مودی کو بار بار خط لکھ کر منتیں کرنا شرمناک ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہمارے وزیراعظم اقتدار میں آنے کے بعد سے مسلسل کوشش کر رہے ہیں کہ کسی طرح نریند مودی ان کے ساتھ مذاکرات کر لے۔ کبھی خط لکھتے ہیں۔ کبھی فون کرتے ہیں۔ کبھی ٹویٹ کرتے ہیں۔ پھر وہ لفٹ نہیں کراتا تو کڑھتے ہیں کہ چھوٹے عہدوں پر فائز ہو گئے ہیں۔ اور اس کے بعد دوبارہ خط لکھ کر امن مذاکرات کی دعوت دے دیتے ہیں۔

مودی کو بار بار خط لکھ کر منتیں کرنا شرمناک ہے اور ایک ایسے ملک کے باحمیت حکمران کو زیب نہیں دیتا جو عالم اسلام کی سب سے بڑی ایٹمی طاقت ہو۔ مودی ایسے اکڑ کر دکھا رہا ہے جیسے ہمیشہ جنگ وہ جیتتا رہا ہو اور ہم ہارتے رہے ہوں۔ حالانکہ تاریخ گواہ ہے کہ پاکستانی فاتحین نے نریندر مودی کے بھارت کو ہمیشہ شکست دی ہے۔

کبھی ہمارے لشکر کوفہ اور بصرہ سے اٹھتے اور سندھ پر اپنا علم لہرا دیتے۔ کبھی قندھار و کابل سے نکلتے اور ہندوستان کا ملحقہ علاقہ چھین لیتے۔ تاریخ گواہ ہے کہ کچھ عرصہ قبل ہمارے ظفرمند لشکر ہم ہر سال دو سال بعد غزنی سے نکلتے تھے اور پھر کبھی متھرا کو جلا کر خاک کر ڈالتے تھے تو کبھی سومنات ہمارا نشانہ بنتا تھا۔ اس زمانے میں ہم نے پے در پے سترہ حملے کر کے نریندر مودی کے ہندوستان کو مزا چکھایا۔

کبھِی ہم غور سے نکلتے اور دلی پر قبضہ کر لیتے۔ کبھی ماورا النہر سے اٹھتے اور ہمارے اسپ تازی و خون آشام شتر ہندوستان کی مغربی سرحد کو تاراج کرنا شروع ہوتے تو بنگال کے سمندر سے پہلے انہیں کوئی طاقت نہ روک پاتی۔

کبھی برخان کالدون کی ترائیوں سے ہمارے شہسوار پروں کے پرے باندھے نکلتے اور دہلی میں سروں کے مینار بنا کر واپس پلٹتے تو ان کے گھوڑوں کی خرجیاں جواہرات سے بھری ہوتی تو پیچھے ہندوستانی غلاموں اور کنیزوں کی میلوں لمبی قطاریں ہوتیں۔

ہمارا یہ سنہرا ماضی اس امر کا گواہ ہے کہ ہم نے ہندوستان پر ہمیشہ فتح پائی ہے۔ ہندوستان نے شیخی مارتے ہوئے پانچ ایٹمی دھماکے کیے تھے تو ہم نے چھے دھماکے کر کے اسے بتا دیا تھا کہ وہ سیر ہے تو ہم سوا سیر ہیں۔

اس لئے نریندر مودی سے امن کی بھیک مانگنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ماضی کے بزدل اور کرپٹ حکمرانوں میں جو مودی کے یار تھے، اور دلیر کپتان میں فرق ہونا چاہیے۔ عمران خان ایسے ہی ٹویٹ اور خط لکھ کر امن کی دعوتیں نہ دیں بلکہ وہ زبان بولیں جو نریندر مودی سمجھتا ہے۔ مرشد خادم رضوی کو دہلی بھیجا جائے اور مودی سے پوچھا جائے کہ اسلام قبول کرنا ہے یا جزیہ دینا ہے ورنہ فیر آیا جے غوری۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1150 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar