جسٹس فائز عیسیٰ نے صدر کو خط کیوں لکھے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جسٹس فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس اور اس میں لگائے گئے الزامات کا بودا پن اتنا واضح ہے کہ صف اول کے آئینی ماہرین ان خامیوں کی وضاحت نہ بھی کر رہے ہوں تو بھی قانونی موشگافیوں سے ناواقف لیکن عقل سلیم رکھنے والا ایک عام شہری بھی ان تضادات کا باآسانی اندازہ لگا سکتا ہے۔

اس ادراک کے لئے قانون کے پیشے سے نہیں، کامن سینس سے تعلق درکار ہے۔ بظاہر بدنیتی پر مبنی اس ریفرنس پر سیاسی اور قانونی حلقوں سے آنے والے ردعمل سے مدعی یعنی حکمران بے چین ہو گئے ہیں۔

حکمرانوں کی پریشانی اور تضادات کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ پیمرا کے ذریعے اس ریفرنس پر بات نہ کرنے کی ہدایت جاری کروانے والی حکومت کی مشیر اطلاعات خود پریس کانفرنس میں اسی پر بات کرتی نظر ائییں۔ “احتساب کے شکنجے” کے حوالے دیئے گئے اور مقدمہ فیصل ہونے سے پہلے ایک تاثر بنانے کی کوشش کی گئی۔ سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس کی سماعت کے لئے چودہ جون کی تاریخ مقرر ہو چکی ہے۔ پہلی سماعت سے بھی قبل میڈیا کے ساتھ اس حوالے سے “حکومتی عزم” شیئر کرنے کے لئے مشیر اطلاعات کی بے صبری اور بے چینی کی خاطر خواہ وضاحت پیش نہیں کی گئی۔

کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ جسٹس فائز عیسیٰ کے خطوط کا سامنے آنا ان کے لئے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ یہ رائے بھی پائی جاتی ہے کہ یہ خطوط ان کی بے چینی ظاہر کرتے ہیں یا بالفاظ اپنے تئیں حفظ ماتقدم قسم کا اقدام ہیں وغیرہ وغیرہ۔ سوشل میڈیا کی غیر رسمی زبان اور مزاج کے مطابق کچھ سوشل میڈیا یوزر اسے چور کی داڑھی کا محاوراتی تنکا قرار دے رہے ہیں۔ ہمارا خیال ہے کہ یہ تاثر خاصا سطحی ہے اور درست نہیں۔

جسٹس فائز عیسیٰ کے خطوط کی قانونی حیثیت یہ ہے کہ وہ ایک فرد کی جانب سے سربراہ ریاست کو لکھے گئے ہیں۔ وہ فرد یعنی جسٹس فائز سوشل میڈیا استعمال نہیں کرتے جس کے ذریعے مبینہ طور پر یہ خطوط عوامی رسائی میں آئے ہیں۔ اس بات کو ثابت کرنا عملا ممکن نہیں کہ پبلک تک یہ خطوط کیسے پہنچے۔ سمارٹ فونز کی بدولت آج ایسی دستاویزات کی سیکیورٹی اگر ناممکن نہیں تو انتہائی مشکل ضرور ہو چکی ہے۔

کیونکہ جسٹس فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس سربراہ مملکت کی طرف سے دائر کیا گیا لہذا ان کی طرف سے پہلا خط لکھ کر اس کی تصدیق کرنا اور کاپی مانگنا بالکل جائز اور قانونی طور پر درست فعل تھا۔ اور اس پہلے خط کی اکنالجمنٹ یعنی رسید نہ ملنے، ریفرنس کی کاپی سرکاری طور پر نہ ملنے اور اسی دوران حکومتی ارکان کی جانب سے کردار کشی کی مہم چلانے پر دوسرا خط بھی برمحل اور ضروری تھا۔

خوش قسمتی سے جسٹس فائز کی شہرت ہرگز ایسی نہیں جو دو سابق چیف جسٹس صاحبان افتخار چوہدری اور ثاقب نثار کا طرہ امتیاز تھی۔ مؤخر الذکر دونوں سابق چیف جسٹس عدالتی، قانونی اور اخلاقی روایات کے برعکس خود نمائی، جاہ پسندی اور سائلین سے امتیازی سلوک کے لئے جانے جاتے تھے۔

ثاقب نثار صاحب کا شوق خود نمائی تو اس مریضانہ حد تک بڑھ گیا کہ میڈیا کو دیکھتے ہی آپے سے باہر ہو جاتے اور برتن پھینکنا اور چیخنا چلانا شروع کر دیتے۔ برتن پھینکنے کا مظاہرہ انہوں نے دماغی امرض کے ہسپتال میں کیا۔ سندھ کی ایک ماتحر عدالت مین جج کا موبائل فون اٹھا کر پٹخ دیا۔ لگتا تھا موصوف کے ذہن میں کوئی نفسیاتی گرہ تھی جس کا عوامی اظہار اچھا خاصا تماشہ کھڑا کر دیتا۔

ان ناقابل تقلید مثالوں کے برعکس جسٹس فائز کی ایسی ویڈیوز موجود ہیں جن میں وہ عدلیہ کی چند کلاسیکی روایات کی پیروی کرتے میڈیا سے بات کرنے سے گریزاں دیکھے جا سکتے ہیں۔ ایسے قانون دان کو قانونی اور اخلاقی نکات پر کارنر کرنا اگر ناممکن نہیں تو انتہائی مشکل ضرور ہے۔ اس معاملے میں دلچسپی رکھنے والے دوستوں کو شاید یاد ہو کہ ایسی ایک ناکام کوشش پہلے بھی کی جا چکی ہے۔ اس میں بھی مبینہ سہولت کار مذکورہ بالا سابق چیف جسٹس ثاقب نثار ہی تھے۔

تو پھر اس گناہ بے لذت کا فائدہ؟ اس سوال کے ممکنہ طور پر دو جوابات ہو سکتے ہیں۔ ایک تو یہ عمومی جواب کہ ہر کوئی اپنے حصے کے جوتے اور پیاز کھا کر ہی سیکھتا ہے تو یہ حکومت بھی شاید یہی تجربہ دہرانے جا رہی ہے۔ دوسرا جواب تاہم زیادہ قرین قیاس ہے۔

حکومت کو مستقبل کے عدالتی منظر نامے میں جسٹس فائز عیسیٰ اپنے ایجنڈے کی تکمیل میں ایک رکاوٹ کی صورت نظر آتے ہیں۔ جسٹس فائز کے تحریر کردہ حالیہ فیصلے اور ان کا اپنی ذمہ داریوں کے حوالے سے مؤقف جس کا صدر کے نام خط میں بھی ذکر کیا گیا ہے، ظاہر کرتے ہیں کہ ان کے نزدیک کسی فرد یا ادارے سے زیادہ مقدم منصبی ذمہ داریاں اور آئینی تقاضے ہیں۔ اس سوچ کا حامل غیر لچکدار مزاج کا فرد مخصوص ایجنڈے رکھنے والوں کے لئے ناقابل قبول ہوتا ہے۔

حکومت کو ایسا لگتا ہے کہ وہ اس کمزور ریفرنس کے ذریعے جسٹس فائز عیسیٰ کو عدالت عظمٰی سے ہٹوانے میں کامیاب نہ بھی ہو پائی تو بھی اس ریفرنس میں پارٹی ہونے کی وجہ سے مستقبل میں وہ حکومت یا موجودہ حکمرانوں کے خلاف کسی بھی بنچ کا حصہ بننے سے اجتناب کریں گے۔ اس طرح جسٹس فائز عیسیٰ کو برخواست کروانے میں ناکامی کے باوجود حکومت کو خاصی حد تک مطلوبہ مقاصد حاصل ہو جائیں گے۔ یعنی حکومت کے لئے ہر دو صورتوں میں یہ ریفرنس ون ون (win win) نتائج پیدا کرے گا۔

ہمارا خیال ہے حکومت غلط سوچ رہی ہے۔ اس عمل کے دوران حکومت بڑی حد تک اخلاقی اور سیاسی سرمائے سے محروم ہو جائے گی۔ یہ جنس ویسے بھی موجودہ انتظام کے پاس وافر تو کیا مطلوبہ مقدار میں بھی دستیاب نہیں۔ اور جس وقت ملک کو پریشان کن معاشی مسائل درپیش ہوں گے تو سیاسی و اخلاقی سرمائے کا خسارہ ناقابل تلافی نقصان کا سبب بن سکتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •