رویتِ ہلال۔ ایک مختلف زاویہ نگاہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

رویتِ ہلال اور اسلامی تقویم کے حوالے سے موجودہ بحث اور ہاؤ ہو ایک سیاسی اور مذہبی سرکس سے بڑھ کر کچھ نہیں۔ اس لئے میں حالیہ بیانات در بیانات سے ہٹ کر اس مسئلے پر ایک مختلف زاویے سے بات کرنے کی کوشش کروں گا۔

اس معاملہ پر اختلاف اور ابہام کے بنیادی نکات شاید کچھ اس طرح ترتیب دیے جا سکتے ہیں۔
1۔ مذہبی حوالے سے مہینے کی شروعات کے لئے شرط چاند کا موجود ہونا ہے یا اس کا دیکھا جانا؟
2۔ مذہبی اور انتظامی ہر دو اعتبار سے کیا ایک عالمی تقویم پر متفق ہونا چاہیے یا فرداَ فرداَ ہر ملک اپنے طور پر یہ کام کرے۔
3۔ یہ خفت کہ عالمی سطح پر غیر مسلموں کو مختلف ملکوں میں مختلف تاریخ ہونے کی، اور اس کے نتیجے میں اسلامی تہوار مختلف شمسی تاریخوں پر منائے جانے کی کیسے وضاحت کی جائے۔

پہلا اختلاف کیونکہ خالصتاَ اسلامی اور شرعی نوعیت کا ہے اس لئے میں فی الوقت اس سے اجتناب برتوں گا۔ درحقیقت میں سب سے پہلے آخری نکتے پر بات کرتا ہوں، جب یہ بات واضح ہوجائے گی تو آپ دیکھیں گے کہ دوسرا نکتہ از خود اپنی اہمیت کھو دے گا

یہ خفت کہ مختلف ممالک میں اسلامی مہینوں کی تاریخ (اور اس کے نتیجے میں اسلامی تہواروں کے دن) مختلف کیوں ہوتی ہے، اس وجہ سے ہے کہ ہم قمری (عرفِ عام میں اسلامی) تقویم کو شمسی کیلنڈر کے فریم آف ریفرنس سے ہی دیکھ رہے ہوتے ہیں۔

ہم سب جانتے ہیں کہ شمسی نظام الاوقات کے حساب سے مختلف ممالک میں مختلف ٹائم زونز استعمال ہوتے ہیں۔ مشرق میں چلتے جائیں تو دن کا آغاز کہیں نیوزی لینڈ میں پاکستان کے مقابلے میں کوئی سات گھنٹے پہلے ہو چکا ہوتا ہے۔ جبکہ دوسری جانب کینیڈا میں پاکستان سے کوئی نو گھنٹے بعد ہوگا۔ یعنی اگر میں پاکستان میں یکم جون کو رات بارہ بج کر ایک منٹ پر آکلینڈ نیوزی لینڈ کال کروں تو وہاں صبح کے چھ بجے ہوں گے، جبکہ اوٹاوا کینیڈا میں ابھی 31 مئی سہ پہر تین بجے کا وقت ہوگا۔

ایک ہی لمحہ میں دنیا کے دو مقامات پر دو تاریخیں؟ مگر نہ امریکہ یا کینیڈا والے اس پر خفت محسوس کرتے ہیں نہ آسٹریلیا نیوزی لینڈ والے۔ اس لئے کہ ہمارے اذہان نے سائنسی اعتبار سے اس سارے معاملے کو سمجھ لیا اور تسلیم کر لیا ہے۔ کسی عیسائی کو یہ ابہام نہیں ہوتا کہ نیوزی لینڈ میں سانتا کلاز ایک رات پہلے آئے گا یا کینیڈا میں ایک رات بعد کیسے آئے گا۔ اس لئے کہ ہم نے تاریخ کے اس فرق کو گھنٹوں کے حساب سے سمجھ لیا ہے اور ہم جانتے ہیں کہ بے شک نیوزی لینڈ سے مزید مشرق میں سفر کرتے رہنے سے ہم ڈیٹ لائین عبور کرکے پچھلی تاریخ میں جا پہنچیں گے (اور ایسا بحری یا فضائی سفر میں درحقیقت ہوتا بھی ہے ) مگر ہم سمجھتے ہیں اور تسلیم کر لیتے ہیں کہ در حقیقت یہ مشرق کی طرف سے ایک دن پیچھے کا سفر نہیں بلکہ مغرب کی طرف سے بائیس تئیس گھنٹے کا سفر ہے۔ اور تقریباَ چوبیس گھنٹے میں پوری دنیا میں ایک دن (ایک تاریخ) کا چکر پورا ہوجاتا ہے۔

اب اسی استدلال سے قمری تقویم کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ چونکہ کسی سائنسدان یا ماہرِ فلکیات نے آج تک قمری تقویم کے حساب سے ڈیٹ لائین متعین نہیں کی، اس لئے ہم اس کو سمجھنے میں مشکل محسوس کریں گے۔ لیکن اگر غور کیا جائے تو چاند کی پیدائش یا اس کی رویت (دیکھے جانے ) ہر دو اعتبار سے بارڈر لائین کیس (وجہ نزاع) ہمیشہ مڈل ایسٹ اور پاکستان کے درمیان ہی بنتا ہے، اگر ہم سمجھنے کی غرض سے مکہ سعودی عرب سے ہی ریفرنس لے لیں تو جس دن مغرب کے بعد چاند کی رویت مکہ میں ہو گی، اسی دن مزید مغرب میں سفر کرتے جائیں تو گھنٹوں کی تاخیر سے مغرب کے بعد رویت کا اہتمام کرتے کرتے پورے دنیا کا چکر پورا کرکے بیس بائیس گھنٹے میں ہم پاکستان افغانستان وغیرہ تک پہنچ جایئں گے۔ اور یہ وہی دن ہو گا جب عام پریکٹس کے مطابق، شمسی تاریخ کے حوالے سے ہم اگلے دن ان علاقوں میں رویت کا اہتمام کر رہے ہوتے ہیں۔ گویا تکنیکی اعتبار سے ہم اب بھی پوری دنیا میں ایک ہی قمری تاریخ استعمال کر رہے ہیں۔

اگر ہم اس استدلال کو سمجھ جائیں تو دو معاملات سلجھ جاتے ہیں، مختلف ممالک میں تاریخ کا آگے پیچھے ہونا اتنا ہی لاجیکل ہو جاتا ہے جتنا شمسی تقویم میں ہے۔ اسی طرح یہ بحث بھی بے معنی ہو جاتی ہے کہ رویت کا اہتمام ہر ملک اپنی اپنی سطح پر کرے یا عالمی طور پر ایک ہی رویت (دوسرے لفظوں میں سعودی عرب کی) کو فالو کیا جائے۔ کیونکہ اگر الگ الگ رویت کا اہتمام ہوگا بھی تو اس کی اہمیت محض اتنی رہ جائے گی کہ آپ مختلف مہینوں میں ڈیٹ لائین کا تعین نئے سرے سے کر رہے ہوں گے، کسی مہینے یہ پاکستان پر سے گزرے گی اور کسی مہینے ایران یا امارات وغیرہ کے اوپر سے۔

جو حضرات آج کل ہمیں سعودی عرب کے ساتھ ہی عید، یا رمضان شروع کرنے کا کہہ رہے ہوتے ہیں وہ دراصل ہمیں سعودی عرب سے چند گھنٹے پہلے ہی اپنے تہوار شروع کرنے کا کہہ رہے ہوتے ہیں۔ بالفرض اسے فالو کرنا شروع کردیا جائے تو عید الاضحیٰ پر ہم صعودی عرب میں عید کی نماز سے پہلے ہی اور ہم سے مزید مشرق والے ممالک فجر سے پہلے ہی قربانی کر رہے ہوں گے۔ سمجھنے کی بات یہ ہے کہ اس سے زیادہ مناسب اور پریکٹیکل صورت یہ ہے کہ ہم سعودی عرب میں دن کے آغاز کے بعد مغرب کی طرف سے جیسے جیسے جن علاقوں میں دن طلوع ہوتا جائے، اسی تاریخ کا (اور تہوار کا) آغاز کرتے کرتے جائیں۔ اس حساب سے بظاہر پاکستان اور پاکستان سے مشرق کی جانب ممالک میں عید وغیرہ بظاہر ایک دن بعد ہو گی بعینہ جیسے نیوزی لینڈ سے کینیڈا جاتے ہوئے کرسمس یا نیو ائیر ایک دن بعد آتا ہے۔

آخر میں پہلے نکتے (یعنی مہینے کے آغاز کا تعین رویت سے ہے یا چاند کی موجودگی سے ) کے بارے میں مختصراَ اور بہت ڈرتے ڈرتے کہنا چاہوں گا کہ بہت سے دوسرے معاملات کی طرح یہاں بھی اس اجتہاد کی ضرورت ہے کہ کیا جہاں رویت کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں وہاں مقصود مطلقاَ رویت ہی ہے یا رویت کو موجودگی کی دلیل اور شہادت کے طور پر انٹرپریٹ کیا جاسکتا ہے، آخرالذکر استدلال کو اپنانے سے موجودگی کی متبادل دلیل اور شہادت کو اپنانے کا راستہ نکل سکتاہے۔ جیسے متبادل ذرائع سفر (گھوڑے خچر کی بجائے کار، ہوائی جہاز) مستعمل ہیں۔ مگر یہ فقہائے دین کے کرنے کا کام ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •