رمضان، انسان اور شیطان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

رمضان کا با برکت مہینہ گزرا۔ ماہ رمضان کے پہلے عشرے میں یوں لگ رہا تھا جیسے مہنگائی کا پہاڑ ٹوٹ پڑا ہو۔ بنیادی ضرورت کی ہر چیز کے نرخ آسمان سے باتیں کر رہے تھے۔ ایک متوسط طبقے کے لیے اِن بنیادی ضروریات ِ اشیاء کی خرید کسی بھی تکلیف سے کم نہ تھی اور آپ غریب طبقے کا اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ان کا کیا حال ہو گا۔ تمام تاجر حضرات پہلے عشرے میں غیر معیاری اشیاء انتہائی مہنگے داموں فروخت کرتے ہیں۔ وہ چیزیں جو پورے سال میں نہیں بکتیں اس عشرے میں وہ تمام بِک جاتی ہیں اور تاجر منافع بھی کئی گنا زیادہ کما لیتے ہیں۔

ذخیرہ اندوزی کا دھندہ اپنے عروج پر ہوتا ہے۔ کھجور اور پکوڑے جس کو ہماری قوم نے افطار کا حصّہ بنا لیا ہے انتہائی غیر معیاری ہونے کے باوجود منہ مانگے ریٹ پر بِکتے ہیں۔ میں نے ماہ ِرمضان میں بڑے بڑے معزّزین کو پکوڑے خریدنے کے لیے قطار میں کھڑے دیکھا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کی شاید پکوڑوں کے بغیر روزہ افطارہی نہیں ہو گا۔ پھل تو انسان کی قوتِ خرید سے ہی باہر ہوتے ہیں۔ مساجد میں گہما گہمی دیکھنے میں آتی ہے۔ نمازوں میں نمازیوں کی تعداد زیادہ ہو جاتی ہیں اور مسجد انتظامیہ کو مزید صفوں اور پنکھوں کی ضرورت پڑتی ہے۔ الغرض اس مقدس مہینے میں ہمارے وطنِ عزیز میں مساجد میں مکمل نیکیاں کمانے اور بازار اور عام زندگی میں مکمل لوٹ مار کا ماحول ہوتا ہے۔ غیر مسلم اور وہ لوگ جو کسی وجہ سے روزہ نہیں رکھتے اُن کا جینا محال ضیاء الحق کے قانون نافذ کرنے والے پولیس بھائیوں نے کیا ہوتا ہے۔

پولیس والوں کو میں نے ہمیشہ چھپڑ ہوٹل اور مزدوروں کو روٹی پکا کر دینے والے تندوروں پر ہی چھاپے مارتے دیکھا ہے۔ یہ اعلیٰ کردار اور مذہب کے محافظ پولیس اہلکار (چاہے وہ ڈرائیور ہی کیوں نہ ہو) غریب ہوٹل مالکان اور دیہاڑی دار مزدور جو کہ ان کے نزدیک روزہ خور اور گناہ گار ہیں کو گرفتار کرتے ہیں اوربھاری جرمانے کرتے ہیں۔ پھر اسی ماہِ مقدس میں یہ گناہ گار مزدور مذہبی پولیس کو نذرانہ دے کر اپنی جان اور آخرت بچاتے ہیں جبکہ اس مزدور نے ابھی تک اپنی دن بھرکی مزدوری کی اجرت بھی نہیں لی ہوتی۔

لیکن اس کے برعکس مجال ہے یہ پولیس فورس کسی بڑے ستارے والے ہوٹل، بیکری یا فاسٹ فوڈ چین پر چھاپہ مارے۔ ان لوگوں کو روزہ خور اور گناہ گار بیچارہ مزدور ہی نظر آتا ہے جو اپنے بچوں کے لیے آنے والے عیدکی خوشیاں تلاش کرنے کے لیے ہلکان ہو ا جا رہا ہوتا ہے۔ گورنمنٹ نے اگر ضیاء الحق کے قانون کا نفاذ کرنا ہی ہوتا ہے تو پھر براہِ کرم اس مقدس مہنیے میں مزدور کو ایک ماہ کی مزدوری دے کر گھر بیٹھا دیں تاکہ وہ بھی روزہ دار بن کر اپنی آخرت سنوار سکے۔

پندرہ رمضان تک تاجر حضرات پورے سال کی کمائی کر لیتے ہیں اور غیر معیاری اشیاء پر مذہب کا لیبل لگا کر خوب مال بٹورتے ہیں۔ مثال کے طور پر خالص اسلامی شہد، اصلی عجوہ کھجور، عربی کھجور، غیر ملکی پھل، بسم اللہ پکوڑے والا، ماشاء اللہ سموسے والا، مدینہ ڈرنک کارنر، مکہ پولٹری شاپ وغیرہ اپنا اپنا منافع کھرا کر کے زیادہ مالدار مدینے چلا جاتا ہے اور تھوڑا کم مالدار کسی مقامی اے سی والی مسجد میں اعتکاف میں بیٹھ جاتا ہے اور اللہ سے مغفرت مانگتا ہے۔

دوسری طرف غریب کو تو کوئی اعتکاف میں بھی نہیں بیٹھنے دیتا۔ ایک طرف تو اعتکاف کے باقاعدہ مختلف پیکجز موجود ہوتے ہیں جن کی اچھی خاصی فیس ہوتی ہے اوردوسری طرف اے سی والی مسجد، کولر والی مسجد، پنکھے والی مسجد، یوپی ایس والی مسجد ان سب کے ریٹ الگ الگ ہوتے ہیں۔ دیہاڑی دار مزدور کے لیے دس دن عبادت کا مطلب ہے اس کے گھر میں فاقہ اور عید پر بیوی بچوں کی اجتماعی خودکُشی اور وہ بھی اس ظالم معاشرے کی باتوں اور طعنوں ی وجہ سے۔

ہمارے ملک میں اس ماہ ِمقّدس میں ہر بندہ ہی لوٹ مار کرتا دکھائی دیتا ہے۔ سرکاری دفاتر کا ماحول آپ دیکھ لیں، دس بجے سرکاری بابو آئیں گے اور بارہ بجے چلے جائیں گے کیونکہ نماز کا وقت ہو جاتا ہے اور پھر اوپر سے روزہ بھی ہے جناب کو۔ کسی بھی جائز کام کے لیے عیدی کا حصول یکم رمضان سے ہی شروع ہو جاتا ہے۔ ہمارے ملک میں سب سے زیادہ رشوت عیدی کے نام پر اس ماہِ مقدس میں دی جاتی ہے جو کہ ایک مذہبی ریاست بھی ہے۔ جہاں رشوت خوراور ذخیرہ اندوز عبادت گزار بھی ہے اور مزے سے عید مناتا ہے جبکہ غریب روزہ خور بھی ہے اور عید پر خودکُشی بھی اس کا مقدر ٹھہرتی ہے۔

کہا جاتا ہے کہ ماہِ رمضان میں شیطان کو قید کر دیا جاتا ہے۔ شیطان کو ہی ہم تمام برائیوں کا ذمہ دار سمجھتے ہیں۔ انسان تو بیچارہ معصوم ہے اس سے ہر گناہ شیطان ہی کرواتا ہے۔ چاہے وہ رشوت ہو، ذخیرہ اندوزی ہو، ناجائز منافع خوری ہو، اپنے فرائض سے چوری ہو، قتل ہو، زنا ہو، الغرض ہر برائی کی جڑ شیطان ہی ہے۔ مگر شیطان تو اس مہینے میں قید ہو گیا اب یہ برائیاں کون کر رہا ہے۔ آپ اخبارات اُٹھا کر دیکھ لیں کوئی کمی نہیں آتی جرائم میں۔ اب ان برائیوں کا ذمہ دار کون ہے۔

انسان سے بڑا مکّار اور چالباز کوئی بھی نہیں، نیکی کا عمل اپنے کھاتے میں اور برائی کا عمل شیطان کے کھاتے میں ڈال کر خود کو بّری الذّمہ قرار دیتا ہے۔ مگر یہ شاید بھول جاتا ہے کہ اس کا یہ تماشا بھی خدا دیکھ رہا ہے۔ انشاء اللہ خان نے کہا تھا

کیا ہنسی آتی ہے مجھ کو حضرتِ انسان پر

فعلِ بدخودکریں لعنت کریں شیطان پر

اگر ماہِ رمضان نیکی کا مہینہ ہے تو انسان کو پہلے نیکی کی تعریف سمجھنا ہو گی۔ نیکی صرف عبادات کا ہی نام نہیں ہے۔ خدا کی مخلوق کو تکلیف اور مشکل میں ڈال کر سجدوں میں جنت تلاش کرنا نیکی نہیں ہے۔ نیکی تو یہ ہے کہ مخلوقِ خدا کے لیے آسانیاں پیدا کی جائیں۔ کیونکہ خدا انسان کے روپ میں آپ کے سامنے ہے اور آپ اسے تلاش کرنے کے لیے دور دراز سفر کرتے پھر رہے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •