ابراہیمی مذاہب کے وابستگان کا ایک اجتماع (۱)۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

\"ammar\"

نیو جرسی (امریکا) کی Drew University کے ذیلی ادارے، سنٹر آن ریلجن، کلچر اینڈ کانفلکٹ ریزولوشن کی طرف سے ۲۰۱۳ میں ’’مذہب اور تنازعات کی تحویل’’ کے موضوع پر تین ہفتے کی ورک شاپ میں شرکت کی دعوت ملی تھی، لیکن جب ویزا لگ کر آیا تو وقت گزر چکا تھا۔ اس سال دوبارہ دعوت ملی اور جولائی کے آخری تین ہفتے راقم الحروف کو ڈریو سمر انسٹی ٹیوٹ میں مختلف ملکوں اور مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے مذہبی قائدین کے ساتھ گزارنے کا موقع ملا۔

ڈریو یونیورسٹی ،نیو یارک کے ساتھ متصل امریکی ریاست نیو جرسی میں میڈی سن کے علاقے میں واقع ہے اور امریکی معیارات کے لحاظ سے ’’چھوٹی’’ یونیورسٹیوں میں شمار ہوتی ہے۔ یونیورسٹی کی ویب سائٹ پر فراہم کردہ معلومات کے مطابق اس میں داخلہ لینے والے طلبہ کی تعداد دو ہزار، جبکہ ڈیڑھ سو کے قریب کل وقتی اساتذہ یہاں پڑھاتے ہیں جن میں سو کے لگ بھگ، پی ایچ ڈی ہیں۔ تاہم یہ ’’چھوٹی سی’’ یونیورسٹی ایک سو چھیاسی ایکڑ کے رقبے میں واقع ہے اور یہاں کا پر سکون ماحول، قدیم طرز کی پر وقار عمارتیں اور درختوں اور گھاس سے گھری ہوئی جنگل جیسی فضا دیکھنے اور انجوائے کرنے سے تعلق رکھتی ہے۔
بیشتر مغربی جامعات کی طرح اس یونیورسٹی کا آغاز بھی ایک مسیحی مذہبی مدرسے (تھیولاجیکل سیمنری) کے طور پر 1867 میں ہوا تھا۔ ہمارے ہاں قرون وسطی میں چرچ کی ’’علم دشمنی’’ کے عام تاثر کے برعکس، مغرب میں اعلی جامعاتی تعلیم کی بنیاد کلیسا نے ہی رکھی تھی اور آکسفورڈ، کیمبرج وغیرہ ممتاز جامعات اصل میں مذہبی مدارس تھے جن میں اعلیٰ سطح پر دنیاوی علوم بھی پڑھائے جاتے تھے۔ مرور زمانہ کے ساتھ ان میں سے زیادہ تر جامعات اب کلیسا کی زیر نگرانی نہیں رہیں اور خود مختار سیکولر تعلیمی اداروں کی شکل اختیار کر چکی ہیں، لیکن تاریخی وابستگی کی نشانیاں آج بھی برقرار ہیں۔ چنانچہ ڈریو یونیورسٹی میں ابتدائی مذہبی مدرسہ آج بھی تھیالوجی اسکول کے نام سے یونیورسٹی کے ایک شعبے کے طور پر کام کر رہا ہے اور جس سمر انسٹی ٹیوٹ میں ہمیں مدعو کیا گیا ہے، اس کی نشستیں بھی اسی اسکول کے ایک سیمینار ہال میں منعقد ہو رہی ہیں۔ مدرسے کی بنیاد میتھوڈسٹ چرچ کی طرف سے رکھی گئی تھی اور اسی مذہبی فکر کی چھاپ یہاں غالب ہے۔

\"14202936_1460569300627224_50932176_o\"

2007 میں اس یونیورسٹی میں، نائن الیون کے پس منظر میں CRCC یعنی سنٹر فار ریلیجن، کلچر اینڈ کانفلکٹ کا آغاز کیا گیا جس کے ڈائریکٹر مطالعہ مذاہب کے ممتاز عالم، ڈاکٹر کرس ٹیلر ہیں اور اس کے زیر اہتمام مختلف مذاہب اور ثقافتوں کے مابین افہام وتفہیم اور ہم آہنگی کے فروغ کے لیے متنوع سرگرمیاں منظم کی جاتی ہیں۔ ڈاکٹر جوناتھن گولڈن  ان سرگرمیوں میں ڈاکٹر ٹیلر کے معاون ہوتے ہیں، جبکہ سنٹر کے قیام اور تسلسل میں گہری دلچسپی لینے والے حضرات میں چوہدری محمد علی بھی شامل ہیں جو پاکستانی ہیں اور یہاں سیاسی اور سماجی سطح پر کافی سرگرم شخصیت ہیں اور نیو جرسی کے ایک ٹاون کے میئر بھی رہے ہیں۔ ایک شام کو کھانے کی ایک خصوصی تقریب میں وہ بھی یونیورسٹی میں آئے اور سمر انسٹی ٹیوٹ کے شرکاء کو خوش آمدید کہا۔ نائن الیون کے بعد یہاں کی مسلمان کمیونٹی میں اپنے اسلامی تشخص اور اس کے درست تعارف کے حوالے سے عمومی طور پر حساسیت پیدا ہوئی ہے اور مسلمانوں کی نئی نسل نیز عمومی طور پر امریکی معاشرے کے سامنے اسلام کو درست زاویے سے پیش کرنے کا احساس مضبوط ہوا ہے۔ اب یہاں مسلمان مختلف سطحوں پر بین المذاہب مکالمہ اور دوسرے طبقوں کے ساتھ سماجی تعلقات میں خصوصی دلچسپی لے رہے ہیں۔
آج کی دنیا میں مذہب کے مطالعہ کا ایک بڑا نمایاں زاویہ یہ ہے کہ جس معاشرے میں بھی ایک سے زیادہ مذاہب کے ماننے والے موجود ہیں اور ان کے درمیان تنازعات پائے جاتے ہیں، ان کے حل میں مذہبی قائدین کا کردار کیا ہو سکتا ہے۔ اس وقت دنیا میں، اور عموماً تاریخ میں بھی، جہاں مذہب پر مبنی تنازعات نظر آتے ہیں، وہاں مذہب part of the problem نظر آتا ہے، یعنی مذہب ان جھگڑوں کو پیدا کرنے اور بڑھانے کا کردار ادا کرتا ہوا دکھائی دیتا ہے تو اسے کیسے part of the solution بنایا جائے۔ ہر مذہب ایثار ، قربانی، انصاف پسندی اور انسانی ہمدردی کی تعلیم دیتا ہے ، ان تعلیمات سے تنازعات کے حل میں کیسے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔

ڈریو یونیورسٹی میں قائم اس مرکز کی سرگرمیوں کا خاص میدان بھی یہی ہے کہ معاشرے میں موجود تنازعات کے حل میں مذہب اور مذہبی قائدین کا کیا کردار ہو سکتا ہے۔ اس حوالے سے سنٹر کے منتظمین ورکشاپس اور کانفرنسز منعقد کرتے رہتے ہیں۔ حالیہ ورکشاپ میں دنیا کے چھ ممالک (پاکستان، نائیجیریا، مصر، انڈونیشیا، فلسطین اور اسرائیل )سے تینوں ابراہیمی مذاہب سے تعلق رکھنے والے پینتیس کے قریب افراد شریک تھے۔ یہ وہ ممالک ہیں جن میں کسی نہ کسی حوالے سے مذہبی تنازعات یا مذہبی کشیدگی کا مسئلہ موجود ہے۔ شاید اسی حوالے سے ان کا انتخاب کیا گیا۔ نائیجیریا میں مسلم مسیحی تصادم کی صورت حال پچھلے کئی سالوں سے درپیش ہے۔ پاکستان میں بھی مذہبی تشدد اور مذہب پر مبنی تنازعات موجود ہیں ۔ انڈونیشیا میں مسلمان معمولی اکثریت میں ہیں، جبکہ بہت بڑی تعداد دیگر مذاہب سے وابستہ ہے، اس لیے وہاں بھی تنازعات موجود ہیں۔ مصر میں بھی صورتحال ایسی ہی ہے اور فلسطین اور اسرائیل کے بارے میں تو سب جانتے ہی ہیں۔

سمر انسٹی ٹیوٹ میں پاکستان سے سات لوگ مدعو تھے۔ ادارہ برائے امن وتعلیم، اسلام آباد سے وابستہ تین حضرات، ڈاکٹر محمد حسین، محمد رشید اور غلام مرتضیٰ شریک ہوئے۔ کراچی سے تعلق رکھنے والے مسیحی مذہبی راہ نما فادر ارنسٹ ندیم بھی ہمارے ساتھ تھے، جبکہ لمز یونیورسٹی لاہور کی دو طالبات مناہل مہدی اور فاطمہ خالد بھی اس ورک شاپ میں شریک تھیں۔ اسی طرح باقی ممالک سے بھی اوسطاً چھ چھ، سات سات افراد کو دعوت دی گئی تھی۔

انسٹی ٹیوٹ میں تینوں ابراہیمی مذاہب سے وابستہ حضرات جمع تھے، لیکن قدرتی طور پر ایک دوسرے سے تعارف اور تبادلہ خیال میں زیادہ دلچسپی مسلمان اور یہودیوں نے محسوس کی، کیونکہ زیادہ تر مسلمانوں کے لیے یہ کسی بھی یہودی سے ملنے کا پہلا اتفاق تھاے۔ پاکستان سے آئی ہوئی ایک خاتون نے اس موقع کی ’’انفرادیت’’ کا یوں اظہار کیا کہ شاید ہم پہلی اور آخری مرتبہ اسرائیل کے کسی شہری سے مل رہے ہیں۔ دوست جس تعجب اور حیرت کے ساتھ یہودی ربائیوں کو دیکھ رہے تھے، اس سے مجھے مولانا وحید الدین خان کا وہ تاثراتی جملہ یاد آجاتا جو انھوں نے فلسطین کے سفر کی روداد میں لکھا تھا کہ ’’یہودیوں سے مل کر مجھے محسوس ہوا کہ وہ بھی بالکل عام انسانوں جیسے ہی انسان ہیں’’ (مفہوم)۔
ربائیوں کے ذہن میں بھی کم سے کم پاکستان کا کچھ ایسا ہی تصور ہے۔ پہلے تین دن شرکا کو یہودی مذہب اور اس کی تاریخ کے متعلق بتانے کے لیے یہاں کے ایک سینئر مقامی ربائی فیلنر کو مدعو کیا گیا۔ کل انھوں نے بتایا کہ وہ کچھ وقت کے لیے پچھلی صدی کے معروف یہودی دانش ور ابراہام جوشوا میشل کے بھی شاگرد رہے ہیں۔ میں نے انھیں بتایا کہ ہمارے چند پاکستانی احباب (عاصم بخشی اور ڈاکٹر قیصر شہزاد) نے ان کی ایک کتاب کا حال ہی میں اردو میں ترجمہ کیا ہے تو ربائی فیلنر نے اچنبھے سے پوچھا کہ کیا آپ کی حکومت اس کی اجازت دیتی ہے کہ کسی یہودی کی کتاب کا ترجمہ شائع کیا جائے؟ میں نے کہا کہ پاکستان، اس حوالے سے عرب دنیا سے بہت مختلف ہے اور آزادی اظہار کے اعتبار سے ہم ’’جنت’’ میں رہتے ہیں۔ اس پر انھوں نے قہقہہ لگایا اور کہا \”I know what you mean\”.
پاکستان کا جو امیج پچھلی کچھ دہائیوں کے حالات وواقعات نیز میڈیا کی رپورٹنگ کی وجہ سے بن چکا ہے، اس میں شاید ان حضرات کو یہ سمجھانا شاید بہت مشکل ہے کہ مسجد اقصیٰ کی تولیت جیسے حساس اور نازک معاملے میں ایک بالکل غیر روایتی نقطہ نظر پوری قوت اور زور کے ساتھ پیش کرنا شاید پورے عالم اسلام میں صرف پاکستان میں ہی ممکن تھا۔ مزید برآں اس موضوع پر کام کرتے ہوئے میں نے صہیونی تحریک کے بانی تھیوڈور ہرزل کی کتاب ’’یہودی ریاست’’ پڑھی تو محسوس ہوا کہ صہیونی نقطہ نظر کی تفہیم کے لیے اس کا اردو ترجمہ مفید ہوگا، چنانچہ میں نے ترجمہ کر دیا۔ گو وہ ابھی تک کمپیوٹر میں کسی جگہ پڑا ہے اور اس کی اشاعت کا موقع نہیں آیا، لیکن بلا تردد کہا جا سکتا ہے کہ کم سے کم پاکستان میں اس ترجمے کی اشاعت سے کوئی قیامت نہیں آ جائے گی۔
بہرحال تین چار دن کے شب وروز کے اختلاط اور مکالمے سے ایک بالکل دوستانہ فضا بن گئی اور تینوں مذاہب کے وابستگان رسمی وغیر رسمی مجالس میں نازک ترین سوالات پر بہت تحمل اور برداشت کی فضا میں ایک دوسرے کی باتیں سن اور ایک دوسرے کا نقطہ نظر جانتے رہے۔

سمر انسٹی ٹیوٹ کی سرگرمیوں کی ترتیب یہ تھی کہ پہلے سے طے شدہ موضوعات پر مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے ماہرین کو مدعو کیا جاتا تھا جو متعلقہ عنوان پر لیکچر دیتے تھے۔ اس پر سوال وجواب کا سلسلہ ہوتا تھا اور پھر شرکاءکو مختلف گروپس میں تقسیم کر دیا جاتا تھا تاکہ وہ آپس میں اس موضوع پر تبادلہ خیال کریں۔

\"14137701_1460569227293898_1092940678_n\"

جن موضوعات پر گفتگو ہوئی، ان میں تینوں مذاہب کا تعارف، ان کے بنیادی عقائد، مختصر تاریخ، ہر مذہب کے مقدس صحائف اور مذہبی مآخذ کا تعارف، ان کی درجہ بندی اور ان کے مطالعہ کے بنیادی اصول وغیرہ شامل تھے۔ ہر مذہب میں کچھ نہ کچھ داخلی تقسیم ہوتی ہے ۔ کچھ بنیادی چیزوں پر متفق ہوتے ہوئے بھی بہت سے اختلافات پائے جاتے ہیں۔ ان تقسیمات کا مختصر تعارف بھی عنوانات میں شامل تھا۔ جیسے مسلمانوں میں شیعہ سنی کی تقسیم ہے، سلفی اور صوفی کی تقسیم ہے۔ اسی طرح کی تقسیم ہر مذہب میں موجود ہے۔

اس پہلو پر بھی بات ہوئی کہ ان تینوں مذاہب کو جدید دور میں کن سوالات اور چیلنجز کا سامنا ہے۔ مثلاً خواتین کی سرگرمیوں کا کیا دائرہ ہے، ان کے معاشرتی ومذہبی حقوق کیا ہیں، معاشرے میں ان کا کردار کیا ہے، مذہبی قیادت میں ان کا کس قدر حصہ ہے ، وغیرہ۔ یہ ایک ایسا سوال ہے جو تینوں مذاہب کو درپیش ہے۔ ہر مذہب سے وابستہ خواتین میں یہ سوچ پیدا ہوئی ہے کہ خواتین کو بھی مذہبی روایت کی تشکیل میں، مذہبی قیادت اور مذہب کی تعبیر و تشریح میں کردارادا کرنے کا موقع ملنا چاہیے جبکہ تینوں مذاہب میں روایتی موقف عموماً یہ ہے کہ مذہبی دعوت وتبلیغ کے حوالے سے متحرک معاشرتی کردار، مذہبی تحقیق اور مذہب کی تعبیر وتشریح، یہ مردوں کا شعبہ ہے۔ خواتین کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ گھروں میں رہیں اور بچوں کی پرورش کریں۔ اسی طرح ہر مذہب اخلاقیات اور کچھ عملی پابندیوں کی بات کرتا ہے۔ جدید دور میں ان مذہبی پابندیوں کے بارے میں بھی سوالات پیدا ہوئے ہیں کہ یہ پابندیاں کس نوعیت کی ہیں، ان کی پابندی ضروری ہے یا نہیں اور ان میں کس حد تک لچک پیدا کی جا سکتی ہے۔ جدیدیت کے تناظر میں تینوں مذاہب کو یہ اہم سوال بھی درپیش ہے۔چنانچہ انسٹی ٹیوٹ کے دوران میں ایک پورا دن اس موضوع کے لیے خاص کیا گیا جس میں  تینوں مذاہب سے تعلق رکھنے والی تین خواتین کو مدعو کیا گیا تھا جو اپنی اپنی کمیونٹی میں خواتین کے حقوق کے حوالے سے کام کر رہی ہیں۔ مسلم کمیونٹی کی طرف سے ڈیزی خان نے گفتگو کی اور میں نے اسے بہت حد تک مثبت اور مفید پایا۔
ڈیزی خان اور ان کے شوہر امام فیصل عبد الروف، دونوں یہاں نہ صرف مسلم کمیونٹی میں بلکہ عمومی طور پر امریکی سماج میں بھی معروف اور متحرک شخصیات ہیں اور الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے علاوہ بین المذاہب مکالمہ اور اس طرح کے مختلف اور متنوع سماجی میدانوں میں مسلمانوں کی بڑی سرگرمی کے ساتھ نمائندگی کرتی ہیں۔

\"14169730_1460569250627229_1657646522_n\"
ڈیزی خان نے اسلام اور اسلامی تاریخ میں خواتین کے مقام کے حوالے سے بہت اچھی اور موثر گفتگو کی۔ مغربی دنیا میں اس حوالے سے مسلمان معاشروں کے منفی امیج کا ذکر کیا اور اصلاح طلب امور کی بھی نشان دہی کی، لیکن ساری گفتگو کی سب سے عمدہ بات یہ تھی کہ اس میں نہ تو روایتی اہل مذہب کو ’’ولن’’ کے طور پر پیش کیا گیا اور نہ انتہا پسند مسلم فیمنزم کے نقطہ نظر سے معاملات کو دیکھا اور دکھایا گیا۔ اس کے بجائے انھوں نے صورت حال کی بہتری کے ضمن میں مثبت نمونوں اور مثالوں کو ہی اجاگر کیا۔ مثلاً‌ یہ بتایا کہ فلسطین اور انڈونیشیا وغیرہ میں خاتون مفتیوں کا تقرر کیا گیا ہے اور دوسرے مسلم معاشرے بھی اس کی پیروی کر رہے ہیں۔ اسی طرح اپنا واقعہ بتایا کہ ایک موقع پر انھوں نے کسی جوڑے کا نکاح پڑھانا چاہا تو جامعہ الازہر سے براہ راست فون پر فتوی طلب کیا اور وہاں سے جواب دیا گیا کہ ہاں، مسلمان خاتون بھی نکاح پڑھا سکتی ہے۔ ایک اور واقعہ ذکر کیا جس میں نکاح خوان عالم نے یہ معلوم ہونے پر کہ لڑکی نکاح پر رضامند نہیں، نکاح پڑھانے سے انکار کر دیا اور نکاح کی تقریب سے اٹھ کر چلے گئے۔
ڈیزی خان نے یہ بھی کہا کہ معاصر تناظر میں بہت سے حلقے خواتین کے حقوق کے لیے انسانی حقوق کے چارٹر کو بنیاد بنا کر بات کر رہے ہیں، لیکن ہم نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ہم اپنی روایت ہی کی روشنی میں اس حوالے سے جدوجہد کریں گے اور کام کو آگے بڑھائیں گے۔ ڈیزی خان کی بعض باتوں سے اختلاف کی بھی پوری گنجائش ہے، مثلاً‌ انھوں نے سورۃ النساء کی مشہور آیت ’’فعظوھن واھجروھن فی المضاجع واضربوھن’’ کی جدید تشریح بیان کی جس کی رو سے ’’اضربوھن’’ کا مطلب یہ بنتا ہے کہ Go away from them۔ تاہم انھوں نے عمومی طور پر مذہبی روایت اور مسلم معاشروں کی سماجی روایات کے احترام کی بات کی اور مثال کے طور پر خواتین کے، مخلوط اجتماعات کی امامت کے حوالے سے کہا کہ مسلمان معاشروں نے اس کو قبول نہیں کیا اور ہمیں ان کی حساسیت کو ملحوظ رکھنا چاہیے۔
میرے خیال میں ڈیزی خان اس دائرے میں اس سنجیدہ اور مخلصانہ اصلاح پسندی کا ایک بڑی حد تک متوازن نمونہ پیش کرتی ہیں جس کا مقصد فی الواقع سماج کی اصلاح ہوتا ہے، نہ کہ طبقاتی کشمکش کی آگ بھڑکا کر قیادت اور سیادت حاصل کرنا یا اس تہذیبی فہم کی اندھی تقلید اختیار کرنا جو مسلم معاشروں کے سماجی ڈھانچے کو بالکل توڑ کر اس کی تشکیل جدیدیت کے وضع کردہ خطوط پر کرنا چاہتا ہے۔ اگر ڈیزی خان کبھی پاکستان آ کر ہماری لبرل خواتین کو بھی اپنے تجربات وخیالات سے مستفید کریں تو یہ پاکستانی معاشرے پر ان کی بڑی عنایت ہوگی۔


ابراہیمی مذاہب کے وابستگان کا ایک اجتماع (2)۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •