پی ٹی ایم مطالبات اور ریاست کا رویہ


پشتون تحفظ مؤومنٹ ایک ردعمل کے نتیجے میں ابھری تحریک ہے جس کے طرز عمل میں غصہ نمایاں ہے، وہ اس غصے کا سبب اس سلوک کو بتاتے ہیں جو ان کے مطابق پشتونوں کے ساتھ روا رکھا جاتا رہا ہے۔

انکے مطالبات کی فہرست لمبی ہے اور یہ شکایت بھی چند حلقوں میں پائی جاتی ہے کہ یہ فہرست لمبی کیوں ہورہی ہے، یہ جماعت اپنے بنیادی مطالبات ”اگر“ تسلیم کروا بیٹھی ہے تو اپنا تنظیمی ڈھانچہ تحلیل کرے، تحریک کے خاتمے کا اعلان کرے اور مکمل دفن ہوجائے، مگر کہنے کی جسارت کرنا پڑے گی کہ جب ایک تحریک کامیاب ہوجائے تو ایسا ممکن نہیں ہوتا۔

پی ٹی ایم ایک طبقہ کی نمائندہ جماعت کے طور پہ سامنے آئی ہے، انہوں نے ہتھیار اٹھانے یا پہاڑوں پہ چڑھ بیٹھنے کے بجائے اسمبلی اور آئین کا راستہ اختیار کیا ہے، عام انتخابات میں ان کے دو کارکن ممبر اسمبلی منتخب ہوئے، عوامی نمائندہ ہونے کی حیثیت سے وہ اپنی سیاست کرنے میں ایسے ہی آزاد ہیں جیسے ملک کی کوئی دوسری سیاسی جماعت، ان کو جو معاملہ اپنے مقصد، منشور یا بنیادی مطالبات سے قریب تر لگے گا وہ اس پہ سیاست بھی کریں گے اور ان ایشوز پہ واویلا بھی کریں گے، یہ ان کا جمہوری حق ہے جسے تسلیم کیا جانا چاہیے، دو نمائندے منتخب کروا کر وہ یہ پہلے ہی ثابت کرچکے ہیں کہ ایک علاقائی قوم پرست عوامی نمائندہ جماعت کے طور پہ ان کا وجود حقیقی ہے۔

میری رائے میں پی ٹی ایم کی تیزی سے مقبولیت اور عام پاکستانیوں میں ان کے لئے ہمدردی کی دو بنیادی وجوہات ہیں، اول ان کا تشدد اور مسلح جدوجہد سے باز رہنا، دوئم پارلیمنٹ کے ذریعے اپنے مطالبات کو پیش کرنا، اگر پی ٹی ایم پارلیمنٹ کی راہ نہ لیتی تو مرکزی سیاسی جماعتوں کا ان کے لئے احتجاج کرنا درکنار وہ شاید ساتھ ان کے ساتھ ملاقات سے بھی باز رہتے، یہ ریاست سے ناراض ہر مسلح گروہ جو اسلحہ لے کر پہاڑ پہ چڑھ بیٹھا ہے کے لئے سبق بھی ہے کہ پارلیمنٹ کے ذریعے اپنی جدوجہد کا آغاز کریں، ان کے مطالبات نہ صرف عوام تک پہنچیں گے بلکہ اقتدار کے ایوانوں میں بھی گونجیں گے۔

موجودہ صورتحال کا احاطہ کرتے ہوئے یہ ادراک ضروری ہے کہ فوج کی ذمہ داریوں میں مذاکر ات کرنا نہیں ہوتا، فوج کا کسی بھی طرح کے مذاکر ات کا حصہ بننا اسے مزید کمزور بناتا ہے، بدقسمتی سے ہمارے ہاں فوج کے سیاست میں زیادہ عمل دخل کی وجہ سے اسے ایسی ہی تنقید کا سامنا ہے جیسی سیاسی جماعتوں پہ ہوا کرتی ہے، اس کا حل آسان ہے کہ منظر نامے سے غائب ہوجائیں، حکومت کو اپنا چہرہ بنالیں اور سیاسی جماعتوں یا پی ٹی ایم پہ براہ راست تنقید سے اجتناب کریں۔

ایک پہلو یہ بھی ہے کہ عمران خان بظاہر پی ٹی ایم اور فوج کے درمیان ٹکراؤ میں تماشائی ہیں اور ارادتاً کسی طرح کا کردار ادا کرنے سے گریزاں ہیں، شاید وہ فوج کو بھی چند مورچوں پہ دباؤ میں رکھنا چاھتے ہیں، انہوں نے عوام کو یہ تاثر دے رکھا ہے کہ جسٹس قاضی کے خلاف ریفرنس ہو یا پی ٹی ایم کشیدگی ان معاملات میں وہ صرف میسینجر یا تماشائی ہیں، اپنی ذاتی رائے کا اظہار وہ جلسے میں پی ٹی ایم کے مطالبات کو درست قرار دے کر پہلے ہی کرچکے ہیں، انہوں نے پی ٹی ایم کے ابتدائی جلسوں میں شرکت بھی کی تھی، بیشک خیبر پختونخواہ کے پی ٹی آئی کا گڑھ ہونے کی وجہ سے وہ پختونوں میں مقبول کسی سیاسی تحریک کے ساتھ براہ راست تصادم مول لینا پسند نہیں کریں گے۔

Facebook Comments HS