اردو کالم نگاری کیسے کرتے ہیں

میں بچپن سے اخبار بینی کا مریض ہوں سو اب تک اتنے اخبارات اور کالم پڑھ چکا ہوں کہ پاکستانی صحافت کے ارتقاء پر چھوٹا موٹا تھیسس لکھ سکتا ہوں۔ بچپن میں میں ارشاد احمد حقانی اور پروفیسر وارث میر جیسے لوگوں کے خشک کالم پڑھ کر بے مزہ ہوا کرتا تھا لیکن وہ ابتدائی…

Read more

ریاستی بیانیے سے اختلاف غداری نہیں ہے!

انیس سو اٹھاسی میں امریکی بحریہ نے ایک ایرانی مسافر جہاز مار گرایا اور اس میں سوار تمام دو سو نوے مسافر ہلاک ہو گئے۔ اس کے بعد جب امریکہ کے خلاف ایک عالمی ردعمل آیا تو اس وقت کے امریکی صدر جارج بش نے بیان دیا کہ  حقائق کچھ بھی ہوں، میں امریکہ کی طرف سے کبھی معذرت نہیں کروں گا۔ اس بیان پر دائیں بازو کے ایک مخصوص طبقے کو چھوڑ کر امریکی میڈیا اور معاشرے نے منفی ردعمل دیا۔ اس بیان پر بحث کے دوران کئی دفعہ یہ کہا گیا کہ اپنے ملک سے محبت ہونی چاہیے لیکن یہ محبت اس قدر لا محدود نہیں ہو سکتی کہ اپنے ملک کی برائیوں کا اعتراف بھی نہ کیا جا سکے۔

Read more

حساس اداروں کے نام: ایک درخواست

فوج ہر ملک کا ایک قیمتی اثاثہ اور اس کی آزادی کی محافظ ہوتی ہے۔ فوج کی اہمیت سے انکار تو کوئی احمق ہی کرے گا لیکن اسے باقی معاشرے سے بلند اور تنقید سے بالا سمجھنا نو آبادیاتی سوچ ہے۔ امریکی فوج کو دنیا کی طاقتور ترین فوج خیال کیا جاتا ہے لیکن اس…

Read more

ملا گردی کے سامنے بے بس ریاست

آسیہ بی بی کی بریت کے بعد ہونے والے دھرنے اور ہنگامے حکومت وقت کے ساتھ ایک معاہدے کے بعد اختتام پذیر ہو چکے۔ ان دھرنوں کے دوران کی گئی تقاریر کا نشانہ حکومت، ملک کی عدلیہ اور پاک فوج کی قیادت رہی۔ ہنگاموں کے دوران راہ چلتے لوگوں کی گاڑیوں، موٹر سائیکلوں اور پبلک املاک پر بے دریغ حملے کیے گئے اور انتظامیہ خاموش تماشائی بنی دیکھتی رہی۔ جس معاہدے کے تحت یہ لوگ اپنے گھروں کو واپس گئے اور جو عوام الناس کو دکھایا گیا اس کی دو شقیں ہیں کہ اگر ان مظاہروں کے دوران اگر کسی تحریکی کی ”شہادت“ ہوئی ہو تو اس کی فوری تحقیق کروائی جائے گی اور وہ تمام لوگ جنہیں ان ہنگاموں کے دوران گرفتار کیا گیا انہیں رہا کر دیا جائے گا۔ معاہدہ ہو جانے کے بعد کئی مبصرین نے ارشاد فرمایا کہ یہ اچھی بات ہے کہ معاملہ کسی ہلاکت کے بغیر ختم ہو گیا۔ میرے خیال میں تو ہلاکتیں ہوئیں اور وہ ہیں ریاست کے قانونی اختیار اور ریاست کے اخلاقی جواز کی ہلاکتیں۔

Read more

عمران کی حکومت، میری مراد بر آئی!

میں محترم عمران خان کی سیاست کا تب سے شاہد ہوں جب سے انہوں نے اس کارزار میں قدم رنجہ فرمایا۔ ان کے بارے میں مجھے کبھی یہ غلط فہمی نہیں رہی کہ ان پر کسی قسم کی فکری گہرائی رکھنے کا الزام دھرا جا سکتا ہے۔ ایسی غلط فہمی کا امکان خان صاحب نے اپنے…

Read more

جنرل صاحبان! اس خوف ناک سازش کو بے نقاب کریں

بخدمت جناب چیف آف آرمی سٹاف اور ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی! اس خاکسار کی آپ تک براہ راست رسائی نہیں اور ہو بھی تو اتنی ہمت کہاں کہ آپ جیسی ہستیوں سے بالمشافہ ہمکلام ہو سکوں۔ گھگھی بندھ جائے گی میری۔ اس لئے بذریعہ تحریر آپ سے مخاطب ہوں۔ یہ کس کے علم میں…

Read more