ریاض، یہ لاش ننگی کیوں ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ریاض اور تابش کی دوستی اپنی مثال آپ تھی۔ بس دونوں ایک ماں کے پیٹ سے پیدا نہ ہو سکے تھے، ورنہ دیکھنے والے کے لیے اندازہ لگانا مشکل تھا، کہ یہ دونوں بھائی ہیں یا دوست۔ کھانا پینا اٹھنا بیٹھنا گھومنا پھرنا کاروبار سب ایک ساتھ۔ دونوں نے شہر کی ایک بڑی مارکیٹ میں موبائل شاپ بنا رکھی تھی جہاں دونوں کا پورا دن ساتھ گزرتا۔ دونوں نے ایک ساتھ جوانی کی دہلیز پہ قدم رکھا۔ تابش ذرا مدہم نقوش کا لڑکا تھا مگر ریاض سڈول جسم مردانہ وجاہت اور اٹھے ہوئے نقوش والا خوبرو نوجوان تھا۔

دکان سے چھٹی والے دن بھی ریاض کا زیادہ وقت تابش کے گھر ہی گزرتا، رات دیر تک دونوں کاروباری حساب کتاب کرتے رہتے فلمیں بھی دیکھتے اور تابش کی ماں کے ہاتھ کے بنے لذیذ کھانے بھی کھاتے۔ وقت گزرتا رہا دونوں کی محبت روز بروز بڑھتی ہی رہی۔ اعتماد اور محبت کا رشتہ بہترین آب وہوا میں کسی پھلتے پھولتے پیڑ کی طرح وقت کے ساتھ پروان چڑھتا اور تناور درخت بنتا گیا۔ تابش کی منگیتر نیلم نے چودھویں کا امتحان پاس کیا تو تابش کی اماں نے تابش کا بیاہ کرنے کا فیصلہ کر لیا کیوں کہ ڈھلتی عمر کے ساتھ وہ اکثر بیمار رہنے لگی تھیں۔

تابش کے والد تو تابش کے پیدا ہونے کے چند سال بعد ہی دنیا سے کوچ کر گئے تھے۔ اس لیے تابش کی اماں چاہتی تھیں کہ وہ اپنی اکلوتی اولاد کی تمام خوشیاں اپنے سامنے اور اپنے ہاتھوں سے ہی پوری کرے۔ تابش کے پاس بھی شادی سے انکار کی کوئی معقول وجہ نہ تھی، لہذا نیلم کے امتحانات ختم ہونے کے چند ماہ بعد ہی نیلم اور تابش کا بیاہ بڑی دھوم دھام سے کردیا گیا۔ تابش کی پھوپھی زاد نیلم ایک پڑھی لکھی خوبصورت لڑکی ہونے کے ساتھ ساتھ امیر باپ کی بیٹی تھی۔

 ہر بات میں اپنی مرضی کرنا نیلم کو وراثت میں ملا تھا۔ نیلم کا ایک چھوٹا بھائی تھا جو نیلم کے ہر حکم کے آگے سر تسلیم خم کرنا فرض عین سمجھتا تھا۔ لہذا نیلم کے گھر میں کبھی کسی کو جرات نہ ہوئی تھی کہ کوئی نیلم کے مرضی کے خلاف بات کرے یا اس کی ضد پوری نہ کرے۔ ہر وقت ریاض کا ان کے کمرے میں گھسے رہنا۔ تابش کے ساتھ رات دیر تک باہر گھومنا پھرنا۔ وقت بے وقت بن بلائے مہمان کی طرح کھانے کے اوقات اور آرام کے وقت ان کی نئی نئی شادی شدہ زندگی میں کباب کی ہڈی کا رول ادا کرنا، دوچار ہفتے تو نیلم نے برداشت کیا مگر اب یہ سب اس کی برداشت سے باہر ہونے لگا تھا۔

تنگ آکر ایک دن نیلم نے تابش سے برملا اپنی کیفیت کا اظہار کردیا۔ تابش نیلم کی بات سن کر ہنسنے لگا۔ تابش نے اپنے بچپن کے یار ریاض کی تعریفوں کے پل باندھ دیے۔ تابش جیسے جیسے نیلم کو ریاض کی صفات اور خوبیوں کی اسناد پیش کرتا گیا، نیلم کے دل میں دونوں کی دوستی، محبت، بھائی چارے کے لیے نفرت اور حسد کی آگ آتش فشاں کے لاوے کی طرح بھڑکتی گئی اور نیلم کے دل کے تنور کو سرخ کرتی گئی۔ ریاض کی ایک مس کال پہ تابش بن سنور کے بیٹھی نیلم کو بن بتائے چپ چاپ باہر نکل جایا کرتا اور کبھی کبھی تو پوری پوری رات نیلم تکیے کو نوچ نوچ کھاتی رہتی، اور تابش دن چڑھے گھر واپس آکر آرام سے کہہ دیتا میں ریاض کے ساتھ تھا۔

ریاض کا نام نیلم کے لیے کسی گالی جیسا بن گیا تھا۔ آج بھی ریاض کا فون آیا تو نیلم اور تابش رس ملائی کھانے میں مصروف تھے، اماں کسی کام سے بازار گئی ہوئی تھیں۔ تابش مت جاؤ پلیز، تابش نے بیڈ سے اٹھ کر جوتا پہننا چاہا تو نیلم نے تابش کا ہاتھ بڑے مان سے پکڑ لیا۔ نیلم کی آنکھوں میں خاوند کے قرب کی حسرت مکھیوں کے چھتے سے ٹپکتے شہد کی طرح چھلک رہی تھی۔ نیلم مشرقی لڑکی تھی زبان سے نہیں کہہ سکتی تھی مگر اس وقت وہ تابش کے مضبوط بدن کی گرمائش کو اپنے کھولتے لہو میں سرائیت کرتے محسوس کرنا چاہتی تھی، مگر تابش نیلم کے جذبات سے بے خبر آتا ہوں کہہ کر باہر نکل گیا۔

 آج نیلم کے دل میں تابش اور ریاض کے رشتے کے لیے نفرت کے پہاڑ بن گئے۔ نیلم کی بدگمانی اور وحشت نے نیلم کی شخصیت کو آکاس بیل کی طرح اپنی لپیٹ میں لے کر نیلم کے اصلی چہرے کو ایک نیا رنگ دے دیا۔ نیلم نے اپنے آپ سے سرگوشی کے انداز میں کہا تابش تمھاری زندگی میں اب ریاض رہے گا یا میں۔ آج تابش موبائلز کے سپیئر پارٹس لینے دوسرے شہر گیا ہوا تھا جب نیلم نے تابش کو فون کیا اور بتایا کہ اماں کا شوگر لیول کافی ہائی ہے جلدی کوئی دوائی بھیجیں یا اماں کو ڈاکٹر کے پاس لے جانے کا بندوبست کریں۔

 تابش نے ریاض کو فون کیا کہ گھر جائے ا ور اماں کو کسی ڈاکٹر کو دکھائے۔ ریاض نے فوراً دکان بند کی اور اماں کی دوائی لے کر گھر پہنچ گیا۔ جب تک ریاض دوائی لے کر گھر پہنچا اماں سو چکی تھیں۔ ریاض نے دروازے پر دستک دی تو نیلم نے اسے اندر آنے کا کہا دونوں سیدھے اماں کے کمرے میں گئے۔ پہلی بار نیلم اور ریاض نے آپس میں کوئی بات کی۔ بھابی جب اماں جاگ جائیں تو وقتی طور پر اماں کو یہ گولیاں دیجیے گا۔ ہو سکتا ہے تابش کو واپس آنے میں کچھ دیر ہوجائے، مگر آپ فکر نہ کیجیے گا، میں ادھر ہی ہوں۔

 یہ کہہ کر ریاض باہر نکلنے کے لیے دروازے کی طرف بڑھا تو نیلم نے کہا ریاض بھائی، ”بیٹھیں گے نہیں؟ میں چائے بنائی ہوں۔ “ بھئی بھابی کے ہاتھ کی چائے سے انکار کسیے کیا جا سکتا ہے؟ ویسے بھی ریاض بلا جھجک اس گھر میں آنے، جو چاہے مانگ کرکھانے پینے کا عادی تھا۔ نیلم کچن میں چائے بنانے چلی گئی اور ریاض نے ٹی وی والے کمرے میں صوفے پر بیٹھ کر ریمورٹ سے ٹی وی کے چینل آگے پیچھے کرنے لگا۔ ہاتھ میں دو چائے کے کپ پکڑے نیلم کمرے میں داخل ہوئی اور بیٹھتے ہوئے کہنے لگی ریاض بھائی ایک بات تو بتائیں؟

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •