چونا منڈی کا لڑکا (حصہ اول)۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تقسیم سے پہلے لاہور میں دو طبیبوں کی دھاک تھی۔ دونوں کنگ ایڈورڈز کے گریجویٹ تھے۔ ان میں سے ایک ڈاکٹر دلاور علی شاہ تھے جو اندرونِ شہر چونا منڈی میں کلینک کرتے تھے۔ ان کے ہاں انیس سو پینتیس میں انور سجاد کی ولادت ہوئی۔ ڈ اکٹر دلاور چونکہ صوفی منش تھے لہذا کشادہ دل تھے۔ انور کو یاد ہے کہ ان کے گھر میں اکثر اجتماعِ ضدین رہتا تھا۔

ایک رشتے کے ماموں کٹر کیمونسٹ تھے اور ایک خالو جو نویں محرم کو امام بارگاہ سے ذوالجناح نکالتے تھے۔ دونوں سے انسان دوست ابا کی مذہبی و نظریاتی بحثیں رہتی تھیں۔ تینوں اپنے اپنے نقطہِ ہائے نظر پر اڑے رہتے مگر ایک دوسرے کے بغیر رہ بھی نہیں سکتے تھے۔ تو گویا ننھے انور سجاد کی غیر شعوری مذہبی و سیکولر تعلیم و تربیت ایسے بوقلموں نظریاتی ماحول میں ہو رہی تھی ( بقول انتظار حسین انور سجاد محلے کی مسجد میں اٹھارہ برس کی عمر تک اذان دیتے بھی پائے جاتے۔ یعنی آؤ فلاح کی طرف ) ۔

گھر میں یہ ماحول اور سینٹرل ماڈل اسکول میں دیگر ماحول۔ وہاں پانچویں سے میٹرک تک ہر کلاس کو اپنا اپنا قلمی ادبی پرچہ بطور اسائنمنٹ نکالنا پڑتا۔ پھر ان تمام پرچوں کی بہترین تحریروں کو ایک سالنامے میں چھاپا جاتا۔ گویا بچوں کو اس بہانے کہانی لکھنے کی تربیت دی جا رہی تھی۔

چھٹی جماعت میں انور کو شوق چرایا کہ لکھت کے ساتھ ساتھ تقریر بھی ہو جائے۔ انھوں نے ماسٹر صدیق سے کہا کہ میں تقریر کروں گا مگر مسودہ نہیں دکھاؤں گا۔ کیونکہ آپ اس میں اصلاح کریں گے اور پھر تقریر میری نہیں آپ کی ہو جائے گی۔ ماسٹر صدیق نے ہنستے ہوئے اجازت دے دی۔ جونئیر ماڈل اسکول میں تقریری مقابلہ ہوا۔

جب انور کی باری آئی تو انھیں رٹی ہوئی تقریر آدھے میں بھول گئی۔ چھٹی جماعت کا انور ”دوستو دوستو دوستو“ پر اٹک کے رہ گیا۔ لونڈوں نے آسمان سر پر اٹھا لیا۔ انور اتنا نروس تھا کہ اسے لگا کہ نیکر نیچے جا رہی ہے۔ وہ بار بارہاتھ سے نیکر سنبھالتا رہا مگر ڈٹا رہا۔ اچانک تقریر دوبارہ یاد آ گئی اور اس نے اوپر سے نیچے تک بغیر کہیں اٹکے دوبارہ کی۔ اس واقعے نے انور کے دل سے اسٹیج کی دہشت نکال دی۔

انیس سو انچاس میں میٹرک کیا۔ اسی سال اوپن ایئر تھیٹر میں انجمن ترقی پسند مصنفین کی کانفرنس ہوئی۔ اس میں چودہ سال کے انور نے بھی اپنے وقت کے دگج ادیبوں اور شاعروں کو قریب سے دیکھا۔ اتنا متاثر ہوا کہ پہلی باقاعدہ کہانی بھی لکھ ماری۔ مگر شایع انیس سو باون میں ہوئی۔

انیس سو اکیاون میں ایک دن ایک ادبی پرچے جاوید کے ناشر نصیر انور چونا منڈی میں ابا کے کلینک پر آئے۔ یہ وہی نصیر انور تھے جنہوں نے اپنے پرچے میں ٹھنڈا گوشت شایع کرنے کے جرم میں منٹو کے ساتھ ساتھ عدالت میں اپنا بھی دفاع کیا۔ انور سجاد نصیر کے پیچھے پڑ گئے کہ مجھے منٹو سے ملنا ہے۔ یوں ان کی منٹو سے پہلی اور آخری ملاقات نصیر انور نے کروائی۔ نصیر انھیں نکلسن روڈ پر ہونے والے ادبی اجلاسوں میں بھی لے جاتے اور آہستگی سے بتاتے رہتے۔ یہ مظہر علی خان ہیں، وہ طاہرہ مظہر علی ہیں، وہ عبداللہ ملک ہیں، ادھر عارف عبدالمتین ہیں وغیرہ وغیرہ۔

پھر انور کا ابا کے ساتھ راولپنڈی جانا ہوا تو وہاں مصور علی امام سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے دادا امیر حیدر سے ایک ملاقات کروائی اور مری میں دور سے دکھایا کہ وہ جا رہے ہیں سجاد ظہیر۔ ایسی تابڑ توڑی کے سبب لڑکا تقریباً کیمونسٹ ہی ہو گیا۔ اتنا کیموسٹ کہ بقول انور سجاد ”انیس سو اکیاون یا باون میں البانیہ کے کیمونسٹ حکمراں انور ہدا کی تصویر ٹائم میگزین کے ٹائٹل پر شایع ہوئی تو اس میں انور ای سے شروع ہو رہا تھا۔ میں نے بھی انور اے کے بجائے ای سے لکھنا شروع کر دیا اور پھر ای پر ہی قائم رہا“۔

میٹرک کے بعد انور کا داخلہ گورنمنٹ کالج میں ہو گیا۔ وہاں کالج کے تھیٹر کے لیے کچھ ابتدائی انداز کے ڈرامے لکھے اور کچھ انگریزی ڈراموں کے تراجم بھی کیے۔ شاید اسی چکر میں ایف ایس سی نہیں کر پائے۔ چنانچہ ایف سی کالج میں داخلہ لینا پڑا۔ ڈیموکریٹک اسٹوڈنٹس فیڈریشن میں سرگرم ہوگئے۔ کالج یونین کے جنرل سیکریٹری بنے۔ ادبی مجلے کے مدیر بھی رہے۔ اسی ادبی مجلے کے ماضی میں کرشن چندر بھی مدیر رہ چکے تھے۔ ساتھ ساتھ بی ایس سی بھی کر لیا۔ اس کے بعد کنگ ایڈورڈز میں داخلہ مل گیا۔ طبیعت چونکہ غیر طبی سرگرمیوں (ادبی نشستیں، تھیٹر، چائے کی پیالی پر انقلاب لانے کی دھن وغیرہ) کی جانب مائل تھی لہذا سپلیاں دے دے کر پانچ برس میں ایم بی بی ایس کی ڈگری لی اور ابا کے چونا منڈی کلینک پر واپس آ گئے۔

تب تک ایوب خانی مارشل لا لگ چکا تھا۔ ابا نے کہا اب اسپشلائزیشن کر لو تو پھر پوری طرح کلینک سنبھال لو۔ چنانچہ برطانیہ بھیج دیے گئے۔ وہاں ٹی وی اور تھیٹر کے ایک معروف پلے رائٹ ڈیوڈ مرسر سے ٹاکرا ہوگیا۔ بضد ہو گئے کہ اسکرین پلے کی تکنیک سکھاؤ۔ ڈیوڈ نے کہا پہلے جس کام سے آئے ہو وہ کر لو پھر آنا۔

چنانچہ مرتا کیا نہ کرتا لیورپول سے ٹراپیکل میڈیسن میں ڈپلومہ لیا اور واپسی پر ڈیوڈ مرسر کے کئی اسکرپٹ لگیج میں لے آئے اور ابا کے کلینک پر بھی بیٹھنے لگے۔ مگر دل دانشوری، لکھت اور سیاسی اتھل پتھل میں ہی اٹکا رہا۔

نومبر چونسٹھ میں لاہور آرٹس کونسل کے احاطے میں ایک ہٹ میں ذکا درانی، محمد نثار حسین، فضل کمال اور اسلم اظہر وغیرہ نے جاپانی امداد سے پاکستان ٹیلی ویژن کے پائلٹ پروجیکٹ کو آخری شکل دی۔ فضل کمال نے کمال احمد رضوی اور انور سجاد سے ٹی وی کے لیے باقاعدہ کھیل لکھنے کے لیے رابطہ کیا۔ چھبیس نومبر کو کنول نصیر اور طارق عزیز کی اناؤنسمنٹ سے پی ٹی وی کی نشریات شروع ہوئیں۔ گزشتہ روز ڈرامہ ”رس ملائی“ لائیو نشر ہوا۔ اسے انور سجاد نے لکھا تھا اور اس کے پیسے بھی ملے۔ یوں یہ پی ٹی وی کا پہلا کمرشل کھیل ثابت ہوا۔

پینسٹھ کی جنگ اور معاہدہ تاشقند کے بعد ایوبی اقتدار کے پاؤں تلے سے زمین کھسکنی شروع ہوئی۔ طلبا، مزدور اور مڈل کلاس کی بے چینی کھل کے سامنے آنے لگی۔ نئی نسل کو اپنی امیدیں برآنے کے امکانات ایوب خان کے سبکدوش وزیرِ خارجہ ذوالفقار علی بھٹو میں نظر آنے لگے۔ تیس نومبر انیس سو سڑسٹھ کو ماڈل ٹاؤن میں ڈاکٹر مبشر حسن کی کوٹھی کے بازو کے خالی پلاٹ میں پیپلز پارٹی کی شجرکاری ہوئی۔

اس موقعے پر نومولود پارٹی کے جو تین ساڑھے تین سو مندوب چار آنے کے ممبر بنے ان میں ڈاکٹر انور سجاد بھی تھے۔ لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں تھا کہ وہ پولٹیکل ورکر بن گئے۔ پارٹی سے ضرور جڑے رہے مگر حلقہ اربابِ ذوق کے سیکریٹری بھی رہے۔ ستر کی انتخابی مہم میں بھی سرگرم رہے مگر بھٹو کے اقتدار میں آنے کے بعد فن کاروں کی فلاح و بہبود اور تنظیم کے لیے پاکستان آرٹسٹ ایکوٹی قائم کی اور اس کے پہلے صدر بھی رہے۔

انیس سو تہتر میں نئے آئین کے نفاذ کے بعد پہلی بار فروغ ِ ثقافت کی وزارت قائم ہوئی اور اس کا قلمدان ملک محمد جعفر کے سپرد کیا گیا۔ فیض صاحب وزیرِ اعظم کے مشیر برائے ثقافت ہو گئے اور ڈاکٹر انور سجاد کو لاہور آرٹس کونسل کی سربراہی مل گئی۔ فروری انیس سو چوہتر میں اسلامی سربراہ کانفرنس کے مہمانوں کے لیے شاہی قلعے کے شیش محل میں جو بھر پور ثقافتی شو منظم کیا گیا اس کا انصرام انور سجاد کے ہی ذمے تھا۔

اسی شیش محل میں بھٹو صاحب سے پہلی بالمشافہ ملاقات ہوئی۔ بھٹو بہت خوش تھے (دوسری اور آخری ملاقات اس وقت ہوئی جب معزول ہونے کے بعد بھٹو صاحب مری سے لاہور آئے اور سابق وزیرِ اعلی پنجاب نواب صادق حسین قریشی کے گھر ٹھہرے۔ بھٹو غمگین تھے۔ شیش محل ٹوٹ چکا تھا ) ۔
باقی داستان منگل کو پڑھیے گا۔
بشکریہ روزنامہ ایکسپریس۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •