آہ ابرار علی تنویر بھائی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عید کے دوسرے دن اچانک یہ خبر ملی کہ پاکستان پیپلزپارٹی کے لاہور میں چند مخلص کارکنان میں سے ایک محترم ابرار علی تنویر بھائی کا لاہور میں انتقال ہوگیا (انا للہ وانا الیہ راجعون) ۔

ابرار بھائی سے میری پہلی روبرو ملاقات سنہ 2013 میں اس وقت ہوئی جب ہم یوم تاسیس کے سلسلے میں لاہور گئے ہوئے تھے، لاہور میں عابد اقبال، علی وقاص اولکھ، احمد گھمن، علی امداد سومرو، عثمان کامریڈ اور ابرار بھائی وہ چند دوست تھے جن سے ہمارا تعلق واٹس ایپ گروپس کے بالکل شروعاتی دنوں میں ہوا تھا۔

ہم نے اس وقت فیصلہ کیا کہ کیوں نہ لاہور میں ملاقات کی جائے، عابد بھائی اسلام آباد، علی وقاص اولکھ راولپنڈی، احمد بھائی وہاڑی سے اور میں کراچی سے لاہور پہنچے تھے، ابرار بھائی لاہور کے رہنے والے تھے، دسمبر کا مہینہ تھا اور شدید سردی تھی، علی وقاص اولکھ نے موٹر بائیک پر مجھے پک کیا، ہم بلاول ہاؤس لاہور پہنچے تھے، جہاں پر میری پہلی روبرو ملاقات عابد بھائی، احمد گھمن اور ابرار بھائی سے ہوئی تھی، علی وقاص اولکھ نے بتایا کہ ابرار بھائی مشرف کے دور میں لاہور سے پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر یونین کاؤنسل میں وائس چیئرمین منتخب ہوئے ہیں۔

اس کے بعد سوشل میڈیا پر ہمارا بہت گہرا تعلق رہا، ابرار بھائی ایک بار لاہور سے مجھ سے ملاقات کے لئے کراچی آئے تھے۔

ابرار بھائی کے چھوٹے بیٹے کو ایک سال قبل لاہور میں قتل کردیا گیا تھا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں قاتل صاف نظر آرہے تھے لیکن قاتلوں کو ابھی تک گرفتار نہیں کیا جاسکا۔

نوجوان بیٹے مُعید کے اندوہناک قتل پر ابرار بھائی اندر سے ٹوٹ چکے تھے، جب بھی بات ہوتی تھی کہتے تھے میں نے فیصلہ اللہ پاک پر چھوڑ دیا ہے۔

سوشل میڈیا پر ہر وقت بلاول بھٹو زرداری کے لئے دعائیں اور نیک خواہشات کا اظہار کرنے والے ابرار بھائی کا چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے گلہ رہتا تھا کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری پنجاب کو وقت نہیں دے رہے، جب بلاول بھٹو زرداری پنجاب کو وقت دیں گے تو پنجاب میں پیپلزپارٹی شہید بابا ذوالفقار علی بھٹو اور شہید بی بی بینظیر بھٹو والا عروج حاصل کرے گی، کیونکہ عوام کی واحد جماعت پاکستان پیپلز پارٹی ہے، چاروں صوبوں کی زنجیر بلاول بھٹو زرداری بینظیر ہے، پنجاب پکارے بلاول بھٹو کے ٹرینڈ چلاتے رہتے تھے۔

بھٹو شہید کے شیدائی ابرار بھائی نے ایک بار بتایا تھا کہ ضیائی مارشل لاء کے دور میں جب 1986 میں محترمہ بے نظیر بھٹو جلاوطنی ختم کرکے واپس آئیں تھیں تو اسی روز میری رسم نکاح بھی تھا، میں ساری رسومات شارٹ کرکے محترمہ بے نظیر بھٹو کے استقبال کے لئے لاہور ایئرپورٹ پہنچا تھا اور پورے راستے محترمہ بے نظیر بھٹو کے ساتھ رہا تھا۔

‏محترم ابرار علی تنویر کے ساتھ آخری ملاقات شہداء کے شہر لاڑکانہ میں ہوئی۔

چار اپریل کو ابرار بھائی اپنے دوستوں کے ہمراہ شہید قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو کی برسی میں شرکت کے لئے اپنے سیاسی قبلہ لاڑکانہ آئے تھے۔مزار کے احاطے میں ہی چپل اتارنے کے بعد مزار کے اندر ننگے پاؤں چلے تھے۔

ہمالیہ سے اونچے حوصلے والے ابرار بھائی کا یوں اچانک چلے جانا ہم جیالا کو غمزدہ کرگیا ہے۔اللہ تعالیٰ ابرار بھائی کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے آمین ثم آمین۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •