حقائق سے ڈرانا ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عید کے روز میرے پسندیدہ کالم نگار نصرت جاوید نے لکھا کہ گندم سے متعلق مجھے کسی شخص نے کچھ بتایا ہے جو بتا کر کے میں آپ کو عید کے روز اداس نہیں کرنا چاہتا۔ عید کے روز البتہ شام کو جب میں نے دوست کے فرزند سہیل خان لشاری سے جو علی پور ضلع مظفر گڑھ میں کسانوں / زمینداروں کو ٹریکٹر قسطوں پر فروخت کرنے کا کاروبار کرتا ہے، سے کاروبار سے متعلق پوچھا تو اس نے گذشتہ دو فصلوں کی حالت زار سے متعلق، کسانوں پر پڑی افتاد اور مستقبل میں ملکی حالات پر پڑنے والے منفی اثرات کا نقشہ کھینچتے ہوئے یوں بتایا۔

کپاس کی گذشتہ فصل پر سفید سنڈی کا حملہ ہوا تھا اور بیشتر فصل سیاہ پڑ گئی تھی جو یا تو بالکل بکنے کے قابل نہیں رہی تھی یا جو بک پائی وہ انتہائی کم نرخ پر فروخت ہو سکی تھی۔ کسان اور زمیندار کسی ایک فصل کے خراب ہونے سے اداس اور غمگین تو ہو سکتے ہیں مگر ہمت نہیں ہارتے اس لیے اگلی فصل کے بہتر ہونے کی امید باندھ لیتے ہیں۔ یہ ان کے پیشے کی مجبوری بھی ہوتی ہے اور ان کی اولالعزمی کا اظہار بھی۔

ملک کے دیگر خطوں کی طرح جنوبی پنجاب میں بھی اگلی فصل گیہوں کی ہوتی ہے۔ کسان بہت خوش تھے۔ اندازہ تھا کہ بھرپور فصل ہوگی یعنی ”بمپر کراپ“ مگر پھر قدرت کا کرنا یہ ہوا کہ فضا میں نمی کم نہ ہونے کے سبب گیہوں کی فصل ”فنگس“ یعنی الی لگنے کا شکار ہونے لگی۔ ابھی کسان/ زمیندار مختلف حیلوں حربوں سے، جن پر ظاہر ہے اصراف ہوتا ہے، فنگس کے ساتھ جھوجھنے پر لگے ہوئے تھے کہ رہی سہی کسر زیادہ بارشیں ہونے نے پوری کر دی۔

بہت سی فصل تباہ ہو گئی۔ جو بچ رہی اسے کاٹنے میں دیر لگ گئی۔ گندم کی فصل عموماً اپریل کے آخر تک کھیتوں سے اٹھا لی جاتی ہے اور منڈیوں میں منتقل کی جانے لگتی ہے مگر اس بار اب جبکہ جون شروع ہو چکا ہے علاقے کی 25 % فصل کٹ کے کھیتوں میں پڑی ہے تاکہ دانہ سوکھ جائے۔ اگر خوش قسمتی سے سوکھ بھی گئی تب بھی دانہ ناقص ہوگا معیاری نہیں۔

دوسری فصل کا، جس پر گذشتہ فصل کے نقصان کا کم از کم ازالہ ہو جانے کا انحصار ہو، خراب ہو جانا کسان/ زمیندار کے حوصلے پست کر دیتا ہے۔ مستزاد یہ کہ عمومی معیشت کی آفت ٹوٹ پڑی یعنی روپیہ ضعیف ہو گیا۔ زرمبادلہ کی شرح میں اضافے کی وجہ سے کھاد اور خاص طور پر کیڑے مار ادویہ ڈیڑھ سے دو گنا مہنگی ہو جائیں گی یوں معاملہ مرے کو مارے شاہ مدار کے مصداق ہو جائے گا۔ منڈی میں گندم کم پہنچی ہے اس لیے گندم کے دام بڑھ جائیں گے۔

آٹے اور روٹی کی قیمت زیادہ ہو جائے گی۔ گندم درآمد کرنی پڑ سکتی ہے جس کی وجہ سے پہلے سے کم پڑتے زرمبادلہ کے ذخائر پر بوجھ پڑے گا اور درآمد کردہ گندم کی قیمت بھی منڈی میں زیادہ ہوگی۔ نادار کسانوں اور زمینداروں کی قوت خرید کم پڑ جائے گی۔ ملک میں 60 % گاہکوں کی قوت خرید کم ہو جانا بازار پہ بری طرح اثر انداز ہوگا۔

اوپر سے اللہ نہ کرے اگست ستمبر میں سیلاب چڑھ دوڑا تو اگلے برس تک کسان/ زمیندار دیوالیہ ہو جانے کے سبب خود کشیاں کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔ حکومت کا ہاتھ پہلے سے تنگ ہے چنانچہ وہ کسانوں / زمینداروں کو سبسڈی دینے سے قاصر رہے گی۔ سبسڈی دے بھی تو کیسے؟

جب آئی ایم ایف سے 6 ارب ڈالر کا قرض 38 قسطوں میں مل رہا ہو یعنی ہر ماہ حکومت کو صرف چودہ کروڑ ڈالر مل رہے ہوں گے جن میں سے ایک ڈیڑھ کروڑ ڈالر تو سود اور خدمات کی مد میں منہا ہو جایا کریں گے، یوں ننگی بیچاری نہائے گی کیا اور نچوڑے گی کیا؟

ان باتوں کے بعد سہیل کہنے لگا ہم لوگ زکات اور عشر نہیں دیتے اس وجہ سے آفات الہی ٹوٹتی ہیں۔ خیر یہ اس کا ذاتی خیال تھا مگر ایک بات طے ہے کہ عالمی مالیاتی ادارے آپ کی مالی مدد کرنے پر راضی نہیں ہیں۔ ان اداروں سے منسلک بڑی بڑی حکومتیں آپ کو گذشتہ چار عشروں سے کہہ رہی ہیں کہ دہشت گردی کی تربیت اور رجحان کی فیکٹریاں منہدم کریں مگر ہم ہیں کہ سو حیلے بہانے کرتے ہیں، وہ پھر آپ کو قرض کیوں دیں؟ اس لیے کہ جس بات سے روکا جا رہا ہے اس کو گرم رکھنے کی خاطر انکار کی دھونکنی چلتی رہے۔

بہتر ہے کہ علی محمد خان کی طرح سعودی عرب کے سفیر کو مدد کے لیے فہرست فراہم کرتے رہیں۔ وہ امداد کرتے رہیں شاید۔ ایک اطلاع کے مطابق برطانیہ کی اسلحہ و بم ساز فیکٹریوں نے گذشتہ دس ماہ میں، جب سے یمن میں بم برسائے جا رہے ہیں اور ماہ رمضان المبارک میں کی گئی بمباریوں تک میں بالغوں کے ساتھ بچے بھی بڑی تعداد میں مرے ہیں، سعودی عرب سے چار ارب ڈالر کمائے ہیں۔ ہم چاہے سرکاری دہشت گردی کا ذکر نہ کریں مگر حقیقت حقیقت رہے گی۔

پٹرول، ڈیزل، گیس، بجلی کی بڑھائی جاتی قیمتوں کے بموں کے علاوہ گندم کی فصل میں کمی کا بم بھی گر چکا ہے بس حدت سے فیوز اڑنے والا ہے۔ اس کے بعد بیشتر آبادی کے بہت سے خواب پریشان ہونے کو ہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •