صحیح اور غلط کی تکرار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ویسے تو صحیح اور غلط کا تضاد اوریہ تکرار بہت قدیم ہے، یقینًا اُتنی ہی قدیم، جتنی یہ کائنات۔ صحیح اور غلط کی کسوٹی دور کی لحاظ سی بھی بدلتی رہتی ہے، تو ہر دور میں فرد سے فرد تک بھی اُس کی تعریف بدلتی رہتی ہے۔ عمُومی طور پر ”صحیح“ اور ”غلط“ کی تعریف وہی صحیح سمجھی جاتی ہے، جو لوگوں کی اکثریت کی لئے قابلِ قبول ہو۔ کچھ مثالیں ایسی بھی ملتی ہیں، جہاں پر کوئی غلط چیز اکثریت کے لئے قابلِ قبول ہوتی ہے، اس لئے وہ ”معیار“ بن جاتی ہے۔

شاید اسی قسم کی روش کو دیکھ کر عربی میں ”غلط العام صحیحاً“ جیسا مقولہ رائج ہوا۔ میں نے ایک بار معروف دانشور، تاریخ دان اور ماہرِ آثارِ قدیمہ، سیّد حاکم علی شاہ بخاری سے اُن کی جانب سی ایک جامعہ میں ”ثقافت“ کے موضوع پر دیے گئے لیکچر کے بعد ایک سوال کیا تھا کہ: ”کیا معیُوب چیزیں، جو کسی خطّے یا افراد کے گروہ کی عادات میں شامل ہوں، وہ بھی ثقافت کا حصہ ہوتی ہیں؟ یا کہلائی جانی چاہئیں؟ “ تو بخاری صاحب نے اس سوال کا انتہائی اطمینان بخش اور علمی حوالے سی گہرا جواب دیا تھا کہ: ”جو چیز ’کلچرڈ‘ نہیں ہے، وہ ’کلچر‘ کا حصّہ کبھی نہیں ہو سکتی۔ “ اس تعریف کو معیار بنا کر اگر ہم اپنے معاشرے میں چاروں طرف نگاہ پھیریں، تو سینکڑوں ایسی چیزیں ہماری ثقافت کا حصّہ بن گئی ہیں (بنا دی گئی ہیں ) جو کہیں بھی اور کبھی بھی ہماری اقدار کا حصہ نہیں رہیں۔

زمانے کی روشوں پر سوچتے ہر ذی شعور کی ذہن میں ایسے ان گنت سوال اُٹھتے ہیں، جن کے پیشِ نظر وہ زمانے کی معموں کو حل کرنے کی کوشش میں تھک جاتا ہے، کہ کیا صحیح ہی اور کیا غلط!

عمومی طور پر زبان، انسانی روّیوں، ردِ عمل کے اظہار یا کسی اوربات کی تصحیح کی صورت میں اس قسم کے جملے عام طور پر سُننے کو ملتی ہیں کہ: ”بات سمجھ میں آ جانی چاہیے۔ صحیح اور غلط کی زحمت کو چھوڑئے! “ اگر بات کا اُس کی روح کے صحیح انداز میں ابلاغ کے بغیر ہی سمجھنا مقصود ہوتا، تو نہ ہم پر پیغمبر اُترتے اور نہ صحیفے نازل ہوتے۔ ”ہدایت“ کا آنا اور انسان کا اُس پر کاربند رہنے کا حکم، دراصل زندگی کو ”کام چلانے“ کے انداز میں گزارنے سے ہَٹ کر صحیح انداز میں بسر کرنے کے پیشِ نظر ہی ہے۔

اس حقیقت سے انحراف کس کو ہے کہ انسان غلطیوں کا گھر ہے اور لغزش انسانی جبلّت ہے، مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ بہت ساری غلطیاں انسان جان بُوجھ کر کر رہا ہوتا ہے۔ بہت سارے ناہموار راستوں پر انسان جان بُوجھ کر چل رہا ہوتا ہے، جب کہ اُس کے سامنے اُس ناہموار راستے کے ساتھ ساتھ ہموار ڈگر بھی ہوتی ہے۔ سفر کرتے ہوئے مختلف سائن بورڈز اور بلبورڈز پر لکھے ہوئے متعدد فقروں، جُملوں اور الفاظ سے لے کر ذہن میں پلنے اور دل میں پنپنے والے کئی جذبات اور خدشات تک، تاریخ کے اوراق میں لکھے لاکھوں سفید جھوٹوں سے لے کر دُنیا بھر کے میُوزیمس میں سجی مختلف عظیم شخصیات کی ناموں سی منسوب چیزوں اور ’تبرکات‘ تک، نہ جانے کتنے جھوٹ ہم جیسے عام لوگوں کو نگلنے پڑتے ہیں۔

اُن میں سے بیشتر جُھوٹ ہم اس لئے مجبوراً نگل رہے ہوتے ہیں، کہ ہم اُن کو اُگل نہیں سکتے۔ سیاستدانوں اور حکمرانوں کے جھوٹے وعدوں اور دعووں سے لے کر ’ممبر‘ پر بیٹھے واعظ کی باتوں میں شامل اضافی مافُوق الفطرت باتوں تک، اور درسی کتابوں میں ”ہیروز“ کو ”ولیَن“ اور ولینز کو ہیرو بنا کر پیش کیے جانے والے ہتھکنڈوں تک، نہ جانے کتنے ستم ایک عام انسان پر اُس کی ابتدائی عمر سے اس قدر شدید انداز میں کیے جاتے ہیں، کہ وہ زندگی میں آگے چل ہر جُھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ سمجھنے لگتا ہے۔

اُس کو بچپن ہی سے یونان کے ”سکندر“ نامی قاتل، سفاک اور دُنیا بھر کے بے گُناہوں کا قتلِ عام کر کے دُنیا کے کئی علاقوں کو اپنے زیرِ اثر کرنے کی حرص رکھنی والے ظالم کو بچپن ہی سی ”سکندرِاعظم“ بولنا اور کہنا سکھایا جاتا ہے، تو وہ نونہال ایک سفاک کو ہیرو سمجھنے لگتا ہے۔ اور تو اور، سینکڑوں بچّوں کے نام اُس کے نام پر آج بھی رکھے جاتے ہیں۔ ہزاروں بچّوں کی نام تو ”اورنگزیب“ بھی رکھے جاتے ہیں، جس نے اپنے اقتدار کی حرس میں اپنے باپ تک کو عمر بھر قید رکھا اور اس کی وفات سے تھوڑا عرصہ پہلے آزاد کیا، جبکہ اپنے قابل اور روشن ذہن بھائی، ”دارا شکوہ“ کو قتل کروا دیا۔

اور ہم صرف اُس کی جانب سے ظاہری طور پر مساجد اور مدرسے تعمیر کروانے اور ڻوپیاں سینے کے عمل کو دیکھ کر، اپنے انگوٹھے چوم کر اُس کو ایک اعلیٰ اقدار والا انسان تصور کرتے ہیں۔ نام تو ہم ”محمود“ بھی رکھتے ہیں، یہ جانے بغیر کہ وہ دولت کا حریص غزنی کا محمود، جس کو سرکاری اور درباری تاریخوں میں ”سلطان محمود غزنوی“ لکھا اور کہا گیا، غزنی سے سومنات تک صرف بُتوں میں چُھپی دولت، ہیرے اور جواہر تلاش کرنے اور ہتھیانے کے لئے ہی برِصغیر آیا تھا۔

اسی غلط اور صحیح کا امتیاز نہ ہونے کی وجہ سی ہم صُوفیوں کے سردار اور ”جو بوئے، وہی کھائے“ کا نعرہ دینے والے، حضرت صوفی شاہ عنایت شہیدؒ کو تو نہیں جانتے، البتہ دادو میں سوئے ہوئے اُن کی قاتل، میاں یار محمد کلہوڑو (جس نے مغلوں کو یہاں آنے اور صوفی شاہ عنایت شہید کو شہید کروانے میں مدد فراہم کی) سے اپنے لئے بیٹوں کی بھیک مانگنے ضرور جاتے ہیں۔ اور تو اور ہماری جہالت کی انتہا یہ ہے کہ، کئی خاندانوں کا یہ اعتقاد ہے کہ اگر یار محمد کلہوڑو کے مزار پر رکھے ہوئے ”ڈنڈے“ کو عورت کی سر پر مسح کیا جائے گا، تو اُس کے وہاں بیٹا پیدا ہوگا۔

یہ عالم صرف یار محمد کلہوڑو کے مزار کا نہیں، بلکہ پاکستان سمیت برِصغیر میں جتنے بھی مزار ہیں، لگتا ایسے ہی کہ وہ اولاد دینے کی فیکٹریاں ہیں۔ کلہوڑا حکمرانوں نے زندگی کے ہر معاملے میں مغل حاکموں کی نقل کی۔ چاہے وہ متعدد شادیاں کرنے کامعاملہ ہو، یا مساجد اور مقبرے تعمیر کروانے کا شوق، اُنہوں نی ہر وہی بات کی، جو مغلوں نے کی۔ مغلوں اور کلہوڑوں میں سے متعدد حکمرانوں نی اپنی زندگیوں میں ہی اپنے مقبرے تعمیر کروائے اور یہ وصیّت کی کہ مرنے کے بعد اُنہیں وہیں پر دفنایا جائے۔

مزے کی بات یہ ہے کہ مغلوں اور کلہوڑوں، دونوں ہی میں ایسی مثالیں ملتی ہیں، کہ حکمران نے مقبرہ اپنے لئے تعمیر کروایا، مگر اُس میں مستقل آرامی ہونا کسی اور فقیر کو نصیب ہوا، اور اُن کو خود مرنے کے بعد کوئی دشت کا کونہ نصیب ہوا۔ سندھ میں کلہوڑوں کے مقابر کے حوالے سے ذکر میں یہ مثال، روزِ روشن کی طرح عیاں ہے، کہ کلہوڑا حکمرانوں کا سندھ کے اندر موجود لگ بھگ ہر مقبرہ اب ”خانقاہ“ بن چکا ہے، اور لوگ جوق در جوق وہاں اپنی منتیں لے کر آتے ہیں، جن کا یہ عقیدہ ہے، کہ اُن کی منتیں پوری بھی ہوتی ہیں۔ حیدرآباد شہر کے وسط میں کلہوڑا کالونی میں واقع میاں غلام شاہ کلہوڑو کا مقبرہ تو ”مچھلی والے بابا“ کے نام سے مشہور ہے، کیونکہ جس کی منت پوری ہوتی ہے، وہ وہاں جا کر، نذر کے طور پر مچھلی کا سالن اور روٹی تقسیم کرتا ہے۔

صحیح اور غلط کا مُتنوع موضوع، محظ مندرجہ بالیٰ چند مثالوں ہی تک محدُود نہیں، بلکہ تاریخی ستم ظریفیوں، حالات، واقعات، توہمات اور فکری سلسلوں کی ایک طویل قطار ہے، جس کو ان چند سطروں میں سمایا نہیں جا سکتا، اور اس موضوعِ فکر کے حوالے سے مزید جنبشِ قلم کا ارادہ ہے۔ اُس کے باوجود یہ نکتہء فکر بھی لازم ہے کہ بذاتِ خود، فکر کے اس انداز میں، میں صحیح ہوں یا غلط؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •