بس پانچ دن اور وحشی درندے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ ان دنوں کی بات ہے جب کراچی کی گلیاں کسی بیوہ کی کلائیوں کی طرح سونی ہوچکی تھیں۔ جھلملاتی روشنیوں کو خوف ناک اندھیرے اژدہا بن کر نگل چکے تھے۔ مسلح گروہ کراچی کو ایک دوسرے کے ہاتھوں سے ایسے چھیننے کی کوششیں کررہے تھے گویا یہ زندہ انسانوں کی بستی نہ ہو بلکہ غریب کی جورو کی اوڑھنی ہو۔ اس کھینچا تانی میں یہ ہنستا بستا شہر کسی اوڑھنی کی طرح ہی تار تار ہو رہا تھا اور قانون، کہیں دور پاؤں پسارے، مدہوش پڑا خود کو حالات سے بے خبر ظاہر کرنے کی بھرپور اداکاری کر رہا تھا۔

سارا دن سڑکوں پر خون بہانے والے رات کی تاریکی میں گلی محلوں میں خوف پھیلاتے۔ شریفوں کے دروازوں پر بیٹھ کر تاش کھیلتے، نشہ کرتے، اسلحہ صاف کرتے اور اپنے دن بھر کے کریہہ کارناموں پر داد و تحسین کے ڈونگرے وصولتے۔ ان کے بے ہنگم قہقہوں سے گھروں کے اندر درودیوار کانپتے، مائیں ایک ہُوک بھر کے اپنی بیٹیوں کو سینے میں دبوچ لیتیں، مرد ایک دوسرے کی طرف بے چارگی سے دیکھتے اور آنے والے خطرے کی آہٹ محسوس کرکے لرز جاتے۔

مسلح گروہوں کے یہ رضاکار درندے جہاں اپنا ٹھکانا کرتے، عام لوگ وہاں سے مسکن چھوڑ جاتے۔ کراچی کے بعض علاقے تو ایسی دہشت کی لپیٹ میں تھے کہ جان اور جان سے بھی زیادہ پیاری عزت کو اپنا کُل سمجھ کر سیکڑوں نہیں ہزاروں لوگ بنا کسی مزاحمت کے اپنے بھرے پُرے گھر اور اپارٹمنٹ خالی کر گئے، جن پر یہ گروہ عرصہ دراز تک قابض رہے۔ کراچی کے رہنے والے وہ خونی دن بھلا کیسے بھول سکتے ہیں۔ زندہ انسانوں کی بھٹی سلگائی جائے تو دھواں یوں ہی کئی دہائیوں تک متواتر اٹھتا ہے۔

وہ بدنصیب ان دنوں اپنا شمار ان چند خوش نصیبوں میں کر رہی تھی جو خود کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑنے کے بجائے محنت اور لگن سے اپنے حالات بدلنے جا رہے تھے۔ کراچی کے بگڑتے حالات سہنے کے لیے اپنے شوہر اور دو سالہ بیٹے کے ساتھ صرف پانچ دن اور اس ملک میں تھی۔ پانچ دن بعد سب کچھ بدلنے والا تھا۔ پردیس کو اپنا دیس بنانے کی خوشی تھی تو اپنوں کو انہی حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ جانے کا دکھ بھی تھا۔ اس شام حالات ذرا معمول پر لگے تو بچے کو ماں کے پاس چھوڑ کر دونوں میاں بیوی رکے ہوئے کاموں کو سمیٹنے نکل پڑے اور واپسی میں اس علاقے کو اپنی گزر گاہ بنانے کی غلطی کر بیٹھے جہاں نظریہ قومیت کا علم تھامے بے شمار وحشی فلسفہ انسانیت کی توہین کرنے کو سرِراہ کھڑے تھے۔

شکار کو خود جال میں پھنستا دیکھ کر درندوں کی رال ٹپکنے لگی۔ گاڑی دیکھ کر ہی اندازہ لگا لیا کہ موٹی اسامی ہے، کئی دن کا خرچہ پانی نکل آنے کا آسرا لگا تو آنکھیں چمک اٹھیں اور سفاک مسکراہٹ سے سجے چہرے مزید گھناؤنے لگنے لگے۔ ہاتھوں نے اسلحہ سیدھا کیا، کھٹ کھٹ گنیں لوڈ ہوئیں اور گاڑی رک گئی۔ شیشے کے پار سیٹ میں دھنسا تھرتھر کانپتا نسوانی وجود دیکھا تو ٹپکتی رال اور گہری ہوگئی، یہاں تو ان کی ہر طرح کی بھوک مٹنے کا آسرا موجود تھا۔

پھر میرے شہر کی ایک تاریک سڑک پر وہ کہانی دہرائی گئی جسے میں نے سن سینتالیس کے سانحے کے ذکر میں کتابوں میں پڑھا تھا۔ وہ منظر آسمان نے دیکھا جو کسی فلم کا حصہ نہ تھا بلکہ درندگی کا کھلا اور حقیقی رقص تھا۔ قوم پرست دو ٹولیوں میں بٹ چکے تھے۔ ایک ٹولی مرد کو گھسیٹتی گاڑی کے پیچھے لے گئی اور دوسری ٹولی نے اس عورت کو بے شمار مردوں کے درمیان لا پٹخا۔ پانچ دن بعد نئی زندگی شروع کرنے کا خواب سائیں سائیں کرتا چاروں طرف بکھر گیا۔ سڑک پر مار کھاتے مرد کی اور گھر کے اندر سے عورت کی چیخوں کی آوازیں سن کر شاید وقت تو سہم کر رکا ہو لیکن جذبہ قومیت سے سرشار بھیڑیوں کو نہ رکنا تھا سو نہ رکے۔ میں یہ الم ناک قصہ سن کر بیٹھی کی بیٹھی رہ گئی۔

ہجرت سے بس پانچ دن کی دوری پر ملنے والے عذاب کی یہ دردناک کہانی سننے کے بعد میں اب تک سن ہوں۔ لگتا ہے کسی نے سینے میں تیزاب الٹ دیا ہے۔ دیس میں لگنے والے زخم انہوں نے پردیس کی فضاؤں میں جانے کیسے بھرے ہوں گے۔ بیتے گئے سانحے پر رنج ہے تو خوف اس بات کا بھی ہے کہ نام نہاد قومیت کے جراثیم اب تک مردہ ضمیروں میں رینگ رہے ہیں۔ وہی جراثیم جو ماضی میں زمین پر وحشت اور بربریت کا میدان بارہا سجا چکے ہیں۔

بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں کشمیری عورتوں کی عزت پامال ہو تو اخبار والے بڑی سی سرخی لگا کر ظلم کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں، برما کی عورتوں کو روٹی کے حصول کے لیے کیمپوں میں آبرو کھونی پڑے تو کسی نہ کسی آنکھ کے ذریعے خبر باہر آہی جاتی ہے، شامی عورتوں کی بے حرمتی کو جنگی ہتھیار بنایا جائے تو انسانی حقوق کی تنظیمیں چیخ پڑتی ہیں۔ بھارت میں ہجوم کے ہاتھوں نسوانیت کا وقار پامال ہو تو ٹی وی چینل کیسا شور مچاتے ہیں۔

ظلم تو ظلم ہے چاہے گھر کے اندر ہو یا باہر۔ حیرت تو اس بات کی ہے کہ پوری دنیا میں ڈھائے جانے والے مظالم پر دھڑلے سے لکھنے والوں کو اکثر کانوں کان خبر ہی نہیں ہوئی کہ ہمارے اپنے دیس میں لوگوں پر کیسے کیسے سانحے آکے گزر بھی گئے۔ کہانیاں تو یہیں کہیں آس پاس ہی دفن ہیں اور ہمارے قلم انہیں دور فضاؤں میں تلاش کرتے رہ گئے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •