لاہور کے بازارِ حسن  کی روشنیاں بجھ گئیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

لاہور کا بازارِ حسن، جسے پرانے لاہوری شہر کے ماتھے کا جھومر کہتے تھے، اب گمنامی کے اندھیرے میں کھو گیا ہے۔

ماضی میں روشنیوں، حُسن اور موسیقی کا مرکز سمجھا جانے والے لاہور کے تاریخی بازارِ حسن میں آج یہ سب کچھ ایک خواب سا لگتا ہے۔

آج اس بازار میں آنے والوں کا استقبال رقص و موسیقی کی روایت کے امین ان کوٹھوں پر پڑے تالے کرتے ہیں۔

اس بازار کی بلند عمارتوں کے چوباروں کی کھڑکیاں شاید ہمیشہ کے لیے بند ہو گئی ہیں۔

وہ بازار جو سرِ شام ہی روشنیوں سے جگمگا اٹھتا تھا، موسم گرما کی نسبتاً خوشگوار  شام میں اندرون شہر کے کسی عام محلے کی گلیوں کی مانند ویران پڑا تھا۔

بازار میں کوٹھوں کی جگہ اندرون اور بیرونِ ملک طائفے لے جانے والے پروموٹرز کے دفاتر نے لے لی ہے۔

آلاتِ موسیقی کی ان دکانوں کی رونق بھی اسی بازار کے دم سے تھی اور رقص کی محافل کی بندش کے بعد ان کے مالکوں کی قسمت میں گاہک کا انتظار ہی لکھا ہے۔

شجاعت علی جیسے سازندے بھی اس بازار کی بندش سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں اور اب ان کے لیے دو وقت کی روٹی کمانا بھی مشکل ہے

رات کے وقت اس بازار میں اگرچہ اب بھی روشنی کا راج ہے تاہم یہ روشنی کوٹھوں سے نہیں بلکہ کھانے پینے کی اشیاء کی دکانوں سے آتی ہے۔

بازارِ حسن کے مرکز میں واقع اس سنیما کی رونق بھی بازار کی طرح ماند پڑ چکی ہے

بازار میں اپنے دفتر میں بیٹھے پروموٹر اشرف علی کے مطابق دہشتگردی کے خطرات کے پیش نظر بازار میں ناچ گانے کا سلسلہ بند کروا دیا گیا ہے اور اب یہ کاروبار شہر کے مختلف علاقوں میں پھیل گیا ہے۔

دہشت گردی کو اس بازار کی بندش کی بڑی وجہ قرار دیا جاتا ہے اور پولیس اور مقامی افراد کے تعاون سے لگایا جانے والا یہ بینر اس کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •