینہ طورپر یہ دعوی کیا گیا کہ انہوں نے ایم فل میں تیسری پوزیشن حاصل کی تھی وہ نو برس گزر جانے کے باوجود پی ایچ ڈی کی ڈگری مکمل نہیں کر سکیں جو کہ عام طورپر تین سے چار یا پھر پانچ برس میں مکمل کر لی جاتی ہے۔

لاہور کالج یونیورسٹی برائے خواتین کی ویب سائٹ دیکھیں تو وہ یہ بتاتی ہے کہ شبنم گل صاحبہ پی ایچ ڈی کی ڈگری مکمل کرنے کے لئے رخصت پر ہیں اور یہ ویب سائٹ اکتیس مئی کو اپ ڈیٹ بھی کی گئی ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ جسے دن میں دو چار گھنٹے کلا س روم میں طلبا کے ساتھ گزارنے کا وقت نہیں اس کے نازک کندھوں پر ملک سے دہشت گردی کے خاتمے کا بھاری پتھر رکھا جا رہا تھا۔

وزیراعظم عمران خان سعودی عرب کے دورے سے واپس پہنچے تو معاملہ ان کے گوش گزار کیا گیا۔ بتانے والوں نے یہ بھی بتایا کہ بات پھیل چکی اور معاملہ بگڑ چکا، جس پر اتوار کے دن وزیراعظم نے اس معاملے پر ایکشن لیتے ہوئے زرتاج گل صاحبہ کو حکم دیا کہ نیکٹا کو لکھا گیا خط واپس لیں۔ خوبصورت واردات یہ ہے کہ زرتاج گل صاحبہ نے نیکٹا کو تو کوئی خط لکھا ہی نہیں۔ اور کیا خط واپس لینے سے اس ساری واردات پر پردہ ڈالا جا سکتا ہے؟ دریافت طلب امر یہ بھی ہے کہ خط واپس لینے سے کیا شبنم گل صاحبہ کی تعیناتی کا عمل رک جائے گا؟۔

وزیراعظم کے نوٹس لینے کے بعد زرتاج گل صاحبہ کی طرف سے سفارشی خط واپس لینے کے لئے جو خط جاری کیا گیا ہے اس میں میڈیا کو بھی مطعون کیا گیا ہے۔ یعنی ” ڈگا کھوتی توں،غصہ کمہار تے“۔ ظاہر ہے اس پر زرتاج گل صاحبہ جز بز ہی ہو سکتی ہیں اوراب کیا کیا جا سکتا ہے۔

عوام حیران ہیں کہ اس ملک میں ایک سے ایک بڑھ کر ایک پی ایچ ڈی کرنے والے پروفیسرز موجود ہیں جن کا دہشت گردی سے متعلق تحقیقی کام دنیا بھر میں تسلیم شدہ ہے، ان کو تو کسی نے گھاس نہیں ڈالی لیکن ایک مشکوک تعلیمی کیرئیر کی حامل خاتون کو اس لئے نوازا جا رہا تھا کہ ان کی ہمشیرہ حکومت میں وزیر مملکت کے عہدہ پر فائز تھیں۔ اور یہ وہی حکومت ہے جس کے ذمہ داران کل تک پشاور میں طالبان کا دفتر کھولنے کی باتیں کرتے تھے۔ دیکھا جانا چاہیے کہ نیکٹا کی ان مجوزہ ڈائریکٹر صاحبہ کی طالبان اور پاکستان میں دہشت گردی بارے تحقیقات کا نچوڑ کیا ہے۔

لیکن رکئے !ذرا غور کیجئے کہ پاکستان میں ڈیپوٹیشن پر ہونے والی کتنی تعیناتیاں میرٹ پر ہوتی ہیں؟ صرف ڈیپوٹیشن ہی نہیں باقی تعیناتیوں کا بھی یہی حال رہا ہے۔ زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں گزشتہ دو ادوارِ حکومت کاجائزہ ہی لے لیں تو صورت حال واضح ہو جاتی ہے۔ بہت ساری تعیناتیاں ایسی تھیں جہاں میرٹ کو پامال کیا گیا لیکن سوائے اکا دکا معاملات کے سب کچھ معمول کے مطابق چلتا رہا۔ ڈیپوٹیشن کی ایک تعیناتی تو ایسی تھی کہ سپریم کورٹ کے ایک معزز جج صاحب نے بھی واویلا کیا کہ اس بندے کو واپس اس کے ادارے میں کیوں نہیں بھیجا جا رہا لیکن پھر وہاں بھی خاموشی چھا گئی۔ اصل میں ناتجربہ کاری مار گئی۔ کیونکہ ایسے کام تو خاموشی سے کئے جاتے ہیں۔

سبحان اللہ !کالم لکھتے ہوئے یہاں تک پہنچا تو خبرملی ہے کہ وزیراعظم نے اس سارے معاملے کو دیکھنے کی ذمہ داری محترم نعیم الحق کو سونپ دی ہے۔ اگر خبر درست ہے تو”جو بات کی خدا کی قسم لاجواب کی“۔ اب یہ تو یاد دلانے کی ضرورت نہیں کہ شیرازالحق نامی ایک فرد کو نادرا میں تعیناتی کے صرف دو ماہ بعد ہی اگلے گریڈ میں ترقی دے کر ایک پورے ریجن کا انچارج بنوانے میں کس کا نام لیا گیا۔ ویسے بھی نعیم الحق صاحب واضح کر چکے ہیں کہ شیراز الحق ان کے بھتیجے ضرور ہیں لیکن ان کا اس سارے معاملے سے کچھ لینا دینا نہیں ہے۔

اب اس کے بعد مجھے کوئی شک نہیں کہ اس معاملے کا انجام کیا ہوگا۔ ویسے بھی جنہیں اپنے انجام کی خبر نہیں انہیں کیا معلوم کہ یہ اور اس طرح کے معاملات آنے والے وقت میں ان کے لئے سیاسی پھندے ثابت ہوں گے۔ کسی کو شک ہو تو علی جہانگیر صدیقی کے نام پر غور کریں جن کو امریکہ میں سفیر تعینات کئے جانے تک اس ملک کے عوام جانتے تک نہیں تھے لیکن اب وہ نیب کی پیشیاں بھگتنے کی تیاریاں کر رہے ہیں۔

عمر چیمہ، فواد چودھری اور مشیر اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق کے بیانات بھی کچھ مختلف تصویر نہیں دکھا رہے۔ خبرگرم ہے لیکن جاننے والے اس امر کی تصدیق نہیں کر رہے کہ چودھری شجاعت حسین نے کوٹ لکھپت جیل میں میاں نواز شریف سے ملاقات کی ہے اور ان سے گزارش کی ہے کہ ”مٹی پاؤ “۔ میاں صاحب نے ظاہر ہے، یہی جواب دیا ہوگا کہ نہیں مجھے! این آر او دلواؤ۔

تو چلئے آپ بھی مٹی پاؤ اور ایک حسب حال واقعہ سنیں۔

گئے وقتوں کی بات ہے سرگودھا کے ایک گاؤں میں ایک زمیندار گھرانے کے جوان کی شادی کا مسئلہ درپیش ہوا تو بڑے بھائیوں نے اس کی شادی اس کی مرضی کے خلاف طے کردی۔ تب نہ ٹی وی نے کلچر بدلا تھا نہ سوشل میڈیا نے شعور کی سطح بلند کی تھی۔ نوجوان سر نیچا کئے سہرا باندھے سسرال پہنچا تو مولوی صاحب نے سوال کیا میاں دلہے فلاں بنت فلاں کے ساتھ بعوض مقررہ حق مہر نکاح قبول ہے ؟ دلہا نے جواب دیا ”جیویں بھراواں دی صلاح“ (جو بھائیوں کی مرضی )۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •