وٹزپ فیس بک والی عید مبارک

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عید کے دن کو اسلامی اعتبار سے ایک اہمیت حاصل ہے جس سلسلے میں ہم جانا نہیں چاہتے۔ ہم موضوع کے عین مطابق سماجی اعتبارسے بات کریں گے کہہ یہ ایک ایسا اسلامی تہوار ہے جس دن کو مسرتیں بانٹنے کا نام دیا ہے جس میں ایک دوسرے کے پاس جاکر اپنے ہمسایوں پیاروں، فیملی ممبران اور ضرورت مندوں سے اُن کا حال پوچھنا اُن کے ساتھ دن گزارنے کا نام ہے۔ جس میں تمام ناراضگیوں ناچاقیوں کو بالائے طاق رکھ عید کا سب سے اہم جز و گلے مل کر اپنے اہل و عیال اور اپنے ہمسایوں کے ہاں جاکر تحائف کی صورت میں عید ملنا ہوتا ہے۔

مگر مجھ سمیت دوسرے لوگوں کو چند سالوں سے عید کے موقع پر ایسا کچھ کم ہی نظر آیا ہوگا۔ جس کی کئی نشانیاں قیامت کی نشانیوں کی طرح ظاہر ہو رہی ہے۔ آپ لوگوں نے دیکھا ہوگا جہاں تک سماجی رابطوں کی ویب سائٹس ایپلکیشنز کی رسائی ہے وہاں پر عید کے دن کو منانے کے لئے ایک انسان کو دوسرے انسان تک جانا تو دور کی بات ہے۔ ایک بھائی دوسرے بھائی سے بھی بذریعہ وٹزپ فیس بک پر ہی گلے بھی ملتا ہے عید کارڈ بھی بھیجتا ہے سیوؤں کی تصاویر سمیت عید کی دیگر سوغاتوں کی تصاویریں بھیجتے ہیں۔

موجود عید کے دن کی بات ہے میں اور میرا انتہائی قریبی دوست جو ایک ہی وٹزپ گروپ میں ایڈ ہونے کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے 225 افراد کے درمیان ایک دوسرے سے گروپ میں ہی عید مل لی۔ بالکل ہماری طرح کافی لوگوں نے اس ٹول کو استعمال میں لاکر عید ملنے اور منانے کا قرض اُتار دیا ہوگا۔

پہلے چاند رات یا عید کی نماز کے بعد کلومیٹرز کی مسافت پر رہنے والے احباب دوست اور چند قدموں کی مسافت پر رہنے والے دوست احباب ایک دوسرے سے ملنے ایک دوسرے کے گھرجاتے تھے جو باقاعدہ عید منانے کا سب سے پہلا مقصد سمجھا جاتا تھا۔

بالکل اسی طرح عید نماز کے فورا بعد آبائی قبرستانوں میں بھی ایک رش نظر آتا تھا لوگ اپنے گزرے ہوئے پیاروں کہ قبروں پر فاتح پڑھنے جاتے تھے۔ لیکن اب ہم جوکہ زندہ لوگوں سے بھی ملنا گوارا نہیں سمجھتے جن کو اللہ نے بلالیا ہو اُن کے ہاں جانا اور بھی مشکل ہوگیا ہے۔

جس طرح سماجی رابطوں کی ویب سائٹس نے انسان کو ایک دوسرے کے اتنے قریب کردیا ہے کہہ انسان نظر آتا ہے مل جاتا ہے مگر اسی ترقی نے حقیقی احساس کی مقدار اور قدر آخری سانس لینے کو ہے۔ آپ لوگوں کو ایسا بھی دیکھنے کو ملا ہوگا کہہ ایک گھر میں 7 افراد ہیں سارے ایک ہی گھر میں موجود ہو اور وہ سارے ایک دوسرے سے ضروری یا غیر ضروری گفتگو کو روبرو بیان کرنے سے زیادہ وٹزپ کے ذریعے ہمکلام ہونا ضروری سمجھتے ہیں۔

پہلے ہم لوگ عید کے اگلے یا تیسرے روز کسی تفریحی مقام پر سیر کرنے کے لئے جاتے تھے۔ جہاں پر نیٹورک کے ہونے یا نہ ہونے سے کوئی مطلب نہیں ہوتا تھا۔ اب گزشتہ سالوں کی عید سے لے کر موجودہ عید پر تفریحی کا پلان نہ بن پانے کی وجہ یہ ہے کہہ وہاں نیٹورک نہیں ہوتا اور وہاں وٹزپ یا فیس بک کام نہیں کریگا بہتر ہے نہیں چلتے۔

آنے والا وقت شاید آج سے زیادہ ڈویلپمنٹ کا ہو جہاں عید نماز بھی وٹزپ فیس بک پر ہی ادا کرنے کا رواج بن جائے۔ برائے کرم عید کو سماجی رابطوں کے ذرائع تک محدود نہ کریں۔ ممکن ہے جو کسی دوست یا اپنے سے گلے لگ کر عید ملن کی خوشی کا مقابلہ وٹزپ یا فیس بک والی عید ملن نہ کرپائے۔ آج کا دور چاہیے کتنا بھی نیا کیوں نہ ہو مگر احساس اقدار اور میل ملاپ تہواروں کو دور دوڑ میں شامل نہیں کرنا چاہیے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •