دفاعی بجٹ میں کمی: وزیر اعظم کا پی آر سٹنٹ
اس صورت حال میں قرین قیاس یہی ہے کہ حکومت ایسے بالواسطہ محاصل میں اضافہ کرے گی جس کا براہ راست اثر عام شہری کی جیب پر پڑے گا۔ اس کے علاوہ مختلف شعبوں میں دی جانے والی اعانت یا سبسڈی کو ختم کیا جائے گا۔ اس سے بھی عام گھروں کے مالی معاملات ہی متاثر ہوں گے۔ بجٹ کے بعد عام گھر کے اخراجات میں اچانک اضافہ ہوجانے کا امکان بڑھ گیا ہے۔
اس حوالے سے یہ بات بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ آئی ایم ایف نے چھے ارب ڈالر کا جو مالی پیکج دینے پر رضا مندی ظاہر کی ہے اس میں غیر پیداواری اخراجات میں کمی بنیادی نکتہ ہے تاکہ ملکی معیشت میں توازن پیدا کرتے ہوئے اس کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ کرنے کا کام شروع ہوسکے۔ جب بھی کسی ملک کے غیر پیداواری مصارف کی بات کی جائے گی تو دفاعی اخراجات اس میں سب سے پہلے زیر غور آئیں گے۔ حکومت آئی ایم ایف کے ساتھ ہونے والے معاہدہ کی تفصیلات بتانے کے لئے تیار نہیں ہے لیکن دریں حالات یہ اندازہ کرنا مشکل نہیں ہونا چاہیے کہ اس معاہدہ میں حکومت سے دفاعی اخراجات میں کمی کا تقاضہ کیا گیا ہوگا۔ لیکن داخلی مجبوریوں اور خودمختاری کے زعم میں حکومت آئی ایم ایف کی کسی ایسی شرط کا ذکر کرنے کی متحمل نہیں ہوسکتی۔ اس لئے دفاعی بجٹ میں اگر کوئی کمی کی جارہی ہے تو اس کا تعلق آئی ایم ایف کے ساتھ ہونے والے معاہدہ کی شرائط پورا کرنے سے بھی ہے۔
اس پس منظر میں یہ بات ناقابل فہم نہیں ہونی چاہیے کہ ملک کی حکومت اور فوج بجٹ میں مہنگائی کا بم گرنے سے قبل قوم کا اعتماد حاصل کرنے کے لئے بے چین ہے۔ اس لئے وزیر اعظم کے جس ٹوئٹ سے عید کے دن کا آغاز ہؤا ہے اسے پبلک ریلیشننگ ہتھکنڈے سے زیادہ کوئی اہمیت نہیں دی جاسکتی۔ فوج بھی یہ بات جانتی ہے کہ جب ہر شعبہ میں بچت کا شور و غوغا ہو اور عوام پر ٹیکسوں کی بھرمار ہورہی ہو تو اس ماحول میں دفاعی بجٹ کو برقرار رکھنے کا اعلان فوج کی شہرت کے لئے بھی اچھا نہیں ہے۔ جنرل قمر جاوید باجوہ ہمیشہ سے یہ کہتے رہے ہیں کہ ملک کی فوج عوام کی تائید و تعاون سے ہی دشمن کا سامنا کرسکتی ہے۔ اس تائید کو برقرار رکھنے کے لئے عوام کو یہ بتانا ضروری ہے کہ جب عام شہری معاشی مشکلات کی وجہ سے متاثر ہورہے ہیں تو فوج بھی ایثار کرتے ہوئے دفاعی اخراجات میں کمی قبول کررہی ہے۔
دفاعی اخراجات میں کمی کی حقیقت ابھی یا بجٹ آنے کے بعد بھی شاید کبھی سامنے نہیں آسکے گی۔ وزیر اعظم نے بھی اظہار تشکر کرتے ہوئے صرف یہی کہا ہے کہ اس مد میں بچنے والے وسائل قبائلی علاقوں اور بلوچستان میں صرفکیے جائیں گے۔ واضح رہے کہ یہ سارے منصوبے بھی فوجی اداروں ہی کی نگرانی میں تکمیل کو پہنچ رہے ہیں۔ وزیر اعظم نے دفاعی اخراجات میں کمی کے کوئی اعداد و شمار پیش نہیں کیے ہیں۔ اور آرمی چیف نے بھی صرف افسروں کی تنخواہیں منجمد کرنے کی بات کرکے بحث کو سمیٹا ہے۔ ایسے میں یہ کہنا مشکل ہے کہ دفاعی بجٹ میں درحقیقت کوئی کمی کی جائے گی یا مختلف مدات کے نام بدل کر اعداد و شمار کے ہیر پھیر میں اصل کہانی چھپا دی جائے گی۔
ملک کو بھارت اور دیگر ہمسایہ ملکوں کے ساتھ دگرگوں تعلقات کی روشنی میں مضبوط فوج کی ضرورت ہے۔ لیکن پاکستان کا دفاعی بجٹ کسی صورت بھی بھارت کے دفاعی اخراجات کا مقابلہ کرنے کی سکت نہیں رکھتا۔ اسی لئے ملک کی ایٹمی صلاحیت کو ’ڈیٹرنٹ‘ قرار دے کر یہ دلیل دی جاتی ہے کہ جوہری قوت کی وجہ سے ہی پاکستان محفوظ ہے۔ اس دلیل کو سچا ثابت کرنے کے لئے ملک کے دفاعی اخراجات میں حقیقی کمی کے قومی منصوبہ پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ کام البتہ سول ملٹری تعاون کا راگ الاپنے والی کوئی حکومت کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکتی۔
فی الوقت قومی سیاست کے عواقب یہی بتاتے ہیں کہ مستقبل قریب میں بھی ایسی کوئی حکومت قائم ہونے کا امکان نہیں ہے جو ان اہم اور حساس معاملات کو پارلیمنٹ میں پیش کرکے کوئی قابل عمل قومی منصوبہ بنانے کا حوصلہ کرسکے۔ جب حکومتیں فوج کی اشیرباد کے بغیر قائم ہونے کا امکان نہ تو دفاعی بجٹ میں کمی بیشی بھی فوج کی مرضی سے ہی ہوگی۔

