ادبی اشرافیہ اور بے توقیر رائٹر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دروغ بر گردن راوی کہ 1993 میں اصغر ندیم سید نے ایک نجی ٹی وی پروڈکشن کی سیریل دشت 18 لاکھ میں لکھی تھی۔ (برادر عزیز، سیریل “دشت” اصغر ندیم سید صاحب نے نہیں بلکہ منو بھائی نے لکھا تھا۔ متعلقہ نجی پروڈکشن ہاؤس سے ان کے معاملات معروف اداکار عابد علی کی معرفت طے ہوئے تھے۔ عابد علی ماشااللہ حیات ہیں اور تصدیق کر سکتے ہیں کہ منو بھائی کو معاوضے میں ڈیڑھ لاکھ روپے ملے تھے۔ اٹھارہ لاکھ روپے کا عدد محض افترا پردازی ہے۔ مدیر) یہ وہ وقت تھا۔ پی ٹی وی والے کسی سیریل رائیٹر کو چند ہزار روپے اسکرپٹ فیس دیتے تھے۔ امجد اسلام امجد کو وارث لکھنے پر بھی چند ہزارملے تھے۔ صحافت میں سینئر ترین کالم نگار کی حالت بھی کچھ ایسے ہی تھی۔ مضامین نگار اور فیچرز رائیٹرز تو بے چارے چائے سگریٹ پر راضی ہو جاتے تھے۔ اس دور میں عطا ء الحق قاسمی مستنصر حسین تارڑ امجد اسلام امجد کو پبلشرز چند ہزار اور دس بارہ کتابیں پکڑا دیتے تھے۔

چونکہ مجبوری کا نام شکریہ ہے۔ سب صابر و شاکر تھے۔ لیکن دل ہی دل میں وہ تمام ادبی پھکڑ اور مغلظات بولتے رہتے تھے۔ چند شعراء اچھا کما رہے تھے۔ لاکھوں کی رائلٹی ان کے نصیب میں بھی نہ تھی۔ پھر وقت کا دھارا پلٹا۔ سن دو ہزار میں پہلے پرنٹ میڈیا پھر الیکڑانک میڈیا کی اصطلاح آئی۔ پھر ایک بوم آیا۔ اللہ نے پاکستانیوں صحافیوں مصنفوں اور لکھنے والوں کی سنی۔ دیکھتے دیکھتے وہ بنگلوں فارم ہاؤسوں اور میڈیا مالکان کے پارٹنرز بن گئے۔

جو بڑا کاریگر تھا اس نے وزارت، سفارت اور اہم اداروں میں فتوحات کا سلسلہ شروع کر دیا۔ دلدر دور ہوئے۔ اب وہ بڑے بھاری معاوضہ کے ساتھ صلہ و ستائش کے حقدار بھی کہلوانے لگے۔ فن و ثقافت ادب اور صحافت کے بڑے بڑے ایوارڈز اور لائف ٹائم ایچومنٹ ایوارڈ اب ان کی منزل ٹھہری۔ لیکن ایک منٹ ٹھہریے۔ چونکہ یہ اللہ کی ونڈ تھی۔ سبھی کو یہ مرتبہ و توقیر نہیں ملا۔ قسمت کے دھنی راتوں رات اپنی کایا پلٹ چکے تھے۔ جس نے سبق یاد کیا، چھٹی اسے نہ ملی۔

سینکڑوں سینئر موسٹ سینئر رائیٹرز آج بھی دال دلیہ پر گزارہ کر رہے ہیں۔ یوں گزارہ چل رہا تھا اور وقت کا پہیہ بھی۔ اب مسئلہ یہ تھا کہ ان کی تخلیقات اور محنت کو کوئی ادارہ اور سرکار تسلیم نہیں کرتی۔ کیوں کہ یہ کسی لابی اور کسی طاقتور گروپ سے باہر ہیں۔ اب ادب کا نیا طبقہ وجود میں آ چکا تھا جسے طاقتور ادبی اشرافیہ کہتے ہیں۔

حکمران اور ادبی اشرافیہ نے مل کر ادب و ثقافت اور صحافت کی سر پرستی کا جیسا ٹھیکہ لے لیا۔ منظور نظر اور سفارشی لوگ مین سٹریم میں نظر آنے لگے۔ ایوارڈ کی بندر بانٹ شروع ہو گئی۔ ادب و ثقافت کے مرکزی اداروں میں بڑے ظالم اور جلاد ٹائپ لوگ براجمان کر دیے گئے۔ اُن ادبی اشرافیہ اور قزاقوں نے اپنی اپنی لابیاں اپنے قبیلے بنا ڈالے۔ جہاں وہ سالانہ ادبی میلہ کانفرنس اور کتاب میلے میں اپنی خود نمائی کے شاہی بگولوں پر سوار نظر آنے لگے۔

داد و تحسین کے ڈونگرے اور دَھن بھی اُنہی پر برسنے لگا۔ درباری مورخ بھی اُن کے گُن گاتے نظر آئے۔ اطلسی پوشاکیں او ر شاہی دستر خوان بھی اُن کے لیے سج جاتا ہے۔ شاہی خلعت انعام و اعزاز اور اشتہا انگیز کھانے کھا کے خمار آلود آنکھوں سے مُلک کے ٖغریب فنکار ہنر مند اور قلم کار بھلا کیسے نظر آ سکتے ہیں؟

جینوئن لکھنے والے جو دربار سے منسلک نہیں وہ کنارہ کشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ جو تھوڑے ڈھیٹ قسم کے تھے۔ وہ ایوان صدر اور ایسی ہی جگہوں پر قدرے راندہ درگاہ ہونے پر توبہ تائب ہو چکے ہیں۔ میرا دعویٰ ہے اس ملک میں ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں بہترین لکھنے والے موجود ہیں۔ لیکن ان کی شناخت کو بھوک اور غربت کے دیو ہیکل عفریت نے نگل لیا ہے۔ میڈیا کے فرعونوں اور ادب و ثقافت کے مرکزی اداروں کی رعونت نے اُنہیں گھر بیٹھنے پر مجبور کر دیا ہے۔

فن اور تحریر سے وابستہ وہ لوگ ان ادبی اشرافیہ کے لگائے تھر، تھل اور چولستان میں جینے پر مجبور ہیں۔ کسی جوہڑ کو سمندر کہنے سے انکاری پر ان کی تخلیقات اور ان کے ادبی وجود کو تسلیم کرنے سے نہ صرف انکار کر دیا جاتا ہے۔ شاہی قصرِ ادب میں داخلہ بھی ممنوع کر دیا جاتا ہے۔ مضافاتی شعراء و اُدباء آج بھی قومی ادبی میلہ اور قومی کتاب و ادب کانفرنس میں شرکت سے محروم ہیں۔ اگر کوئی آج بھی اپنے زورِ بازو پر یا گرتے پڑتے وہاں تک پہنچ جائے، ادبی فرعونوں کے حواری سٹیج سے ہی اسے دھتکار کے نیچے گرانے میں دیر نہیں کرتے۔ لمحہ فکریہ ہے کہ عالمی ادب میں ہمارا کوئی نام نہیں۔ ہمارا کوئی فکری فلسفہ، کتاب، ناول، افسانہ دنیا کو متوجہ نہ کر سکا۔ ملالہ کو آدھا نوبل پرائز ملے یا پورا، یہ ہماری تسلی و تشفی نہیں۔ جو ہمارے جینوئن ادیب اور رائیٹرز ہیں۔ کیوں اُن ادبی عالمی اداروں کو نظر نہیں آتے۔ ہمارے ادبی اشرافیہ کی ترجیحات پرموشن اور مارکیٹنگ عام اور خاص شاعر ادیب دونوں کے لیے الگ الگ ہے۔

عالمی اداروں کے اعزازات کو چھوڑیں۔ وہ ہم بغلوں سے اخروٹ توڑ کر بنا ہی لیں گے۔ ہمارے ملکی ادبی ادارے بھی ہمارے دیسی لکھاریوں کو زیادہ منہ نہیں لگاتے۔ شاعر ادیب اور صحافی کی طبع زاد دو دو یا تین چار کتابیں شائع ہو جاتی ہیں۔ کسی نے بھول کر بھی انہیں ادبی کانفرنسوں ادبی فیسٹیول یا اسلام آباد کراچی لاہور بلایا ہے؟ وہ بے چارے کتابیں لکھ کے اپنے خرچے کر کے بھی شدید احساس کمتری میں مبتلا ہوتے ہیں۔ اپنے شہر میں اپنے احباب سے نظریں چُراتے پھرتے ہیں۔ ہمارے ادبی اشرافیہ تو شاید ان مقامی رائیٹرز کے نام سے بھی واقف نہیں۔ سرکاری و ادبی اشرافیہ اقرباء پروری اور خود نمائی کے شاہی بگولوں پر سوار دور، بہت دور محو پرواز ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •