چاند کا تنازعہ: مسئلہ کچھ اور ہے!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں مقامی سطح پر مسجد قاسم خان کے مفتی شہاب الدین پوپلزئی ”صرف“ رمضان اور شوال کے چاند کا اعلان کرتے ہیں اور ہمیشہ سرکاری رویت ہلال کمیٹی کی مخالفت کرتے ہیں۔ مسجد قاسم علی خان کو عید الفطر کے چاند کی 100 سے زیادہ شہادتیں موصول ہوئیں جس کی بنیاد پر اظہار یکجہتی کے لیے خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت نے بھی منگل کو عید منانے کا اعلان کردیا۔ وزیر اطلاعات خیبر پختونخوا شوکت یوسفزئی کہتے ہیں کہ ”صوبائی حکومت کی خواہش تھی پورے صوبے میں ایک ساتھ عید ہو، شہادتیں موصول ہونے کے بعد آج عید منانے کے سوا چارہ نہیں تھا۔

لہٰذا شہادتوں کی تصدیق کے بعد وزیر اعلیٰ کے پی نے منگل کو صوبے میں عید منانے کا فیصلہ کیا ہے اور عید منانے کا اعلان صوبے کے عوام سے اظہار یکجہتی ہے ”۔ پہلے تو صرف مسجد قاسم علی خان سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگ ہوتے تھے اور چاند کا تنازعہ صرف ایک مسجد کا اور اس سے متعلق چند سو لوگوں کا ہوتا تھا۔ لیکن اب صوبائی حکومت کے فیصلے نے اس معاملے میں مزید انتشار پیدا کردیا۔ پہلے صرف ایک علاقے میں عید ہوتی تھی، اب پورے صوبے میں لوگ مختلف ہوگئے، آدھے لوگوں نے عید منائی اور آدھے لوگوں نے روزہ رکھا۔

صوبائی حکومت کا خواب بھی چکنا چور ہوگیا۔ اس میں وفاقی حکومت کے لیے ابھی ایک سبق ہے کہ اگر زبردستی حکومتی سطح پر سائنس کی روشنی میں رمضان اور عید کا فیصلہ کیا گیا تو اس کا نتیجہ بھی یہی ہوگا اور ملک میں عیدیں دو تک محدود نہیں رہیں گی بلکہ اس سے زیادہ بھی ہوں جائیں گی۔ حکومت چاہے جتنی کوششیں کرلیں ایک عید کرنے کی جب تک وہ مفتی پوپلزئی والوں کے خلاف ایکشن نہیں لے گی، ایک عید کا تصور ناپید ہی رہے گا۔

بات یہ ہے کہ عید اور رمضان کے چاند پر میڈیا کی سطح پر ہمیشہ سرکاری رویت ہلال کمیٹی پر تنقید ہوتی رہی اور اب بھی ہورہی ہے۔ لیکن اس کمیٹی کے فیصلے کو نہ ماننے والی غیر سرکاری رویت ہلال کمیٹی پر کبھی تنقید نہیں کی گئی۔ دو عیدوں کا سوال مفتی منیب الرحمٰن صاحب سے تو ہمیشہ ہوا ہے لیکن مفتی شہاب الدین پوپلزئی سے کبھی نہیں ہوا۔ ان سے کسی نے سوال نہیں کیا کہ آپ کون سے چاند کی شہادتیں لیتے ہیں؟ وہ چاند جسے بڑی بڑی دوربینیں بھی نہیں ڈھونڈ سکتیں، اس وقت کی شہادتیں آپ کیسے قبول کر لیتے ہیں؟

وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے اس سال ماہِ رمضان کے ابتداء میں کہا تھا کہ رویت ہلال کمیٹی ختم کرکے قمری کیلینڈر بنایاجائے گا۔ چند دنوں بعد انہوں نے وہ کیلینڈر بھی بنادیا جس کے مطابق اس سال کی عید کی تاریخ پانچ جون تھی۔ اب سوال یہ ہے کہ مفتی پوپلزئی نے اس سائنس کو بھی ٹھکرادیا جس کو بنیاد بناکر فواد چوہدری پورے ملک میں ایک ہی دن عید منانے کا کہہ رہے تھے۔ ان کی سائنس بھی یہ ماننے کو تیار نہیں کہ منگل کو چاند کی رو یت ہو سکے۔ تو پھر یہ اعلان اور صوبائی حکومت کا فیصلہ غداری کے زمرے میں نہیں آتا؟

گذشتہ دنوں ایک معروف صحافی سلیم صافی نے رویت ہلال کمیٹی کے چئیر مین مفتی منیب الرحمٰن صاحب پر تنقید اور طعن و تشنیع کے تیر برسائے تھے۔ انہوں نے کہا تھا کہ ملک میں دو عیدیں ہوتی ہیں۔ لازمی امر ہے کہ دونوں صحیح نہیں ہوسکتیں، ان میں سے لازماً ایک کا فیصلہ غلط ہوگا اور ایک کا صحیح۔ ایک جھوٹا ہوگا ور ایک سچا ہو گا۔ تو ہمیں بتایا جائے کہ مفتی منیب الرحمٰن جھوٹے ہیں یا مفتی پوپلزئی۔ مسجد قاسم علی خان کے حالیہ اعلان کے بعد انہیں بھی معلوم ہوجانا چاہیے کہ جھوٹا کون ہے اور سچا کو ن ہے۔

جب آپ کی سائنس رویت ہلال کا کوئی امکان پیش نہیں کرتی تو ایک سو سے زیادہ شہادتیں کون سے چاند کی دی گئیں ہیں اور کس معیار پر ان شہادتوں پر فیصلہ کیا گیا ہے؟ اب ہمارا یہ سوال سلیم صافی سے ہے۔ اب سلیم صافی خود بتائیں کہ کون سچا ہے اور کون جھوٹا ہے؟ یہ تمام حقائق سامنے ہونے کے باجود حکومت اور نام نہاد ”دانشور“ حضرات یہ ماننے کو تیار کیوں نہیں ہے کہ مسجد قاسم علی خان سے جاری ہونے والا اعلان جھوٹ پر مبنی ہوتا ہے۔ اب بھی اگر ان لوگوں پر حق واضح نہیں ہوتا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کے دلوں پر قفل پڑچکے ہیں اور وہ کسی بھی صورت حق قبول نہیں کرسکتے۔

اسی طرح صوبائی حکومت نے شرعی معاملات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اپنی ”خواہش“ کو ترجیح دی اور مسلمانوں کا روزہ ضائع کروایا۔ اس کا ذمہ دار کون ہے؟ وفاقی حکومت کے فیصلے کو ماننے کے بجائے اپنا الگ فیصلہ کرنا حکومت کے ساتھ غداری نہیں ہے؟ اس پر ایکشن کب لیا جائے گا؟ جب حکومت فیصلہ کرچکی ہے کہ رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس منگل کو ہوگا اور سائنس کے مطابق پیر کی شب چاند کا کوئی امکان موجود نہیں تو پھر مفتی پوپلزئی کے اس فیصلے پر حکومتی عہدیداروں کی خاموشی کیوں؟

تمام صورتحال کو دیکھتے ہوئے یہاں ایک بات یہ سمجھ آتی ہے کہ اصل مسئلہ چاند، مذہب اور سائنس کا نہیں بلکہ کچھ اور ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ کسی بھی طرح مسلمانوں میں انتشار پھیلایا جائے اور ان کی نظر میں علماء کی وقعت ختم کی کردی جائے تاکہ لوگ علماء سے بد ظن ہوں اور ان سے دور ہوجائیں۔ جب لوگ علماء سے دور ہوجائیں گے تو حکومت کو سیکولر اسٹیٹ بنانے میں آسانی ہوگی۔

فواد چوہدری کو سمجھنا چاہیے کہ شریعت کا معاملہ انتہائی حساس ہوتا ہے۔ قمری مہینے کی ابتدا و انتہا کے اعلان کا معاملہ دین کا معاملہ ہے۔ یہ کوئی مذاق نہیں ہے۔ دین کے معاملے میں ہر کوئی قانون سازی اور ان پر تبصرے کرنے کا مجاز نہیں ہوسکتا۔ جو جس کا کام ہے اسی کے سپرد رہنے دیا جائے۔ جس طرح ایک عام آدمی سائنس کے معاملے میں دخل اندازی نہیں کرسکتا اسی طرح دین کے معاملے میں بھی ہر کوئی دخل اندازی کرنے کا مجاز نہیں ہے۔

رویت ہلال کمیٹی انتہائی اہم کمیٹی ہے۔ اس کمیٹی میں تمام مکاتب فکر کی نمائندگی موجود ہے۔ تمام مسلمانوں کے روزوں اور عید کا دارومدار اسی کمیٹی کے اعلان پر منحصر ہوتا ہے۔ خوامخواہ ان حساس معاملات میں دخل اندازی کرکے انتشار نہ پھیلایا جائے۔ ویسے ہی ملک شدید انتشار کا شکار ہے لہٰذا کام ایسا کیاجائے جس سے انتشار ختم ہو۔

اگر حکومت واقعی چاند پر تنازعات ختم کرنا چاہتی ہے تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ رویت ہلال کمیٹی کے اعلان کو حتمی اعلان قرار دے کر پورے ملک میں نافذ کروائے اور اس کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرے۔ تنازعات ختم کرنے کا یہ کوئی طریقہ نہیں ہے کہ رویت ہلال جیسے حساس معاملے میں مذہب کو طرف رکھ کر سائنس کو بنیاد بنا لیا جائے۔ حکومت کے اس اقدام سے مزید تنازعات جنم لیں گے اور جہاں دو عیدیں ہوتی تھیں وہ اب دو تک محدود نہیں رہیں گی، ہر مکتبہ فکر اپنی مرضی سے عید کرے گا، اس سے قوم کا بچا کچا اتحاد بھی پارہ پارہ ہوجائے گا۔

حالانکہ یہ ایک انتہائی خوش آئند بات ہے کہ مذہبی حلقوں کے شدید اختلافات کے باوجود کسی بھی مکتبہ فکر کا چاند کے معاملے میں اختلاف نہیں ہوتا۔ ہر مکتبہ فکر رویت ہلال کمیٹی کے اعلان کو حتمی سمجھتا ہے۔ پورے ملک میں کوئی تنازع نہیں ہوتا سوائے پوپلزئی والوں کے۔ صرف وہ لوگ رمضان اور عید کے چاند میں مسئلہ کرتے ہیں اور سعودی عرب کے مطابق چاند کا اعلان کرتے ہیں۔ حکومت چاہے تورویت ہلال کمیٹی کے فیصلے کو رٹ بنا کر ان کے خلاف کارروائی کرکے اختلاف ختم کروا سکتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •