ابراہیمی مذاہب کے وابستگان کا ایک اجتماع (2)۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

\"ammar\"

سمر انسٹی ٹیوٹ کی سرگرمیوں کا ایک  اہم حصہ Scriptural Reasoning اور Textual Reasoning پر مبنی مطالعاتی نشستیں تھیں جن کا بنیادی مقصد اس بات کی تفہیم پیدا کرنا تھا کہ مختلف مذہبی اور ثقافتی پس منظر کیسے مذہبی متون کے مطالعہ پر اثر انداز ہوتے ہیں اور مثلاً تورات، انجیل، قرآن یا احادیث کو پڑھتے ہوئے کیسے مختلف لوگ اپنے اپنے ذہنی تناظر میں ان متون کو سمجھتے ہیں۔ یہ اختلاف اور تنوع ایک ہی مذہب کے ماننے والوں کے مابین بھی ہو سکتا ہے اور اسی طرح مختلف مذاہب کے لوگ جب کسی دوسرے مذہب کی کتاب پڑھتے ہیں تو ان کے فہم میں اور خود اس مذہب کے پیروکاروں کے فہم اور تعبیر وتشریح میں بھی فرق واقع ہو سکتا ہے۔ اس حوالے سے Scriptural Reasoning اور Textual Reasoning پر مبنی مطالعاتی نشستوں کا اہتمام کیا گیا جن میں بائبل اور قرآن کے کے منتخب متون کو زیر مطالعہ لایا گیا۔ ایک گروپ میں شامل سب افراد اپنے اپنے ذہنی تناظر میں متعلقہ متن پر غور کر کے اپنے نتائج یا سوالات واشکالات کو باقی شرکاءکے سامنے رکھتے اور زیر بحث نکات پر باہم تبادلہ خیال کرتے تھے۔ اس ایکسرسائز کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ مذہبی زاویہ نظر کے اختلاف کو سمجھنے میں بڑی مدد ملتی ہے، خواہ وہ ایک ہی مذہب کے ماننے والوں کے مابین ہو یا مختلف مذاہب کے مابین۔ یہ واضح ہوتا ہے کہ پڑھنے والے کا مذہبی پس منظر اور ذہنی تناظر کیسے مطالعہ متن پر اثر انداز ہوتا ہے اور بسا اوقات اس فرق سے کیسے، دوسرے مذاہب کے متعلق غلط فہمیاں اور غیر حقیقی تاثرات بھی پیدا ہو جاتے ہیں۔

مثلاً قرآن کریم سے جو آیات منتخب کی گئیں، وہ بہت اہم تھیں ۔ ان میں سے بعض کا تعلق جہاد کے ساتھ اور بعض کا خواتین کے حقوق وفرائض کے ساتھ تھا۔ جب ایک یہودی یا مسیحی یہ متن پڑھے گا تو اپنے پس منظر کے اعتبار سے اس کا مفہوم اور معنویت طے کرے گا۔ اس طرح جب ہم مسلمان بائبل کو پڑھیں گے تو کسی بھی مسئلے پر اپنے پس منظر کے اعتبار سے رائے قائم کریں گے۔ لیکن اگر یہی متن ہم مل کر پڑھیں اور تبادلہ خیال کریں تو اس کا موقع ہوگا کہ میں اپنی مذہبی کتاب کا مدعا بہتر طریقے سے دوسروں کو سمجھا سکوں۔ چنانچہ ان نشستوں میں بھی ایسے مواقع پیدا ہوئے کہ مسلمانوں نے بائبل کا متن پڑھا اور ان کے ذہن میں کچھ سوالات پیدا ہوئے اور انہوں نے اس کے بارے میں اپنا فہم پیش کیا، لیکن یہودی یا مسیحی رفقاءنے کہا کہ ہماری مذہبی روایت میں اسے اس طرح نہیں بلکہ اس طرح سمجھا جاتا ہے۔

\"14202936_1460569300627224_50932176_o\"

تیسری چیز جو اس ورکشاپ کا موضوع تھی، وہ تھی حل تنازعات کی حکمت عملی، یعنی سوسائٹی میں تنازعات پیدا کیسے ہوتے ہیں، بڑھتے کیسے ہیں، ان میں پیچیدگیاں کیسے در آتی ہیں، وہ خون ریزی تک کیسے جا پہنچتے ہیں۔ تنازع کی مختلف شکلیں کیا ہوتی ہیں ، مختلف سطحیں کیا ہوتی ہیں ، کون سے تنازعات ایسے ہوتے ہیں جن کو ختم کیا جا سکتا ہے، اور کن کی شدت کم کی جا سکتی ہے ۔ بعض ابتدائی سطح کے ہوتے ہیں جن کو روکا جا سکتا ہے ، بعض اپنی انتہا تک پہنچ چکے ہوتے ہیں۔ پھر یہ کہ ان کو حل کرنے کے لیے یا ان کی شدت کو کم کرنے کے لیے با اثر لوگ کیا کر سکتے ہیں، کون سے Tools استعمال کر سکتے ہیں۔ خاص طور پر مذہبی قائدین حل تنازعات میں کیا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ یہ گفتگو زیادہ تر نظری نوعیت کی رہی۔ میں نے اپنے تاثرات میں لکھا کہ اگر نظری مباحث کے بجائے کچھ عملی تجربات اور مثالیں سامنے لائی جاتیں تو بہتر ہوتا۔ کچھ عملی مثالیں پیش بھی کی گئیں، لیکن اکثر مباحث نظری نوعیت کی ہی رہے ۔

امریکہ میں ابراہیمی مذاہب کے مابین سماجی تعلقات کو فروغ دینے کے لیے درجنوں چھوٹی بڑی تنظیمیں کام کر رہی ہیں۔ اس نوعیت کی ایک تنظیم ’’سلام شیلوم سسٹر ہڈ (Salam-Shalom Sisterhood)  کی نمائندہ خواتین شیرل اولٹسکی اور پامیلا کو ڈریو سمر انسٹی ٹیوٹ میں مدعو کیا گیا تھا جنھوں نے  اس تنظیم کی سرگرمیوں کا تعارف پیش کیا۔ یہ مسلم اور یہودی خواتین کی ایک تنظیم ہے جو امریکہ میں سماجی سطح پر دونوں مذاہب کی خواتین کے مابین تعلقات کو مستحکم کرنے کے لیے سرگرم ہے۔پامیلا نو مسلم ہیں۔ انھوں نے اپنے قبول اسلام کی داستان بھی سنائی جس کی رو سے اسلام کے ساتھ ابتدائی تعارف انھیں اپنی ایک یہودی دوست کی زبانی حاصل ہوا۔ پھر اسی یہودی دوست نے انھیں ایک مصری مسلمان سے ملوایا جس کے ساتھ پامیلا نے شادی بھی کر لی۔پامیلا نے کہا کہ ہم یہودی اور مسلم خواتین کے مابین انفرادی سطح پر روابط مضبوط کرنے کے لیے کوشاں ہیں، کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ محض مذہبی راہ نماوں کی سطح پر باہمی تعلقات سے سماجی سطح پر امن اور رواداری کا وہ ماحول قائم نہیں ہو سکتا جو ہونا چاہیے۔ دونوں خواتین نے اپنی تنظیم کی مختلف سرگرمیوں کے متعلق بھی بتایا جس کی کچھ تفصیلات ان کی ویب سائٹ پر دیکھی جا سکتی ہیں۔

\"14137701_1460569227293898_1092940678_n\"
سمر انسٹی ٹیوٹ کے شرکاءکو تینوں مذاہب کی عبادت گاہوں کا دورہ کروانے کا بھی اہتمام کیا گیا تھا تاکہ وہ ہر مذہب کے مخصوص طریقہ عبادت کا مشاہدہ کر سکیں۔ اس غرض کے لیے جمعے کا ایک دن مختص کیا گیا تھا۔ شرکا کو باری باری نیو یارک کے ایک مشہور سینی گاگ (یہودی معبد)، چرچ آف سینٹ تھامس اور اسلامک کلچرل سنٹر لے جایا گیا اور تینوں مقامات پر متعلقہ مذہبی راہ نماوں کے ساتھ نشست کا اہتمام کیا گیا۔ جمعے کی نماز اسلامک سنٹر میں ادا کی گئی۔ یہاں کے امام الشیخ محمد علی ہیں جن کا تعلق فلسطین سے ہے، لیکن ان کی پیدائش اور پرورش امریکا میں ہوئی ہے۔ انھوں نے توحید اور رسالت کے تصور پر آیات واحادیث کی روشنی میں جامع خطبہ دیا اور جمعے کے بعد شرکائے وفد کے ساتھ قریباً‌ ایک گھنٹہ گزارا۔

عبادت گاہوں کے دورے کے موقع پر توحید کے حوالے سے یہودی رفقاء کی غیر معمولی حساسیت بھی دیکھنے کو ملی اور معلوم ہوا کہ مذہبی یہودیوں کےلیے کلیسا میں جانا ایک ناقابل برداشت تجربہ ہے۔ چنانچہ سمر انسٹی ٹیوٹ کے شرکاء کو جب چرچ آف سینٹ تھامس میں لے جایا گیا تو کوئی یہودی رکن اندر نہیں گیا۔ یہ لوگ باہر ہی کھڑے رہے۔ ہمیں بتایا گیا کہ پچھلے پروگرام میں بھی ایسا ہی ہوا تھا، بلکہ پچھلے گروپ کے جو بعض شرکاء اس پروگرام میں دوبارہ آئے ہیں، ان میں سے ایک دوست Sarel نے کہا کہ میں ایک منٹ کے لیے اندر گیا تھا، لیکن وہاں نہیں ٹھہر سکا اور باہر بھاگ آیا۔ ڈاکٹر کرس ٹیلر نے بتایا کہ چونکہ کلیسا میں حضرت مسیح اور دوسرے مسیحی مقدسین کی شبیہیں آویزاں ہوتی ہیں اور مسیحی حضرات، مسیح علیہ السلام کو خدا کا بیٹا بھی تصور کرتے ہیں، اس لیے یہودیوں کے لیے یہ سارا ماحول بت پرستی کے ہم معنی ہے۔ اس کے برعکس ان حضرات کو مسجد میں جانے میں کوئی جھجھک محسوس نہیں ہوءی، چنانچہ جمعہ کی نماز ہم نے اسلامک کلچرل انسٹی ٹیوٹ کی جامع مسجد میں ادا کی اور سبھی یہودی شرکاء مسجد کے اندر گئے، بلکہ بعد میں ایک اسرائیلی دوست یوتام نے کہا کہ یہ میرا ، مسلمانوں کو جمعے کی نماز پڑھتے ہوئے دیکھنے کا پہلا موقع تھا اور اس خوب صورت منظر نے مجھے بے حد متاثر کیا ہے۔ یوتام نے بتایا کہ فلسطین میں ہمارے لیے کسی مسجد میں جانا جان کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔

\"14169730_1460569250627229_1657646522_n\"

راقم الحروف کو یہودی اور مسیحی مذاہب، خاص طورپر ان کی کتب مقدسہ کے مطالعے سے بچپن ہی سے شغف رہا ہے۔ تاہم کسی بھی مذہب کے کتابی مطالعے میں اور خود اس کے ماننے والوں کی زبان سے اور ان کے طور طریقوں کے عملی مشاہدے سے اس کو سمجھنے میں بہت فرق ہوتا ہے۔ ڈریو سمر انسٹی ٹیوٹ میں اس فرق کا واضح احساس ہوا، ، چنانچہ معلومات کی حد تک بہت سی باتیں پہلے سے معلوم ہونے کے باوجود انھیں یہودی اور مسیحی دوستوں کے زاویہ نظر سے سمجھنےکا موقع ملا۔سمر انسٹی ٹیوٹ کی رسمی نشستوں کے علاوہ شرکاءکو کھانے کی میز پر ، چائے پیتے ہوئے اور اسی طرح فارغ اوقات میں غیر رسمی سطح پر بھی آپس میں گھلنے ملنے اور تبادلہ خیال کرنے کے مواقع میسر تھے۔ ڈھائی تین ہفتے تک ایک ساتھ رہنے کا مقصد یہی تھا کہ لوگ بے تکلفی کے ماحول میں ایک دوسرے کو جانیں، شخصی تعلقات بنائیں اور اپنے اپنے مذاہب اور ثقافتوں سے ایک دوسرے کو آگاہ کریں۔ یوں بحیثیت مجموعی یہ ایک اچھا تجربہ رہا اور شرکاءکو بہت اچھے اور دوستانہ ماحول میں ایک دوسرے سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا۔


ابراہیمی مذاہب کے وابستگان کا ایک اجتماع (۱)۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Comments are closed.