چُوڑیاں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

(افسانہ نگار: ممتاز مرزا | مُترجم: یاسرقاضی)

حسبِ معمُول وہ سودا لینے گئی۔ اُس دن چھ آنے نہ جانے کیسے بچ گئے۔ سوچنے لگی کہ ان چھ آنوں سے کیا خریدوں۔ چلتے چلتے، اُس کی نظر، راستے کے کونے پر بیٹھے ایک سرخی پوڈر فروش کی صندوق پر پڑی۔ اُس صندُوق کے اُوپر طرح طرح کی رنگین چُوڑیاں رکھی ہوئی تھیں۔ اس نے اپنی ویران کلائیوں کی طرف دیکھا، جو کئی دنوں سے چُوڑیوں سے محروم تھیں۔ اس نے چُپ چاپ اپنے لئے چھ چُوڑیاں خریدیں اور گھر چلی آئی۔ گھر پہنچ کر، اُس نے اپنے بیٹے کو، جو اس کے کندھے پر ہی سو چکا تھا، چارپائی پر لیٹایا اور خود بیٹھ کر اپنی کلائیوں کو دیکھنے لگی۔ سوچنے لگی کہ جب اس کا شوہر اس کی چوڑیاں دیکھے گا، تو وہ ضرُور خوش ہوکر اُس سے ان چُوڑیوں کے بارے میں دریافت کرے گا۔

جب وہ اپنے شوہر کے لئے کھانا لے کر گئی، تو اس وقت تمام مزدور کھانا کھانے کے لئے مختلف درختوں کے سائے میں بیٹھے ہوئے تھے۔ مرادو نے اُن مزدُوروں میں اپنے شوہر کو ڈھونڈھا، مگر وہ اُسے وہاں نظر نہیں آیا۔ وہ اِدھر اُدھر دیکھنے لگی۔ اتنے میں اس نے دیکھا کہ زیرِتعمیر دیوار کے ساتھ بندھے تختوں پر، تھوڑی سی اُونچائی پر ایک نوجوان برہنہ پِیٹھ کام میں مصروف ہے، جس نے اجرک کی لنگوٹ باندھی ہوئی ہے۔ یہی اس کا خاوند، شہمیر تھا۔

”کھانا نہیں کھانا کیا ؟ “

”ہاں؟ “ شہمیر نے اچانک چونک کر اسے دیکھا۔ اس نے اپنی نئی چُوڑیاں کھنکا کر دوبارہ کہا: ”اجی، میں نے کہا، روٹی نہیں کھانی کیا ؟ “

”دو! “ اس نے سیمنٹ کا تَسلا ایک طرف رکھتے ہوئے کہا۔

”نیچے آؤ ناں! “

! شہمیر نے اُسے تڑی دیتے ہوئے کہا: ”دیکھو، وقت ضایع مت کرو! کھانا دینا ہے تو دو، ورنہ جاؤ گھر۔“

مُرادو کے چودہ طبق روشن ہوگئے۔ اُس نے عجیب حالت میں اُسے رومال میں بندھا کھانا دیا۔ اُس نے اُوپر اسی تعمیری تختے پر بیٹھ کر کھانا کھایا اور مُرادو اداس ہو کر گھر لوٹ آئی۔ پُورا دن عجیب تذبذُب میں گزارا۔ ہر تھوڑی بعد دیر بعد اسے شہمیر کی ڈانٹ یاد آتی۔ اس کو یاد تھا کہ شہمیر نے پُوری زندگی میں اسے صرف ایک بار مارا تھا۔

کتنے دن گُزر گئے تھے، کہ وہ بیروزگار بیٹھا تھا۔ دو چار دن تو ایسے ہی اُدھار پہ گزر گئے۔ آخر ایک ایسا دن آیا کہ وہ فاقوں پہ تھے

”تم سے کہہ رہی ہوں کچھ! “
”کیا ہے؟ “

”میں نے کہا بچّے کے لئے تو کہیں نہ کہیں سے دودھ اُدھار لے آؤ! “
”میرے ابّا کے بیٹے ہیں؟ کہ دُودھ اُڻھا کے دے دیں گے، کہ جاؤ! اپنے بیٹے کو جاکے پلاؤ۔ باتیں کروا لو بس اس سے۔ “ شہمیر نے جواب دیا

”تُم چِڑتے کیوں ہو؟ اس ننھی سی جان کے بارے میں ٹھنڈے دل سے سوچو تو سہی۔ “

”ننھی سی جان کی بچّی۔ چُپ نہیں کر رہیں؟ “ شہمیر نے مُرادو کو آنکھیں دِکھاتے ہُوئے بولا۔

”تمیں ہو کیا گیا ہے؟ “ مرادو کا اتنا کہنا تھا کہ شہمیر، اُس بے چاری پر چڑھ دوڑا ”سُوئر کو بول بھی رہا ہوں، تو سُنتی ہی نہیں۔ “ دو چار طمانچے، دو چار گھونسے مارکر چُپ کر کے بیٹھ گیا اور مُرادو کی بولتی بھی بند ہوگئی۔ آنسو تھے کے دوگنے دوگنے بیچاری کی آنکھوں سے بہے جا رہے تھے اور شہمیر دل ہی دل میں یہ سوچ رہا تھا کہ اب اسے کیسے مناؤں۔ اُس نے ابھی بلکنا شروع ہی کیا تھا، تو شہمیر کو لگا کہ جیسے کسی نے اُس کے دل میں تِیر مار دیا ہو۔ وہ مزید برداشت نہیں کر سکا اور بے اختیار مُرادو کو جا کر سینے سے لگا دیا۔

”بس کر ناں اب۔ میری طرف دیکھ! میری طرف۔ “
اُس نے اپنی آنکھیں اُٹھا کے دیکھا تو شہمیر کی آنکھیں بھی اشکبار تھیں۔

مُرادو نے اپنے آنسو پُونچھے تو اُس کی کلائی میں پہنی ہوئی چوڑیاں اُس کی بانہوں میں جا کر الجھ گئیں۔ رنگین رنگین۔ لال۔ سفید۔ چھ چُوڑیاں۔ اس نے سوچا کہ وہ چُوڑیاں دیکھ کر خوش ہوگا، مگر اُس کی توّجہ نہ پا کر وہ اُداس ہو گئی۔ اچانک سے اُس کے تاریک خیالوں میں روشنی کی ایک کرن جاگی۔ ”شاید زیادہ کام کی وجہ سے اُس نے چُوڑیوں کی طرف دھیان نہیں دیا۔ مگر، اس نے مُجھے ڈانٹا کیوں۔ اور مارا کیوں۔ کیوں آخر؟ “ وہ خیالوں ہی خیالوں میں خُود سے باتیں کرتی رہی اور اُس کے بعد وہ مزید سوچ نہ سکی

شام کو بھی شہمِیر دیر سے گھر لوٹا اور کھانا کھا کر بستر رسِید ہوگیا۔ مُرادو نے بار بار جان بُوجھ کر اپنی چُوڑیوں کو ظاہر کیا۔ لالٹین کے سامنے کھڑی ہو کے خواہ مخواہ اپنے بال بنانے لگی۔ چُوڑیوں کی کَھنک ہُوئی۔ مگر اُس نے کوئی دھیان نہیں دیا۔ اس کا بچّہ رویا۔ اُسے بھی جان بُوجھ کر زور زور سے تَھپکنے لگی۔ چُوڑیوں کی پھر آواز ہُوئی۔ مگر وہ سَو چکا تھا، اور وہ اداس ہو کر بیٹھ گئی۔

اتنے میں ایک پڑوسن اس کے پاس آئی اور آ کر بیٹھ گئی۔ مُرادو کو گُنگ سُن اور اُداس دیکھ کر بولی: ”کیوں مرادو! اُداس بیٹھی ہو؟ “

”کیا بتاؤں! جس دن سے اِس کام سے لگا ہے، اُس دن سے خاموش ہی ہو گیا ہے۔ “
”یہ تو تُم صحیح کہہ رہی ہو۔ پہلے تُم لوگوں کے گھر سے ہمیشہ بولنے کی آوازیں آتی تھی، مگر آج کل نہ جانے کیوں سَنّاٹا چھایا رہتا ہے۔ “

”پہلے تو زمین پہ بیٹھا اپنے بیٹے سے کھیلتا رہتا تھا، مگر اب تو اِس کی طرف بھی کوئی توّجہ نہیں دیتا۔ میں کیا کروں۔ “
وہ سوچ میں پَڑگئی۔ مُرادو نے اپنا سَر کُھجایا تو اُس کی چُوڑیوں کی آواز سُن کر پڑوسن بولی:

”چُوڑیاں پہنی ہیں کیا؟ “
”ہاں! “

”کتنے کی لِیں؟ “
”چھ آنے کی۔ “ مُرادو نے بے دلی سے جواب دیا۔

”اچھا! “ پڑوسن چُپ چاپ سوچتی رہی۔ لالٹین کی ہلکی سی روشنی شہمیر پر پڑی۔ مُرادو نے دیکھا۔ اور سوچا۔ جِس کے چہرے کے اُوپر کبھی ماس کی تہیں چڑھی ہوتی تھیں، وہ تَہَیں نہ جانے کون اُتار کر لے گیا۔ رنگت ایسی ہوگئی تھی، جیسی ہلدی۔ ”زیادہ کام کرنے کی وجہ سے ایسا ہوا ہے۔ زیادہ کام کیُوں کر رہا ہے؟ کسی نے اُس کے سر پر سرداری پگڑی رکھ دی ہے کیا! یا پھر اسے دیہاڑی زیادہ مل رہی ہے؟ کیا ہے؟ آخر یہ ہے کیا! “ یہی سوچتے سوچتے اُسے بھی نیند اپنی آغوش میں بُلانے لگی۔ پڑوسن بھی نہ جانے کب اُٹھ کے چلی گئی۔ اُسے پتا ہی نہیں چلا۔

”تم سے ہوں۔ “ اگلے دن علی الصبح، مُرادو نے شہمیر کو سمجھانے کی کوشش کی۔
”کیا ہے؟ “

”میں نے کہا، اتنا کام کیوں کرتے ہو؟ اپنی شکل دیکھی ہے؟ کیسی ہوگئی ہے؟ “
”کام نہیں کروں گا تو کھائیں گے کہاں سے؟ “

”دُوسرے لوگ بھی کام کرتے ہیں، یا۔ ؟ “ اُس نے چُوڑیاں کھنکاتے ہوئے کہا

”میں کہہ رہا ہُوں۔ فضُول بات مت کیا کرو۔ تمھیں پتہ ہے کہ یہ کارخانے کیسے چلتے ہیں؟ جب تک آجر کو راضی نہیں رکھا جاتا، تب تک کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ پِچھلے فاقے بُھول گئیں کیا۔ ؟ “ یہ کہہ کَر وہ نکل کر چَلا گیا۔ ایک لمحے کو مُرادو کا دل کیا کہ اُسی وقت اُن چُوڑیوں کو توڑ کر پھینک دے۔ مگر نہیں۔ کہتے ہیں کہ چُوڑی سہاگ کی نشانی ہُوا کرتی ہے۔ ”اے اللہ پاک! تُو اسے عمرِدراز عطا کر! “

دوپہر کو وہ حسبِ معمُول شوہر کا کھانا لے کر گئی۔ اُس نے اپنے بیٹے کو بھی ساتھ لیا، جو بیچارہ راستے میں ہی مُرادو کے کندھے پر سوگیا۔ جب وہ شہمیر کے پاس پہنچی تو اُس نے دیکھا کہ وہ کام کر رہا ہے اور باقی سارے مزدور آرام کر رہے تھے

”سالو کے ابّا، آؤ! آکر کھانا کھا لو۔ “

”دو! “ اس نے کھانا لیا اور نِیچے بندھے تختے پر کھانے کے لئے بیٹھ گیا اور مُرادو تپتی دھوپ میں کھڑی رہی۔ اُس کا چہرہ دہک رہا تھا

”دھُوپ میں کیوں کھڑی ہو؟ جا کر سائے میں بیٹھو ناں! “ شہمیر نے مُرادو سے کہا۔

اُس نے شہمیر کو جواب نہیں دیا، بلکہ بچّے کے چَہرے پَر سے بھی اپنا دُوپٹّہ ہَٹا دیا۔ تھوڑی ہی دیر میں بچّے کے چہرے کی رنگت، دھوپ کی شدّت سے پیلی پڑنے لگی۔ سُورج کی تپش میں مُرادو کا چہرہ بھی مزید سُرخ ہوگیا۔ اُس کی پیشانی سے پسینے کے قطرے اُبھر کر اُس کے گالوں سے نیچے ٹپکنے لگے۔ اچانک سے بچّہ رونے لگا۔ مُرادو مُسکرانے لگی۔ شہمیر نے بچّے کو تکلیف سے روتے دیکھا تو وہ بھی چیخ اُٹھا: ”مُرادو۔ ، بہری ہے کیا؟ جا کر سائے میں بیٹھو۔ بچّے پر بھی رحم نہیں کھا رہیں۔ ؟ “

اُس نے اپنی چُوڑیاں کَھنکا کر اَپنا پَسینہ پونچھا اور بچّے کو مزِید دھوپ کی طرف کردیا۔

”بہت ضدی ہو! “ شہمِیر نے جھٹ سے تختے سے اُتر کر اُس سے بچّہ چِھین لیا اور جلدی جلدی میں بچّے سمیت سائے کے نیچے جا کر بیٹھا اور مُرادو تختے سے کھانا اُٹھا کر، آکر اُس کے سامنے پیڑ کے نیچے بیٹھ گئی۔ اُس کے ہونٹوں پر فاتحانہ مُسکراٹ تھی۔ بقیہ کھانا کھاتے ہوئے شہمیر کی بالآخر نظر مُرادو کی چُوڑیوں پر پڑ ہی گئی

”یہ چُوڑیاں تو بہت پیاری ہیں۔ کب لیں؟ “ شہمیر نے پوچھا۔
اور مُرادو نے مُسکرا مسکرا کر اُسے پُوری بات سنائی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •