عقیدے اور دلیل کا ٹکراؤ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تحریر: نصیر میمن۔
ترجمہ: ناظر محمود۔

کچھ دن پہلے روزنامہ ڈان اخبار میں ایک خبر شائع ہوئی کہ سکھر میں کچھ مذہبی انتہا پسندوں نے حکومت کی طرف سے لگائے گئے گرمی کی شدت سے بچانے والے مرکز زبردستی بند کرا دیے کیونکہ ان کے خیال میں رمضان میں ان مراکز میں پانی کی سہولت دی جا رہی تھی جو ان کے خیال میں احترام رمضان کی خلاف ورزی ہے، اس واقعے پر اب تک کسی دینی عالم کا ردعمل نظر سے نہیں گزرا ہے،

ذاتی طور پر تین چار مذہبی عالموں سے رابطہ کیا ان سب نے مانا کہ یہ عمل غلط ہے اور اس قسم کی روش کا اسلام اجازت نہیں دیتا مگر ان میں سے کسی نے بھی آگے آکر اس واقعے کی مذمت نہیں کی۔

یہ تو ایک چھوٹا سا واقعہ ہے جو مذہب کی غلط تشریح کو ڈنڈے کے زور پر مسلط کرنے کی روش ظاہر کرتا ہے، مگر یہاں تو چھوٹی عمر کی بچیوں کا زبردستی مذہب بدلنے اور شادیاں کرانے کے واقعات عام ہیں، جب رمضان کا مہینہ شروع ہوا تو چاند دیکھنے کی بحث پھر چھڑ گئی ہمیشہ کی طرح پشاور کے مولویوں نے مرکزی رویت ہلال کمیٹی سے پہلے ہی چاند دیکھنے اور روزہ رکھنے کا اعلان کیا۔ اس موقع پر سائنس اور ٹیکنالوجی کے وزیر فواد چوہدری نے اعلان کیا کہ سائنس دانوں کی کمیٹی بنا کر سائنسی بنیادوں پر چاند کا کلینڈر تیار کریں گے۔

فواد چوہدری کی اس بات پر مذہبی عالم چڑ گئے اور رویت ہلال کمیٹی کے سربراہ مولوی منیب نے ان کو مذہبی معاملوں سے الگ رہنے کا کہا، کچھ برس پہلے بھی ایک بار محکمہ موسمیات کی طرف سے چاند کے بارے میں اطلاع دی گئی کچھ چینلوں نے خبر نشر کی پر ان پر مولوی صاحب نے غصے میں آکر ان کے مائیک بند کر دیے تھے، سوال یہ ہے کہ اکیسویں صدی میں سارے فلکیاتی معاملات سائنسی بنیادوں پر طے ہو رہے ہیں اور جدید سائنس ہزاروں نوری سالوں کے فاصلے پر موجود اجرام فلکی اور کائناتی مظاہر کی کامیابی سے نشاندہی کر رہی ہے، تو چاند نظر آنے کا تعین بھی سائنسی طریقوں پر کیوں نہیں ہو سکتا ہے، در حقیقت اوپر دی گئی مثالوں میں معاملہ گرمی کے مریضوں کے لیے پانی کی ضرورت یا چاند کو سائنسی بنیادوں پر طے کرنے سے زیادہ سماج پر اس اجارے اور قبضے کا ہے جس کے ہاتھوں سے نکلنے کا خوف ان عناصر کو سماج پر اپنے ایک عقیدے کی بنیاد پر قائم رکھنے کے لیے اکساتا ہے۔ مسئلہ کسی کو  پانی پلانے یا چاند دیکھنے سے نہیں بلکہ سماج میں عقلی سوچ کے ابھار کا ہے

ان قوتوں اور ان کی حمایت میں خاموش رہنے والوں کو یہ سادہ حقیقت اچھی طرح سمجھ میں آجاتی ہیں مگر انہیں یہ بات پریشان کرتی ہے کہ جب سماج میں عقل کی بنیاد پر فیصلے ہونے لگے تو پھر ان کے ہاتھوں سے دیگر باتیں بھی نکل جائیں گی۔ یہ رویہ صرف پاکستان یا مسلمان مذہبی عالموں کا نہیں، یہ آج کے دور کا مسئلہ ہے۔ یہ رویہ ہندوستان میں مذہبی جنونی بھی رکھتے ہیں اس حوالے سے یورپ میں چرچ کی تاریخ بے شمار مثالوں سے بھری ہوئی ہے، یورپ میں چودھویں سے سولہویں صدی کے دوران نئی بیداری کا دور تھا۔ ان ہی صدیوں میں یورپ سائنس، آرٹ اور سیاست کے میدان میں سماج کے نئے بنیاد رکھ رہا تھا جس نے آج کے مہذب یورپی سماج کی تعمیر کی۔

اس سے قبل یورپ کے تاریکی دور میں ہر طرف چرچ کا قبضہ تھا۔ یہ قبضہ اس بنیاد پر تھا کہ جو کچھ بائبل میں لکھا ہے وہ ہی آخری سچ ہے اور بائیبل کی تشریح کرنے کا حق صرف کیتھولک چرچ کے پاس تھا۔ جب کہ پندرہویں صدی میں گٹن برگ نے چھاپہ خانہ ایجاد کیا تو چرچ کے پادریوں نے اس کی بھی مخالفت کی کیونکہ اس طرح بائیبل کے چھپنے اور ہر کسی تک پہنچنے کا اندیشہ تھا۔

بارہویں صدی کے اسپین میں مسلمان اور یہودی عالم بھی مذہب کو عقل کے بنیاد پر پرکھنے اور اس کی عقلی تشریح کرنے کے خلاف تھے۔ انہیں صدیوں کے دوران عقلی دلیل کو عقیدے پر بالادست کرنے کے لیے اس دور کے عالموں اور سائنس دانوں نے بڑی قربانی دی تھیں۔ اس کی کئی مثالیں ہیں جن میں سے کچھ مثالوں کے ذریعے اس رویے کے تاریخی پس منظر کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

دنیا میں مشہور فلسفی اور اسلامی قانون کے ماہرین ابن رشد کو 1126 عیسوی میں اسپین کے شہر قرطبہ میں پیدا ہوئی۔ مذہب پر اس کی معلومات سے متاثر ہو کر خلیفہ ابو یعقوب، یوسف نے اس کی سرپرستی کی۔ اس کو سرکاری دربار میں عہدہ بھی ملا اور قرطبہ کا جج بھی بنایا گیا، آگے چل کر اس کے خیالات سے اختلافات پر انہیں جلاوطن ہونا پڑا۔ فلسفے کی دنیا میں ابن رشد ارسطو کے خیالات کا حامل تھا۔ ان کا کہنا تھا اسلام کو فلسفے کے بنیاد پر سمجھنے کی ضرورت ہے، اس نے کہا کہ مذہبی کتابوں کو سادہ نشانیوں اور وسیلوں سے سمجھنے کی ضرورت ہے

ابن رشد خواتین کے حقوق کا زبردست حامی تھا۔ فلسفے کو مذہب سے جوڑنے کا مطلب تھا کہ مذہب کی عقیدے کے بجائے عقلی بنیادوں پر تشریح کی جائے۔ یہ بات اس وقت کے انتہا پسندوں کو قبول نہیں تھا۔ قرطبہ کی جامع مسجد میں ایک بار آنے پر پتھراؤ بھی کیا گیا تھا۔ جب بنیاد پرست خیالات کا حامل المنصور حکمران بنا تو ابن رشد کو برا وقت دیکھنا پڑا۔ المنصور نے انتہاپسندوں کے دباؤ میں ابن رشد کو مذہب کی توہین کا ذمہ دار قرار دیا اور اس کی کتابیں جلانے کا حکم دیا جبکہ مذہبی تنگ ٹولے نے قرطبہ کی لائبریری کو تباہ کیا تو ابن رشد نے کہا ”مذہبی پیشواؤں جیسا ظلم دھرتی پر کوئی اور نہیں کرتا“ المنصور کے حکم پر ان کے قاضی کے عہدے سے ہٹا کر جلاوطن کر دیا گیا اور وہ اسی جلاوطنی میں ہی اس دنیا سے گزر گئے ”آگے چل کر یورپ کے مسیحوں نے ابن رشد کی دلیل اور عقیدے کی بابت سوچ پر بڑا کام کیا اور مسلمانوں سے زیادہ مسیحوں نے ان کے کام سے فائدہ اٹھایا۔

اسی دور میں ایک یہودی فلسفی نے بھی جنم لیا۔ ابن رشد کے بارہ سال بعد موسی بن میمنون پیدا ہوا جو ایک یہودی فلسفی اور دانشور تھا۔ اس دور کے اسپین میں مذہبی آزادی بہت تھی اور ریاست مذہبی رواداری پر عمل رکھتی تھے، جب 1148 میں قرطبہ پر انتہاپسندوں نے قبضہ کیا تو اس کے بعد یہودیوں کو حکم ملا کہ اسلام قبول کر لیں یا جلاوطن ہو جائیں، مجبور ہو کر موسی بن میمون مسلمان کا روپ دھار کر رہنے لگا اور مذہبی عقیدے پر عمل صرف گھر تک محدود رکھ دیا۔ بعد میں جب حالات اس سے بھی سخت ہوگئے تو وہ وہاں سے مصر چلا گیا۔ موسیٰ گزشتہ 2 ہزار سال کے دوران یہودی مفکروں میں اہم ترین مقام کا حامل ہے۔

اس نے بھی ابن رشد کی طرح عقلی بنیادوں پر عقیدے کی تشریح کرنے کی دلیل دی، اس نے موت کے بعد پھر زندہ ہونے کے نظریے کا انکار کیا تو یہودی مذہب کے پیشواؤں نے اس پر مذہب سے پھرنے کا الزام لگایا۔ 1232 میں اس کی کتابیں ضبط کرنے اور جلانے کا حکم دیا گیا۔

اس طرح اسی دور میں اسپین میں ہمارے ہم مذہبوں کے ہاتھوں مسلمان عالم ابن رشد پھر نشانہ بن گیا اور یہودیوں کے ہاتھوں موسی بن میمون عتاب کا شکار رہا، دونوں کو رد کرنے کی بنیاد ایک ہی تھی کہ وہ دونوں مذہب کے عقیدے کے بجائے عقل کی آنکھ سے دیکھنے کے حامل تھے اور اس کا پرچار کرتے تھے

دو تین صدی آگے بڑھیں تو 1548 میں اٹلی سے تعلق رکھنے والے فلسفی اور سائنسدان برونو کو چرچ کی طرف سے زندھ جلانے کی سزا دی گئی، برونو کا قصور یہ تھا کہ وہ کوپر نیکس کی کائنات بابت تشریح کو عام کر رہا تھا، اس تشریح کے مطابق کائنات کا مرکز زمین نہیں، سورج ہے اور زمین سمیت دوسرے تمام فلکیاتی وجود اس کے گرد گھوم رہے ہیں، اس پر پر ویٹی کن اور رومن چرچ ناراض ہو گیا، مگر برونو اس موقف سے پیچھے نہیں ہٹا اور اپنی تحقیق کی بنیاد پر دعوی کیا کہ ”کائنات وہ ہی نہیں جو ہمیں نظر آتی ہے بلکہ کائنات لا محدود ہے اور ہماری جیسی دیگر دنیائیں بھی اس کائنات میں وجود رکھ سکتی ہیں“

رومی چرچ نے 1599 میں برونو کو مذہب کی توہین کا مجرم قرار دیا اور اس کو توبہ کرنے کا کہا جس پر اس نے انکار کر دیا تو 1600 میں چرچ کی طرف سے حکم دیا گیا کہ مذہب کی توہین پر مشتمل اس کی کتابیں تلف کردی جائیں اور خود برونو کو زندھ جلا دیا جائے۔ جب چرچ کے مذہبی عدالت نے برونو کو سزا سنائی تو اس نے کہا کہ مجھ سے زیادہ آپ سزا سے خوف زدہ ہیں، اس کو 16 فروری 1600 میں زندھ جلا دیا گیا

اسی دور میں اٹلی کے ایک اور فلسفی اور عظیم سائنسدان گالیلیو کو بھی نظام شمس کا مرکز سورج قرار دینے کا قصور وار ٹھہرایا گیا اور سزا دی گئی۔ وہ بھی کوپر نیکس کے کائناتی ماڈل کا حامل تھا۔ رومی چرچ نے 1605 میں تفتیش کے بعد اس کو مذہبی کتابوں سے انحراف کا ذمہ دار ٹھہرایا اور اسے باقی زندگی قید میں گذارنا پڑی۔ یاد رہے کہ 1543 میں کوپر نیکس نے اپنی تحقیق سے ثابت کیا تھا کہ نظام شمسی کا مرکز زمین نہیں، سورج ہے۔

برونو اور گلیلیو کے معاملے میں بھی چرچ کو سورج یا زمین سے مسئلہ نہیں تھا بلکہ عقیدے کے ڈنڈے سے سماج پر کیے ہوئے قبضے کے کمزور ہونے کا خطرہ تھا۔ کیونکہ اگر بائیبل میں لکھی ہوئی ایک بات بھی سائنس کے مطابق غلط ثابت ہوئی تو پھر سماج میں ان کا قبضہ سلامت نہیں رہے گا۔ یہی روش آج بھی جاری ہے۔ اگست 2015 میں بھارت کے صوبے کرناٹک میں انتہاپسندوں نے ایک بھارتی دانشور ملیشا کل برگی کو اس لیے قتل کر دیا کہ وہ بتوں کی پوجا کے خلاف تھا۔ کل برگی یونیورسٹی میں پڑھاتے تھے اور سو سے زائد کتابوں کے مصنف تھے۔ اس طرح اگست 2013 میں عقلیت پسند سماجی کارکن نریندر بھولکر کو ہندو انتہاپسندوں نے پونا شہر میں گولیاں مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ بھولکر کی کوششوں سے ہندو ذات پات والے کالے نظام کے خلاف قانون بھی منظور کیا گیا۔ پاکستان میں ولی خان یونیورسٹی مردان میں مشال خان کا قتل اور ابھی کچھ ہفتے پہلے بہاولپور یونیورسٹی میں ایک طالب علم کے ہاتھوں اس کے استاد کا قتل کہ وہ نئے طلباء کے استقبال میں تقریب کرنا چاہتا تھا اور یہ بات قاتل کے نزدیک مذہب کے خلاف تھی۔

اسی طرح کی بی شمار مثالیں ہیں، انسانی معاشرے میں عقیدے اور دلیل کا ٹکراؤ صدیوں سے جاری ہے۔ یورپی سماج شاہ ثانیہ کے دور میں بڑی قربانیوں کے بعد عقیدے کی پکڑ سے آزاد ہوا، مگر مسلم ممالک اب بھی زیادہ تر مذہب کی غلط تشریح اور انتہا پسندی کا شکار ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •