پرانا گھر، نئےخواب اور واپسی کا بلاوا


 \"naseerکچھ دن پہلے ایک خواب دیکھا۔ نیچے پرانا گھر اور اوپر نیا گھر۔ پرانے گھر میں لوگ بھی پرانے، زندہ اور رفتگان سب موجود ہیں۔ ابا جی ، امی جان، سب بھائی بہنیں، میں، میری شریکِ حیات اور بچے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پرانا گھر اُسی طرح ہے جیسے ابتدا میں تھا یعنی اُس میں وقت کے ساتھ ساتھ جو تبدیلیاں اور نئی تعمیرات، ترممیمات اور اضافے ہوتے رہے وہ اس خواب میں نہیں تھے۔ اور نیا گھر موجودہ نئے گھر جیسا نہیں بلکہ اس سے بھی نیا یعنی مزید جدید ہے۔ گھر میں کچھ مہمان آئے ہوئے ہیں اور انہیں اوپر والے نئے حصے میں ٹھہرایا گیا ہے۔ ہم سب گھر والے نیچے پرانے حصے میں ہیں۔ اور اُسی طرح اپنے اپنے معمولات میں مصروف ہیں جیسے اُس گھر میں ہوا کرتے تھے۔ ابا جی اپنے مخصوص کمرے میں جسے بیٹھک کہتے تھے اپنے مخصوص انداز میں چارپائی پر لیٹے ہوئے ہیں، چارپائی پر چادر بھی وہی ہے جو اکثر ان کی چارپائی پر پڑی رہتی تھی۔ انہوں نے کپڑے بھی وہی زیب تن کیے ہوئے ہیں جو ابا جی کا تصور آتے ہی ذہن میں آتے ہیں۔ ابا جی بستر کی چادر اور تن کے کپڑے خوب استعمال کے بعد تبدیل کیا کرتے تھے۔ امی جان رسوئی شکل کے کچن میں پیڑھی پر بیٹھ کر ہانڈی پکا رہی ہیں۔ وہ کچن کے سارے کام بیٹھ کر کرتی تھیں، انھیں کھڑے ہو کر کام کرنا اور کھانا پکانا مشکل لگتا تھا۔ آپا گھر میں شور شرابے اور چلنے پھرنے کی آوازوں سے چھپ کر ایک الگ گوشے میں سونے کی کوشش میں ہیں۔ آپا عموماً دیر سے اٹھنے کی عادی تھیں اور سونے کے معاملے میں بھی ہم سب سے زیادہ حساس۔ خواب میں بھی کچھ اسی قسم کے احساسات اور کیفیات ہیں، جیسے ہم سب ان کی نیند میں مخل ہو کر انہیں بے سکون کر رہے ہوں۔ مجھ سے چھوٹے بھائی اور بہن بھی موجود ہیں لیکن ان کی موجودگی اور کام کاج کی نوعیت واضح نہیں کہ وہ کیا کر رہے ہیں لیکن منظر میں اور ذہن میں اُن کی شبیہیں پوری طرح موجود ہیں۔ میں نئے حصے میں مہمانوں کو دیکھنے، پوچھنے اور ان کی ضروریات اور آرام کا خیال رکھنے کے لیے کبھی اوپر جاتا ہوں اور کبھی نیچے آتا ہوں۔ یہ اب بھی میری عادت ہے کہ گھر میں مہمان ہوں تو مجھے ہمہ وقت سب سے زیادہ ان کے آرام کی فکر رہتی ہے۔ اوپر جانے کا راستہ وہی پرانی سیڑھیاں اور ایک پرانا گیلری نما تنگ سا راستہ ہے، جس میں نئے حصے کا دروازہ کھلتا ہے۔ مجھے سب سے مشکل اور عجیب اس راستے سے گزرنا لگتا ہے۔ اور اس کا اظہار میں اپنی شریک حیات سے اور بیٹے سے، جو وہیں کہیں گھر کے معاملات میں مصروف آس پاس موجود ہیں، کرتا ہوں کہ دیکھو کتنا عجیب راستہ ہے، پتا نہیں مہمان اوپر کیسے گئے ہیں۔ میں خود بھی پتا نہیں کیسے اس راستے سے گزر کر اوپر پہنچ جاتا ہوں جہاں دروازہ کھلتے ہی ایک دم جدید سہولیات سے آراستہ ٹھنڈا خوشگوار لاؤنج نما کمرہ سامنے آتا ہے اور پھر  سونے کے کمرے ۔ مہمانوں میں ایک خاتون ہے اور دو حضرات۔ اور یہ تینوں ہی اُس پرانے مکان کے زمانے کے بعد کے میرے نئے دوست ہیں۔

آنکھ کھلنے کے بعد بھی میں بڑی دیر تک اس اوپر نیچے آنے جانے کے منظر میں کھویا بلکہ آتا جاتا رہتا ہوں۔ جس میں امی جی کی آواز نمایاں ہے کہ پتر تھک جاویں گا (بیٹا تھک جاؤ گے) بار بار سیڑھیاں چڑھنے سے کدھرے بہہ جا آرام نال (کہیں آرام سے بیٹھ جاؤ)، نہ فکر کر سب کچھ ہو جائے گا۔ میں کہتا ہوں امی جی سیڑھیاں تو نظر ہی نہیں آ رہیں، میں گیلری میں جاتا ہوں اور اچانک کسی طلسم سے اوپر پہنچ جاتا ہوں۔ اگرچہ امی جی اب اس دنیا میں نہیں لیکن ان کی موجودگی کا احساس جوں کا توں ہے۔

اب جب میں اس خواب کی تعبیر کا سوچتا ہوں تو یہ خواب نہیں بلکہ موجودہ زندگی کی ایک حقیقت لگتا ہے۔ ہم سب اندر سے یعنی مکان کے نچلے یا بنیادی حصے میں تو وہیں پرانے گھروں میں رہتے ہیں۔ اندر کچھ نہیں بدلا، وہی عادتیں، وہی رسوئیاں، وہی بیٹھکیں، وہی برآمدے، وہی سیڑھیاں ، وہی بہن بھائی، بیوی بچے، وہی شرارتیں، لڑائیاں اور وہی پرانے زندگی میں آگے جانے کچھ کرنے کے خواب، خوابوں کے اندر خواب ۔ اور باہر سے ہم اوپر والے گھر میں رہتے ہیں، جدید گھر، جس میں سب کچھ نئے انداز کا ہے۔ رسوئی کی جگہ کچن ہے، برآمدے کی جگہ لِونگ روم ہے، سب کے لیے الگ الگ سونے کے کمرے ہیں، مہمانوں کے لیے الگ کمرہ ہے۔ دو دو کچن ہیں ایک دکھانے کا ایک پکانے کا۔ کھانا کھڑے ہو کر پکایا جاتا ہے اور ایک بڑے ڈائنگ ٹیبل پہ سجتا ہے۔ اس نئے گھر میں مہمان بھی نئے ہیں۔ دوست بھی نئے ہیں اور نئے دو تین ہی بنتے ہیں اس سے زیادہ نہیں اور یہ دو تین بھی غنیمت ہیں اس قحطِ دوستاں میں۔ پرانے دوستوں میں سے اب کسی سے ملنا نہیں رہا۔ جو ہیں وہ خود کسی اور کے نئے دوست بن چکے ہیں۔ کسی کا کچھ پتا نہیں کہاں ہے۔ کوئی ملک سے باہر ہے، کوئی کاروبار میں مصروف ہے، کوئی دارالحکومت میں اعلی افسر ہے یا اعلیٰ افسر بن کر ریٹائر ہو چکا ہے یا ہونے والا ہے۔

کچھ عرصہ سے دیکھ رہا ہوں کہ میرے خوابوں میں اب ناگریاں یعنی آبائی گاؤں نہیں آتا بلکہ کھاریاں آتا ہے، ایک درمیانی جگہ ایک درمیانی قصبہ جہاں ایک محلے میں ابا جی نے ہمارے پڑھنے  کے لیے گھر بنایا تھا اور جہاں میں نے کالج تک تعلیم حاصل کی اور زندگی کا طویل حصہ گزارا۔ شاید یہ زندگی کی حقیقت ہے جو خوابوں میں ڈھل رہی ہے۔ ناگڑیاں ساری زندگی میری یادوں اور ناسٹیلجیا یعنی یادِ ایام کا فلیش پوائنٹ رہا، اب بھی ہے لیکن اب شاید اندر کہیں یقین ہو گیا ہے کہ گھونسلے سے گرنے والا بچہ واپس گھونسلے میں نہیں جا سکتا اور اگر چلا بھی جائے تو گھونسلے کے باسی اسے قبول نہیں کرتے۔ کہیں یہ خواب علامتی پیش گوئی تو نہیں کہ ناگڑیاں کی طرح کھاریاں بھی خوابوں سے نکلنے والا ہے یا یہ واپسی کا ایک اور بلاوا ہے؟

 

Facebook Comments HS