کٹہرے میں کھڑی آزادی صحافت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گزشتہ روز آسٹریلیا کی فیڈرل پولیس نے قومی نشریاتی ادارے آسٹریلین براڈ کاسٹنگ کارپوریشن کے دفتر پر چھاپہ مارا اور اپنے ٹیکنیکل ماہرین کی مدد سے’افغان فائیلز‘ کے نام مشہور دو برس قبل نشر کی جانے والی ایک رپورٹ سے متعلق ایک سو سے زائد دستاویز کو قبضے میں لے کر مہر بند کیا ہے۔ اب دو ہفتے کے اندر کوئی مجاز عدالت یہ طے کرے گی کہ پولیس کیا ان دستاویزات کو ثبوت کے طور پر استعمال کرسکتی ہے۔

منگل کے روز بھی آسٹریلیا کی فیڈرل پولیس نے نیوز کارپوریشن کی ایک صحافی انیکا سمٹ ہرسٹ کے گھر پر چھاپا مارا اور اس کے کمپیوٹر کی پڑتال کی تھی۔ نیوز کارپوریشن آسٹریلیا کا بڑا میڈیا گروپ ہے جس کے مالک عالمی شہرت یافتہ روپرٹ مرڈوک ہیں۔ یہ ادارہ برطانیہ کے دی ٹائمز اور دی سن کا بھی مالک ہے۔ اگرچہ پولیس کا دعویٰ ہے کہ ان دونوں معاملات کا ایک دوسرے سے کوئی تعلق نہیں ہے لیکن ان دونوں معاملات میں قومی سلامتی کے بارے میں 1914 کے ایک قانون کے تحت وارنٹ جاری ہوئے تھے۔ اس قانون میں گزشتہ برس ترمیم کرتے ہوئے اسے سخت کیا گیا تھا۔ پولیس کو اس قانون کے تحت قومی سلامتی سے امور میں زیادہ اختیار حاصل ہوگئے تھے۔ اب فیڈرل پولیس انہی اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے یہ جاننے کی کوشش کررہی ہے کہ کہ ان دونوں معاملات میں خبروں کا ’ذریعہ‘ کیا تھا۔ اس لئے ماہرین کا کہنا ہے کہ پولیس کی یہ کارروائی اگر براہ راست صحافیوں کی آزادی پر حملہ نہ بھی ہو تو بھی پولیس انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی معلومات فراہم کرنے والے لوگوں تک پہنچنے کی کوشش کررہی ہے۔ اور اسے قومی سلامتی کا نام دیا جارہا ہے۔

2017 میں آسٹریلین ٹی وی نے ایک رپورٹ براڈ کاسٹ کی تھی جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ بعض ایسے آسٹریلوی فوجیوں کے خلاف تحقیقات کی جارہی ہیں جو مبینہ طور پر افغانستان میں تعیناتی کے دوران انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور کسی اختیار کے بغیر شہریوں کو ہلاک کرنے میں ملوث رہے تھے۔ پولیس دو برس سے اس معاملہ کی تحقیقات کررہی تھی کہ اے بی سی تک یہ خبر کیسے پہنچی اور اب قومی سلامتی کے ترمیم شدہ قانون کا سہارا لیتے ہوئے براہ راست اس نشریاتی ادارے کے کمپیوٹر سے یہ معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اے بی سی کے ایڈیٹروں نے بتایا ہے کہ اس چھاپہ کے باوجود اس رپورٹ میں معلومات فراہم کرنے والے لوگوں کے نام افشا نہیں ہو سکے ہیں ۔ نشریاتی ادارے نے عزم ظاہر کیا ہے کہ وہ ہر قیمت پر اپنے صحافیوں اور ان کے ذرائع کا تحفظ کرے گا۔ اس ادارے کے وکلا اب اس معاملہ پر عدالت کا حکم حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔

نیوز کارپوریشن کی صحافی کی رپورٹ گزشتہ برس شائع ہوئی تھی اور اس میں آسٹریلوی شہریوں کی خفیہ نگرانی کے بارے میں سنسنی خیز معلومات فراہم کی گئی تھیں ۔ اب پولیس ان لوگوں کا نام جاننا چاہتی ہے جبکہ صحافی انیکا سمٹ ہرسٹ اور نیوز کارپوریشن نے ذرائع کی حفاظت کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ منگل کو ہی ایک مقامی ریڈیو اسٹیشن 2جی بی کے براڈکاسٹر بین فورڈہیم نے بتایا تھا کہ پولیس اس کی ایک ایسی رپورٹ کی چھان بین کررہی ہے جس میں اطلاع دی گئی تھی کہ حال ہی میں پناہ گزینوں کی چھے کشتیوں نے آسٹریلیا کے ساحل تک پہنچنے کی کوشش کی ہے۔ تاہم فورڈہیم نے واضح کیا ہے کہ وہ کسی بھی قیمت پر کبھی بھی پولیس کو اپنے ذرائع کے بارے میں معلومات فراہم نہیں کریں گے۔

آسٹریلین براڈ کاسٹنگ کارپوریشن اور نیوز کارپوریشن کے علاوہ ملک کی صحافی تنظیموں اور عالمی براڈ کاسٹرز و صحافیوں نے یکے بعد دیگرے صحافیوں اور ایک بڑے نشریاتی ادارے پر پولیس کے چھاپوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ نشریاتی اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے پولیس کے چھاپوں اور تلاشی کی مذمت کی گئی ہے۔ پولیس کی طرف سے بنیادی انسانی حقوق سے متعلق خبریں فراہم کرنے کی کوششوں کی حوصلہ شکنی کا یہ اقدام ایک جمہوری ملک میں بنیادی حقوق کے حوالے سے انتہائی المناک اور اشتعال انگیز حرکت قرار دی جارہی ہے۔ ملک میں حال ہی میں دوبارہ وزیر اعظم بننے والے اسکاٹ موریسن پر سخت تنقید کی گئی ہے اور اپوزیشن کا کہنا ہے کہ ان کی حکومت کو پولیس کی ان کارروائیوں کا جواب دینا پڑے گا۔

تاہم وزیر داخلہ پیٹر ڈٹن کا کہنا ہے کہ پولیس نے انہیں یہ چھاپے مارنے کے بعد اطلاع دی تھی۔ ان کی حکومت کو اس بارے میں نہ خبر تھی اور نہ ہی اس کا اس میں کوئی کردار ہے۔ جبکہ منگل کو صحافی سمٹ ہرسٹ کے گھر پر چھاپے کے بعد وزیراعظم اسکاٹ موریسن نے کہا تھا کہ ’ وہ آزادی صحافت کے حامی ہیں لیکن مجھے اس بات سے کوئی پریشانی نہیں ہے کہ ملک میں قانون بالادست ہے‘۔ فیڈرل پولیس کا بھی یہی کہنا ہے کہ اس اقدام کے لئے اسے حکومت سے کوئی ہدایت نہیں ملی بلکہ اس نے ملکی قانون کے مطابق کارروائی کی ہے۔ پولیس کا دعویٰ ہے ’صحافیوں سمیت کوئی بھی قانون سے بالادست نہیں ہوسکتا‘۔

قومی سلامتی کو عذر بنا کر آسٹریلیا میں صحافتی اداروں کے خلاف جو کارروائی کی گئی ہے ، وہ معلومات کی ترسیل اور انسانی حقوق کے لئے پریشان لوگوں کی حفاظت کے تناظر میں سنگین معاملہ ہے۔ اگر صحافیوں کو مجبور کیاجائے گا کہ وہ بعض حساس معاملات پر معلومات دینے والے لوگوں کا تحفظ نہیں کرسکتے تو یہ آزادی صحافت پر براہ راست اور سنگین حملہ ہو گا۔ انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا انکشاف کرنے والی دستاویزات شائع کرنے والے ادارے وکی لیکس کے بانی جولیان اسانج کو گزشتہ ماہ لندن میں گرفتار کرلیا گیا تھا۔ وہ گزشتہ کئی سال تک ایکواڈور کے سفارت خانہ میں سیاسی پناہ گزین کے طور پر مقیم تھے۔ امریکی حکومت انہیں قومی سلامتی کی خلاف ورزی کے الزامات میں امریکہ لاکر مقدمہ چلانا چاہتی ہے۔ امریکی حکومت نے اسانج کے خلاف جو الزامات پیش کئے ہیں ، ان کے تحت انہیں ڈیڑھ سو برس تک قید کی سزا ہوسکتی ہے۔ اب برطانوی عدالت اسانج کو امریکہ کے حوالے کرنے کا فیصلہ کرے گی۔

اسانج کی گرفتاری کو بھی انسانی حقوق کے بارے میں خفیہ معلومات سامنے لانے کی کوشش کرنے والوں کو خاموش کروانے کا اقدام سمجھا جارہا ہے۔ عالمی صحافتی تنظیمیں اور انسانی حقوق کے ادارے اسے آزادی رائے اور صحافت کی خود مختاری پر حملہ تصور کررہے ہیں۔ اگر اسانج کو امریکہ میں سزا ملتی ہے تو یہ دنیا میں آزادی اظہار پر ایک سنگین حملہ کے مترادف ہوگا۔ اس طرح اب یہ بات طے ہے کہ صرف ترقی پذیر ممالک میں ہی صحافیوں اور آزاد رائے رکھنے والوں کو مشکل حالات کا سامنا نہیں ہے بلکہ ترقی یافتہ اور نام نہاد جمہوری معاشروں میں بھی قومی سلامتی کے نام پر انسانی حقوق کی بالادستی کے لئے معلومات عام کرنے والوں کا قافیہ تنگ کرنے کی کوششیں تیز ہورہی ہیں۔

 امریکی صدر ٹرمپ امریکی میڈیا کو ’فیک نیوز‘ قرار دے کر آزادی صحافت کے امکانات کو محدود کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں۔ گزشتہ برس اکتوبر میں استنبول کے سعودی قونصل خانہ میں صحافی جمال خشوگی کو بہیمانہ طریقے سے قتل کردیا تھا۔ دنیا بھر کی تنظیموں اور امریکی سیاست دانوں کے شدید مطالبے کے باوجود صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس معاملہ پر سعودی حکومت کو مورد الزام ٹھہرانے اور انسانی حقوق کی اس خلاف ورزی کے معاملہ پر باز پرس کرنے سے دو ٹوک انکار کیا ہے کیوں ان کے خیال سعودی عرب سے وابستہ امریکہ کے اقتصادی مفادات، ایک صحافی کے مجرمانہ قتل سے زیادہ اہم ہیں۔

مغربی حکومتوں اور لیڈروں کے اس طرز عمل کی وجہ سے ان ملکوں میں صحافیوں کے لئے آزاد رپورٹنگ یا رائے دینا مزید مشکل ہوچکا ہے۔ پاکستان اور بھارت سمیت ایسے ممالک جہاں جمہوری روایت کمزور ہے اور حکومتیں اپنے جرائم پر پردہ ڈالنے کے لئے قومی سلامتی کے نام سے خبروں کی ترسیل یا رائے کے اظہار کو مشکل بنا رہی ہیں۔ اس حوالے سے حال ہی میں امریکی تھنک ٹینک ’فریڈم ہاؤس‘ نے خطرناک رجحانات کی نشاندہی کی ہے۔ اس ادارے کی طرف سے دنیا میں آزادی صحافت کے حوالے سے جاری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ’ آن لائن میڈیا کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنے کے لیے، دنیا بھر کی حکومتیں خاص طور پر آن لائن شعبے میں سخت قوانین اور آڈیو ویژول ضابطے لاگو کر رہی ہیں۔ چین میں حکومت کی جانب سے نجی ٹیکنالوجی کمپنیوں پر دباؤ بڑھایا جا رہا ہے کہ وہ سینسر کے بغیر اطلاعات کی فراہمی کو روکیں‘۔

رپورٹ میں دنیا بھر کے ممالک کی درجہ بندی صفر سے چار کے اسکیل پر کی گئی ہے۔ اس میں صفر بدترین اور چار بہترین کی نشاندہی کرتا ہے۔ صفر میں چین، روس، یمن، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور سوڈان شامل ہیں۔ پاکستان، بنگلہ دیش، قطر، ایران، عراق، عمان، ترکی اور مصر کوکیٹگری ایک میں شامل کیا گیا ہے۔ البتہ افغانستان، بھارت، سری لنکا، بھوٹان کو دوسرے نمبر کی صف میں شامل کیا گیا ہے۔ ’فریڈم ہاؤس‘ کی رپورٹ میں بتایا ہے کہ بھارت میں بھی سیاسی جماعتیں سوشل میڈیا پر فیک نیوز اور ایڈٹ کی گئی تصاویر کے ذریعے پروپیگنڈے میں ملوث رہی ہیں۔

آسٹریلیا سے آنے والی خبر یں اور امریکی تھنک ٹینک کی سالانہ رپورٹ کی روشنی میں کہا جاسکتا ہے کہ دنیا میں اس وقت آزاد اور غیر جانبدار خبروں کی ترسیل کو شدید مشکلات اور چیلنجز کا سامنا ہے۔ اس وقت آزادی صحافت عملی طور سے کٹہرے میں کھڑی ہے۔ حکومتیں اور سیاست دان قانون یا پروپیگنڈے کے ذریعے اس بنیادی جمہوری آزادی کو محدود کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1342 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali