ایک کیلائیڈوسکوپ کی روداد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میں ایک دُم کٹا بندر تھا جس نے ایک متعفن پنجرے میں جنم لیا اور اندھیرے کو اپنی ماں سمجھا۔ مجھے نفرت کی گھٹی پلائی گئی اور میرے کانوں میں جہالت کا سیسہ انڈیلا گیا تاکہ میں گونگا اور بہرا ہوجاؤں۔ میں نے تتلی کے پر نوچے، کتابوں کو پھاڑا اور خوشبو کا بلات کار کیا۔ یقینا میں عمر بھر موت کا بینڈ ماسٹر ہی رہتا مگر ایک نیلی شام سے ذرا پہلے سوال کے ہاتھوں نے مجھے اپنی بانہوں میں جکڑا اور پنجرے سے باہر اُچھال دیا (پاؤں پھسلا تو آسمان میں تھے ) ۔

سینٹرل لاء کالج کا دروازہ کھلا۔ ملتان آرٹس فورم کا ہفتہ وار اجلاس اپنے جوبن پر تھا۔ خالد سعید نے پرنسٹن کا ایک طویل کش لیا اور اپنا ایک افسانہ ”متولیہ“ پڑھنا شروع کیا۔ مسافر ایک پل کو ٹھٹکا، ٹھہرا اور گھر کا رستہ بھول گیا۔ افسانہ ختم ہوا تو میری کایا کلپ ہو چکی تھی۔

اِس عشق نے صدراہے پہ لا کر ہمیں چھوڑا
اَب کون طرف کو ہے ارادہ؟ دلِ سادہ

اور
دھوئے گئے ہم ایسے کہ بس پاک ہو گئے

زندگی میری پہلی اُستانی، خالد سعید میرا آخری اُستاد ہے او ردونوں ہی غضب کے خلّاق ہیں۔ ان دونوں کا بنیادی موضوع بھی ایک ہی ہے یعنی کہ انسان، البتہ ٹریٹ منٹ دونوں کی جداجدا ہے۔ زندگی پہلے بناتی اور پھر توڑتی ہے، خالد سعید پہلے توڑتا اور پھر بناتا ہے۔ زندگی انسان کو دم کٹا بندر بناتی ہے، خالد سعید دم کٹے بندروں کو انسان بناتا ہے۔

۔ O۔

اور اِس نیلی شام سے چھ سال او رچار سو کلو میٹر کی مسافت پر، لاہور کے ایک سیلن زدہ انٹرنیٹ کلب میں خالد سعید کی نئی کتاب ”معنی کا پڑاؤ“ ایک ڈاؤن لوڈڈ فائل کی شکل میں میرے سامنے موجود، جسے میں صفحہ در صفحہ سکرول ڈاون کرتا چلا جاتا ہوں۔ یکایک ایک عجیب سا خیال میرے ذہن میں کِل کِل کرنے لگتا ہے۔ میں فوراً گوگل امیجز کھولتا ہوں اور ”سارتر“ کا نام ٹائپ کرتا ہوں۔ اونہوں بالکل بھی نہیں۔ پھر ”فرائڈ“۔ ارے یہ تو بڑے باریش قسم کے انسان نکلے۔

”رسل ’‘ ۔ اور میری باچھیں کھِل اُٹھیں۔ خالد سعید دیکھنے میں تقریباً برٹرینڈ رسل جیسا دکھائی دیتا ہے لیکن اس ظاہری مشابہت کے پیچھے کوئی فکری مماثلت بھی کارفرما ہے یا نہیں، اِس کا فیصلہ شاید آنے والا کل ہی کر پائے۔ پھر منطق کی ساخت ایک دم مجھے یاد دلاتی ہے کہ میرے خیال کی پرواز انتہائی غیر منطقی اورغیر متوازن سمتوں میں سفر کرنے لگی ہے اور میں بوکھلا کر ہیڈفون کی آواز ایر بلیڈ آرگیزم تک لے جاتا ہوں۔

دیارِ عشق میں اپنا مقام پیدا کر

نیا زمانہ نئے صبح و شام پیدا کر

اور

نچ فقیرا، نچ فقیرا، نچ فقیرا، نچ۔

متضاد آوازیں ایک دوجے اندر مدغم ہوتی چلی جاتی ہیں۔ پھر اُسی لمحے مشرق کے نغموں کے ساتھ مغرب کی غنائیت بھی ریزونیٹ کرنے لگتی ہے اور مائٹی نطشے پنجابی ڈھول کی وحشیانہ تھاپ پر دھمال ڈالتے ہوئے چلاتا ہے :

”And those who were seen dancing were thought to be insane by those who could not hear the music۔ “

اور ”معنی کا پڑاؤ“ اِسی صوفی مشرق اور فلسفی مغرب کے لامتناہی بندھن کی شرح ہے جس کے ابلاغ کے لیے خالد سعید نے دوستوں اور دیگر نامور لکھاریوں کی کتب پر دیباچے لکھے ہیں اور اِس کی ثقالت کم کرنے کے لیے کہیں خود نوشتہ ہوئے ہیں تو کہیں دہر نویس۔ ممکن ہے ایک سنجیدہ نوعیت کی عالمانہ کتاب پر یہ نسبتاًغیر سنجیدہ اور غیر عالمانہ تبصرہ آپ کی طبع نازک پر گراں گزرے مگر صریرِ خامہ نوائے سروش ہونے کے سبب اور اپنی کم علمی اور ناقدانہ بے مائیگی کے بوجھ تلے نڈھال، پہلی ریڈنگ میں محض اتنا ہی اخذ کر پایا ہوں۔

فائل سکرول اَپ کرتے ہیں۔ ممکن ہے اس بار میں خالد سعید کے اندر کا وہ نقاد دریافت کر پاؤں جس کی موجودگی اُردو ادب کے فروغ اور ارتقا کے لیے انتہائی ناگزیر ہے۔ نام ور محقق، نقاد او رماہر تعلیم قاضی تنویر الزماں تونسوی نے اس ضمن میں کیا خوب فرمایا ہے کہ ناقدین کی انجمن، ادب کے کلاسیکی او ردرسی پہلوؤں کے فروغ اور تحفظ کے لیے عین لازم و ملزوم ہے وگرنہ نام نہاد شعرا ء اور فکشن نگاروں کی اُتھلی موضوعیت سے متاثر ہو کر جاہل عوام پر مشتمل ایک بہت بڑا گروہ انہیں عظمت کی اس مسند پر بٹھا دیتا ہے جس منصب کے حصول کے لیے ہم نے خونِ جگر سے گلستان ادب کی آبیاری کی ہے۔

سکہ بند اور ثقہ بند، دونوں طرح کے ناقدین سے معذرت کے ساتھ ”معنی کا پڑاؤ“ بنیادی طور پر اُردو ادب کی اس رائج الوقت تنقید کے منہ پر ایک طمانچہ ہے جس نے آج تک صرف ڈیڑھ انچ کی مسجدوں میں بیٹھنے والے بالشتیے پیدا کیے ہیں کہ جن میں سے کوئی جمالیاتی یا اخلاقی پہلوؤں کا ٹھیکیدار ہے تو کسی نے نفسیاتی یا کلاسیکی تناظر کی گدّی سنبھالی ہوئی ہے۔ یہ کتاب جو خالص اور سراسرنثرہے، اس کی مزید درجہ بندی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک کوئی ایسا ساختیاتی نظام وضع نہیں کر لیا جاتا جو اس گلوبل ویلج کے تنوع، تیز رفتاری اور انفارمیشن کے بے ترتیب پھیلاؤ کوکسی ایک دائرے میں سمیٹ سکے ( یا دوسرے لفظوں میں ہم نئے بصری، سمعی اور تصوراتی رجحانات کو ایک منظم اکائی کی صور ت میں دیکھنے اور سمجھنے پر قادر ہو سکیں ) ۔

متعدد فینو مینا یا مظاہر جو کسی ایک شے، فرد یاواقعے کو بیان کر سکتے ہیں اُن میں سے کسی ایک مظہر کی مدد سے صورتحال کو سمجھنے کا دعویٰ کرنا اور پھر اس دعوے کی صحت پر اصرار شرمناک ڈھٹائی کے زمرے میں آئے گی کیونکہ تبدیلی کا عمل اَب صدیوں اور سالوں کے بجائے مہینوں اور دنوں پر سمٹ آیا ہے۔ مذکورہ صورتحال کی روشنی میں سپیشلسٹ دانشور کا تصور ایک فحش مذاق ہے جو نہ صرف قابلِ مذمت بلکہ قابلِ سرزنش بھی ہے۔ اِس کتاب کی ندرت یہ ہے کہ خالد سعید فن کار اور اس کے فن پارے یا فن پاروں کو مختلف مظاہر جیسے تصوف، فلسفہ، نفسیات، سوشیالوجی اور جمالیات کے کینوس پر پھیلاتا ہے اور پھر اپنی ذات اور اپنے ماضی تمنائی کی مدد سے اس کینوس میں نت نئے رنگ اور منظر اُبھارتاچلا جاتا ہے۔

مزید برآں وہ ہندی، مصری، یونانی اور رومن دیو مالاؤں کے برش تھام کر شارپ سڑوک لگاتا ہے اور چند بظاہر بے ترتیب، بے ڈھنگی اور مجہول مگر ایک بڑے تناظر میں مربوط تصویر یں ہماری جانب اُچھال دیتا ہے۔ بیک وقت ان تمام مظاہر کی یکجائی ہی ان رنگین تصاویر کو وہ تحرک بہم کرتا ہے جو انہیں بلیک اینڈ وائٹ اسٹل فوٹو گرافس بننے سے محفوظ رکھتا ہے۔ ویڈیو کیمرے کی ایجاد سے پہلے لٹریچر میں پی ایچ ڈی کرنے والے دانشور تصویروں کے رنگین ہونے پر تو زیادہ معترض نہیں ہوتے تاہم اِن کا ڈیجیٹل اور متحرک ہونا، حضراتِ گرامی کو ایک ایسی کیفیت عطا کرتا ہے جسے وہ انشقاقِ ذہنی کا نام دیتے ہیں (تیشے بغیر مر نہ سکا کوہکن اسد) ۔

ایک اور زاویے سے اس مکینزم کو پرکھا جائے تو خالد سعید نے ”معنی کا پڑاؤ“ میں فاسٹ فاروڈ، فلیش بیک، پاز اور پلے کی تکنیک کو بار بار برتا ہے جو افسانے اور کسی حد تک شاعری میں تو مستعمل رہی ہے کہ موضوعیت سے ہلکان تخلیق کار بدعتی ہونے کے ناطے ایسی خرافات میں اُلجھ ہی جاتے ہیں مگر تبصرے اور تجزیے کی نیت سے لکھی گئی تحریروں میں ایسے تمام تجربات سے مکمل احتراز برتا گیا ہے۔

موضوعاتی سطح پر دیکھا جائے تو ”معنی کا پڑاؤ“ ہمیں ایک ایسے سفر کا عندیہ دیتا ہے جہاں بھانت بھانت کے کردار منزل کی تلاش میں نکلتے ہیں اور مدتوں بھٹکتے رہنے کے بعد آخر میں عقدہ کھلتا ہے کہ آگہی دراصل بند پنجرے کی گھٹن کو کھوج لینے کا نام ہے (چہار جانب فصیلیں ہوں اور در کوئی نہ ہو) ۔ خالد سعید جس کیفیت کو شکلیں، نام، مقام اور زمانے بدل بدل کر پورٹرے کرتا ہے وہ محض آرٹسٹک اُداسی نہیں بلکہ ایک ابدی، اجتماعی اور آفاقی حیرتہے جو حساس دلوں اور شفاف ذہنوں کو اپنی جکڑن میں لیے پھرتی ہے۔ ہمینگوے کے الفاظ میں زندگی سب سے پہلے اور سب سے جلدی انہیں مارتی ہے جو سب سے بہادر اور سب سے حسین ہوں۔

موضوعاتی سطح پر بھی خالد سعید ساخت پر چوٹ کرنے سے نہیں چُوکتا۔ جہاں فوجی آمریت اور کیپٹل ازم اس کے تند لہجے کا نشانہ بنتے ہیں وہیں ٹھگنا منصف اپنی مضحکہ خیز بے ہودگی کے ساتھ عدلیہ کی بے مغزیت کی علامت بن کر اُبھرتا ہے۔ دوسرے پوسٹ ماڈرن لکھاریوں کی طرح یہ طنز اور چوٹ کا سلسلہ پورے متن پر محیط نہیں۔ اپنے کرداروں اور ان کے فن پاروں کا تذکرہ اور تجزیہ ہو تو خالد سعید ایک دم موم ہو جاتا ہے اوراپنی تیز نگاہوں سے کرداروں اور ان کی نگارشات کے آرپار دیکھنے یا اُن کا پوسٹ مارٹم کرنے کی بجائے کیلائیڈوسکوپ کا سہارا لیتا ہے کہ جس کے شیشوں کی اوٹ سے مٹیالی کنکریاں بھی رنگدار نظر آنے لگتی ہیں۔ خالد سعید عینی کا کھچڑا بھی اتنے ہی شوق سے تناول کرتا ہے جتنی محبت سے وہ قاضی علی ابوالحسن، عدنان صہیب اور میری تحریروں کا رَس چکھتا ہے۔ غالباً اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ مظہر پرست نہ ہونے کے باعث وہ جانتا ہے کہ تمام چیزیں Relative ہیں اور نطشے کے الفاظ میں :

۔ ”There are no facts but only interpretations“

اگر لسان کا ذکر کیا جائے تو خالد سعید یہاں بھی روایت شکنی سے باز نہیں آتا۔ ہندی، سرائیکی، پنجابی اور انگریزی کے الفاظ بے تحاشا او ربے محابا استعمال کرتا ہے جو بسا اوقات اپنی نامانوسیت کے باعث ابلاغ کے عمل کو سست رفتار کر دیتے ہیں۔ اگر خالد سعید کا اسلوب شاعرانہ نہیں ہوتا تو اغلب امکان ہے کہ یہ کمیونیکیشن بیریر ایک سنگین معاملہ بن کر اُبھرتا مگر اسلوب وبیان کی روانی اور نغمگی بیشتر موقعوں پر ایسی ابتلاء کی آمد سے پہلے ہی وچولن بن جاتی ہے۔

شاعرانہ زبان کے برتاؤ کا سب سے بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ اس کے تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے ہائی لینگوئج برتنا پڑتی ہے جس کے نتیجے میں عام قاری کے لیے ابلاغ کا عمل نارسا ہو جاتا ہے۔ تاہم خالد سعید کے معاملے میں یہ اندازہ لگانا بجا ہو گا کہ اپنی عمومی آزاد خیالی اور تخلیقی آزاد روی کے باعث مفروضہ یا مطلوبہ قاری کا تصور اُن کی لکھت کے فلو کو متاثر نہیں کرتا۔

”معنی کا پڑاؤ“ بالخصوص ملتان اور بالعموم ادب کی ایک انوکھی ڈاکومینٹیشن ہے جو مستقبل قریب میں دبستانِ ملتان کا ایک نمایاں حوالہ بن کر اُبھرے گی۔ یوں تو نوسٹیلجیا خالدسعید کاسب سے اہم لینڈ مارک ہے جو جابجا اپنی چھب دکھلاتا اور روپوش ہوتا رہتا ہے مگر اس کا سب سے خوبصورت تجربہ ہمیں ڈاکٹر اجمل کے ایک نہ ہو سکنے والے انٹرویو کی شکل میں ملتا ہے۔

۔ O۔

اور جہاں معنی نے اپنا خیمہ گاڑا تھا اُس سے کچھ ہی فاصلے پر ایک ملٹی میڈیا سکرین روشن ہوتی ہے۔ لائٹس آف۔ ولیم رابنسز ”ڈیڈ پوئٹ سوسائٹی“ کا جان کیٹنگ ہے۔ جان کیٹنگ جو اپنے سٹوڈنٹس کو نیموں کا پالن کرنا نہیں بلکہ آزاد ہونا، محبت کرنا اور شاعر بننا سکھاتا ہے۔ میرا شہر، میری یونیورسٹی اور میرا سماج بھی ایک ڈیڈ پوئٹ سوسائٹی ہے جس میں کوئی جان کیٹنگ نہیں رہتا۔ البتہ یہاں خالد سعید رہتا ہے جو دُم کٹے بندروں کو انسان بناتاہے۔

۔ O۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •