ریاستی بیانیے سے اختلاف غداری نہیں ہے!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انیس سو اٹھاسی میں امریکی بحریہ نے ایک ایرانی مسافر جہاز مار گرایا اور اس میں سوار تمام دو سو نوے مسافر ہلاک ہو گئے۔ اس کے بعد جب امریکہ کے خلاف ایک عالمی ردعمل آیا تو اس وقت کے امریکی صدر جارج بش نے بیان دیا کہ  حقائق کچھ بھی ہوں، میں امریکہ کی طرف سے کبھی معذرت نہیں کروں گا۔ اس بیان پر دائیں بازو کے ایک مخصوص طبقے کو چھوڑ کر امریکی میڈیا اور معاشرے نے منفی ردعمل دیا۔ اس بیان پر بحث کے دوران کئی دفعہ یہ کہا گیا کہ اپنے ملک سے محبت ہونی چاہیے لیکن یہ محبت اس قدر لا محدود نہیں ہو سکتی کہ اپنے ملک کی برائیوں کا اعتراف بھی نہ کیا جا سکے۔

دنیا میں ہر ریاست کا ایک بیانیہ ہوتا ہے اور اس بیانیے سے اختلاف کرنے والے بھی موجود ہوتے ہیں۔ ایسا ہی پاکستان میں بھی ہے۔ جب ملک قائم ہوا تو ریاست نے ایک بیانیہ ترتیب دیا۔ ملک کے ایک طبقے نے اس بیانیے کی مخالفت کی۔ یہاں تک تو کچھ بھی غیر معمولی نہیں تھا لیکن پھر ہوا یوں کہ پاکستانی ریاست نے مخالفین کو غدار اور ملک دشمن قرار دینا شروع کر دیا اور جو لوگ ریاستی بیانیے پر ایمان بالغیب لے آئے انہیں محب وطن قرار دیا۔ یوں اختلافی نکات پر بحث ناممکن بنا کر انہیں اوجھل کر دیا گیا اور یہ سلسلہ آج بھی پوری شد و مد سے جاری ہے۔ سو کیا واقعی ریاست سے اختلاف رائے ملک دشمنی ہے؟

امریکی سینیٹر کارل شرز کا ایک مقولہ اکثر نقل کیا جاتا ہے کہ ‘‘میرا ملک میرا ہے، غلط ہو یا صحیح۔ اگر یہ صحیح ہے تو مجھے اسے صحیح رکھنا ہے اور اگر یہ غلط ہے تو مجھے اسے صحیح کرنا ہے۔’’ اسی طرح ایک امریکی ناول نگار جارج بالڈون نے لکھا کہ مجھے امریکہ سے زیادہ کسی ملک سے محبت نہیں اور اسی لئے مجھے امریکہ پر تنقید کرنے کے حق پر اصرار ہے۔ حب الوطنی ریاست کے بیانیے کو آنکھیں میچ کر مان لینے کا نام نہیں بلکہ حب الوطنی کا اصل تقاضا یہ ہے کہ اگر ریاست کسی ایسے رستے پر گامزن ہو جائے جس میں ملک اور اس کے شہریوں کے نقصان کا احتمال ہو تو ریاست کو بتایا جائے کہ اسے راستے کی درستگی کی ضرورت ہے۔

پاکستان کے مقتدر حلقے بد قسمتی سے اس نو آبادیاتی سوچ سے آج تک چھٹکارا نہیں پا سکے جو انہیں برطانوی سامراج سے ورثے میں ملی تھی۔ برطانوی سامراج کے نزدیک بھارت کے عوام خود پر حکومت کرنے کے اہل نہیں تھے اور برطانوی سامراج ان کی فلاح کے وسیلوں کو ان سے بہتر سمجھتا تھا۔ یہ احساس کسی نہ کسی سطح پر پاکستانی مقتدر حلقوں کے اذہان میں آج بھی موجود ہے جنہوں نے کبھی بھی نوآبادیاتی تصورات سے جان چھڑانے کی کوشش نہیں کی۔ مثال کے طور پر پاکستان کا توہین عدالت کا قانون دنیا سے بالکل مختلف ہے۔ مہذب دنیا میں جج پر تنقید کرنے پر توہین عدالت نہیں لگتی بلکہ کسی فرد یا ادارے کے ارادی طور پر عدالت کے حکم کی عدم تعمیل پر لگتی ہے۔ خود امریکی سپریم کورٹ کی جج جسٹس سینڈرا ڈے او کونر کی رائے میں ججوں پر تنقید کی آزادی ایک جمہوری معاشرے کے لئے بہت ضروری ہے۔

اسی طرح برطانوی سامراج بھارت میں بستی کچھ اقوام کی جنگی صلاحیت کو دوسری اقوام سے زیادہ سمجھتا تھا سو بھارتی فوج میں بھرتی میں ان اقوام کو ترجیح دی گئی۔ ہم نے پاکستان کے قیام کے بعد بھی اس سوچ کو قائم رکھا۔ آنے والے عشروں میں پاکستان کو جن شدید سیاسی بحرانوں کا سامنا کرنا پڑا ان کی بنیادی وجوہات میں سے ایک وجہ یہ سوچ بھی بنی۔ یہی سامراجی سوچ ہے جو یہ سمجھتی ہے کہ ملک کا مفاد سمجھنے کے صرف وہ خود اہل ہیں اور ان سے اختلاف کرنے والا ملک کا دوست نہیں ہو سکتا۔

ملک دشمنی کا الزام بنیادی طور رائے کو دبانا ہے۔ یہ ریاست کے پاس دلیل نہ ہونے کی بیچارگی کی بھی نشانی ہے۔ انسانی تصور کا ارتقا رائے کی آزادی کا محتاج ہے۔ اس کے بغیر نئے امکانات کا سامنے آنا ناممکن ہے۔ انسانی محرکات کا تعین بہت مشکل کام ہے اس لیے مناسب بات یہی ہے کہ محرکات کو نظر انداز کر کے کہنے والے کو بولنے کی آزادی دی جائے اور جو کہا جا رہا ہے اس پر غور کیا جائے کہ وہ درست ہے یا نہیں۔ لیکن ملک عزیز میں جہاں تحقیق کی روش پہلے ہی معدوم ہے، اس تصور کو ترویج دی گئی کہ جب ایک شخص پر ملک دشمنی کا الزام لگ جائے تو پھر اس کے بعد اس کی رائے دینے کی آزادی ختم ہو جاتی ہے۔ اور جب وہ کوئی رائے دے بھی دے تو اسے سننے سے بھی گریز لازم ہے۔

پاکستان، پاکستان میں بستے لوگ اور پاکستانی سیاست کی حرکیات میرے محبوب ترین موضوعات ہیں اور ان پر درجنوں کتب پڑھ چکا ہوں۔ گزشتہ برس جب محترم حسین حقانی کی نئی کتاب طبع ہوئی تو اسے پڑھنے کے بعد میں نے رائے دی کہ پاکستان کو درپیش مشکلات اور ان کے حل پر اس سے بہتر کتاب شاید موجود نہیں۔ میری اس بات پر ایک بہت بڑے طبقے کا ردعمل یہ تھا کہ یہ ممکن ہی نہیں کہ حسین حقانی جیسا شخص پاکستان کو کوئی مثبت مشورہ دے سکے۔ میں نے ان سب لوگوں سے عرض کیا کہ آپ یہ کتاب یہ فرض کر کے پڑھ لیں کہ اس کتاب کے مصنف کا نام حسین حقانی نہیں۔ شاید پاکستان کا کوئی بھلا ہو جائے لیکن محب وطن لوگوں کو محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان کے بھلے سے زیادہ ریاست کے لگائے لیبل عزیز ہیں۔

مجھے پاکستان چھوڑے دو عشرے بیت چلے۔ میرا کوئی قریبی عزیز اب پاکستان میں مقیم نہیں ہے اور نہ ہی میری کسی طرح کی جائیداد پاکستان میں ہے۔ چنانچہ ذاتی طور پر پاکستان سے میرا کوئی مفاد یا نقصان وابستہ نہیں۔ پھر بھی اگر میں پاکستان کے بارے میں سوچتا ہوں تو اس کی واحد وجہ یہ ہے کہ پاکستان کے لوگ میرے لوگ ہیں۔ مجھے وہ دنیا میں بسنے والے تمام لوگوں سے زیادہ عزیز ہیں۔ ان کا فائدہ میرا فائدہ ہے اور ان کا نقصان میرا نقصان ہے۔

مجھ جیسے لاتعداد لوگ پاکستان کے اندر اور باہر موجود ہیں جو خلوص دل سے پاکستانی بیانیے کے کچھ حصوں کو غلط سمجھتے ہیں اور اپنے اختلاف کا اظہار کرتے ہیں۔ ممکن ہے وہ سب غلط ہوں لیکن خدارا انہیں ملک دشمن کہہ کر ان کے اخلاص کی توہین مت کیجیے۔ وہ غلط ہیں تو انہیں غلط ثابت کریں۔ میں کئی ایسے پاکستانیوں کو جانتا ہوں جو آسانی سے پاکستان سے کسی اور ملک منتقل ہو سکتے ہیں اور بہتر معیار زندگی کا لطف اٹھا سکتے ہیں لیکن وہ پاکستان اور پاکستان کے لوگوں کی محبت میں ملک دشمنی کا لیبل لگوا کر پاکستان کی فلاح اور پاکستانی بیانیے کی درستگی کے لئے کوشاں ہیں۔ اگر یہ حب الوطنی نہیں تو پھر کچھ بھی حب الوطنی نہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •