”جورا لنبڑ“ رضاکار تھا یا مکار؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سکول کے زمانے میں ہمارا ایک ہم جماعت ہوتا تھا۔ نام تو اس کا منظور تھا مگر ”جورا“ کے نام سے مشہور تھا۔ بہت لحیم شحیم، بھاری بھرکم، دیو ہیکل اور ہتھ چھٹ واقع ہوا تھا۔ اپنی طاقت و توانائی پر گھمنڈ تھا۔ کچھ عرصے بعد اس نے ہم جیسے نحیف و نزار اور ڈرپوک ہم مکتبوں کے لنچ باکس پر بھی چوری چھپے ہاتھ صاف کرنا شروع کر دیے۔ اس اضافی ہنر مندی کی وجہ سے سکول میں اس کے نام کے ساتھ ”لنبڑ“ کا لاحقہ بھی لگ گیا۔ اب اسے ”جورا لنبڑ“ کے نام سے شہرتِ عام اور بقائے دوام مل گئی تھی۔ مگر کسی کی کیا مجال کہ اس کے روبرو اسے اس نام سے پکار سکے۔ البتہ اس کی عدم موجودگی میں سب اسے ”جورا لنبڑ“ ہی کہتے تھے۔

سکول میں طاقت کی دھاک بیٹھ گئی تو جورے لنبڑ نے کمائی کا ایک اور تیر بہدف نسخہ آزمانے کا فیصلہ کیا۔ اب اس نے ہم جیسے جسمانی طور پر کمزور اور بے حوصلہ بچوں کو کچھ دوسرے کن ٹٹے بدمعاشوں کے موقع بے موقع قہر و غضب سے بچانے کے لیے باقاعدہ اپنا ایک گینگ بنا کر ہم سے یومیہ اور ہفتہ وار بھتہ لینا شروع کر دیا جسے وہ سلامتی ٹیکس کا نام دیتا تھا۔ ہم کمزور قسم کے طلبہ کچھ تو ویسے ہی کن ٹٹوں سے عاجز تھے، کچھ جور ے لنبڑ کا خوف تھا اور کچھ جورے نے بھی کن ٹٹوں کی وحشت اور دہشت کی ایسی افسانوی کہانیاں گھڑ رکھی تھیں کہ ہم بلا چوں چرا یومیہ یا ہفتہ وار بھتہ دینا شروع کر دیا۔

نتیجہ یہ ہوا کہ ہمارے جیب خرچ کا تقریباً ستر فیصد جورے لنبڑ کی ضروریات پوری کرنے پر خرچ ہوجاتا۔ جان، مال اور عزت کی حفاظت اتنا حساس اور نازک مسئلہ ہے کہ کسی بھی کمزور آدمی سے اس کے نام پر ہر قسم کا تاوان اور بھتہ وصول کیا جا سکتا ہے۔ رفتہ رفتہ جورے لنبڑ کے مطالبات بڑھتے رہے اور ہمارے جیب خرچ کا تیا پانچہ ہوتا رہا۔ سال بعد جب بھی جیب خرچ میں گھر والوں کی طرف سے اضافہ ہوتا جورا لنبڑ بھی اسی تناسب سے بھتہ خوری میں اضافہ کر دیتا۔

اب جورے کی شہرت سکول سے نکل کر قریب کے دوسرے تعلیمی اداروں بلکہ کالج تک بھی پہنچ چکی تھی۔ اس کی گینگ میں آئے دن خطرناک اور سفاک بدمعاشوں کا اضافہ ہوتا جاتا تھا۔ ہم سب نے مل کر پہلے تو اس کے لیے عالیشان اور مضبوط و محفوظ ٹھکانے کا بندوبست کیا۔ پھر اس کے لیے اسلحہ وغیرہ کا انتظام کیا۔ کیونکہ جورا کہتا تھا کہ کن ٹٹے ہم سے تعداد میں بھی زیادہ ہیں اور ان کے پاس ہتھیار بھی ہمارے مقابلے میں زیادہ جدید اور مؤثر ہیں۔

تیسرا کام اس نے یہ کیا کہ ہم سے اکٹھے کیے گئے بھتے سے گردو نواح کے سکولوں کالجوں میں کینٹینوں کے ٹھیکے لے کر ذاتی کاروبار کو فروغ دینا شروع کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے علاقے میں طاقت کے ساتھ اس کی دولت کے چرچے بھی ہونے لگے۔ ہم کمزور اور بے حوصلہ طلبہ نے جب یہ ریل پیل اور شان و شوکت دیکھی تو کچھ نے ذرا ہمت کر کے جورے لنبڑ سے حد میں رہتے ہوئے احتجاج کرنے کی ٹھانی۔ مگر بدقسمتی سے اس دوران میں جورے لنبڑ کا گینگ اپنا مضبوط اور مؤثر نیٹ ورک پورے علاقے میں پھیلا چکا تھا۔

اس نے جگہ جگہ اپنے نقارچی اور ڈھنڈورچی رکھے ہوئے تھے جو جورے کی بے پناہ طاقت کے علاوہ اس کی اشد ضرورت اور تقدیس کے ترانے بھی گاتے پھرتے تھے۔ جورے کے مخبر ہر جماعت میں موجود تھے۔ جنہوں نے اسے کچھ ”فسادی“ طالب علموں کے خام قسم کے ارادوں سے آگاہ کردیا۔ جورے نے ان سے نمٹنے کا ایسا کار گر، انوکھا اور زود اثر حربہ استعمال کیا کہ سانپ بھی مر گیا اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹی۔ احتجاج کا ارادہ رکھنے والوں کو ان کے اندر سے نقاب لگا کر توڑا اور ان کے اپنے ہالی موالیوں کے ہاتھوں عبرت ناک سزا دلوانے کا سلسلہ شروع کردیا۔

ساتھ ہی ڈھنڈوچیوں اور نقارچیوں کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ کرکے بہت سے طبلہ نوازوں کی خدمات بھی اجرت پر حاصل کرلیں۔ یہ لوگ ضمیر کے جھانسے میں آئے بغیر ہمہ وقت جورے کو ہم جیسے کمزور طلبہ کے لیے نعمت غیر مترقبہ قرار دے کر اسے فرشتہ ثابت کرنے میں لگے رہتے۔ اس دوران میں جورے نے ایک اور دانشمدانہ کام کیا۔ کن ٹٹوں سے راہ رسم بڑھا کرانہیں ساز باز کے مقام پر لے آیا۔ یوں جب بھی اسے اپنی طاقت کی دھاک بٹھانا ہوتی یا دولت اکٹھا کرنا ہوتی وہ کن ٹٹوں سے سر گوشی کرتا اور ان کا ہوّا کھڑا کے اپنا مطلب نکال لیتا۔

وقت گزرتارہا اور جورے لنبڑ کی طاقت اور دولت میں بے پناہ اضافہ ہوتا گیا۔ اس کی گینگ کے کچھ لوگوں کے بارے میں یہ بھی سننے میں آیا کہ انہوں نے علاقے سے باہر کئی کئی گاؤں بھی خرید رکھے تھے مگر ہم میں سے زیادہ تر ان بے سرو پا باتوں پر یقین نہیں رکھتے تھے۔ کیونکہ جورے کی گینگ کے لوگ سکول اور سکول سے باہر بھی ہر افتاد کے وقت بڑی تندہی اور گرم جوشی سے متاثرین کی مدد کے لیے پہنچتے تھے۔ جورے اور اس کی گینگ کا اثر و رسوخ آس پاس کے تعلیمی اداروں کے علاوہ علاقے بھر میں مضبوط ہو چکا تھا۔

جورے نے کمزوروں کی حفاظت کے نام پر اتنی دولت اور وسائل جمع کر لیے تھے کہ کوئی اس کے آگے دم مارنے کی جرات نہیں کر سکتا تھا۔ مگر ایک دن ہم کمزور طلبہ نے حسبِ معمول جورے کو اپنے والدین کے خون پسینے کی کمائی سے یومیہ دینے کی کوشش کی تو اس نے کمال بے نیازی اور عنایتِ خسروانہ سے یہ حقیر نذرانہ قبول کرنے سے انکار کردیا اورکہا کہ میں ایسا کسی دباؤ کی وجہ سے نہیں کر رہا ہوں بلکہ آپ لوگوں سے دلی ہمدردی کی خاطر یہ کارِ خیر بالکل رضاکارانہ طور پر کر رہا ہوں۔

اس کے ساتھ ہی اس کے طبلچیوں، ڈھنڈورچیوں اور نقارچیوں نے جورے کی سخاوت، فیاضی اور کمزور و غریب طلبہ سے دلی ہمدردی کے حوالے سے زمین و آسمان کے قلابے ملانا شروع کر دیے۔ اتنے ماہ و سال گزرنے کے بعد میں آج بھی سمجھنے سے قاصر ہوں کہ یہ جورے کی خوشدلانہ پیش کش تھی، رضاکارانہ تھی، مکّارانہ تھی یا منافقانہ تھی!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •