مفتی منیب، سائنس اور جوتے کی نوک

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دُنیا چاند پر پہنچ گئی اور ایک ہم بیچارے ہیں جِنہیں ابھی تک چاند نظر نہیں آتا۔ چند دِن پہلے چیئرمین رویتِ ہلال کمیٹی مُفتی مُنیب الرحمٰن صاحب نے فرمایا کہ  ” میں سائنس کو اپنی جوتے کی نوک پہ رکھتا ہوں“۔

مُفتی صاحب! سائنس کو جوتے کی نوک پہ رکھنے سے پہلے اپنا چشمہ، اپنی گھڑی توڑ کے پھینک دیں، اپنی گاڑی جِس پہ آپ سفر کرتے ہیں اُسے آگ لگا دیں اور آئندہ گھوڑے یا اونٹ پہ سفر کرنے لگ جائیں۔

جناب! سائنس اور جدید علوم کے خلاف ایسی ذہنیت اور سوچ نے اُمتِ مُسلمہ کو وہ نقصان پہنچایا ہے جِس کی سزا آج تک ہم بُھگت رہے ہیں۔

کیا چاند کو دیکھنا ایک مولوی صاحب کا کام ہے یا ماہرِ فلکیات کا؟ آج دُنیا سائنسی علوم کے اُفق پہ چھایا ہُوا ہے لیکن ہمارے مفتی صاحب ”باہُو بَلّی“ فِلم میں دِکھائی جانے والی برسوں پُرانی دوربین کا سہارہ لیتے ہیں (جو بھی سائنسی ایجاد ہے جِسے وہ جوتے کی نوک پہ رکھتے ہیں ) ۔

ہمارے ہاں اِسلام کو صرف رسم و روایات اور عبادات تک محدود کر دیا گیا ہے اور اِس سے آگے سوچنے اور سوال کرنے پر قدغنیں لگائی گئی ہیں۔ حالانکہ اِسلام ایک مکمل ضابطہ ءِ حیات ہے اور اللہ پاک قرآن مجید میں کئی جگہ اِنسان کو غور و فکر اور تحقیق کی دعوت دیتے ہیں اور ساڑھے سات سو سے ذائد آیات ایسے ہیں جو سائنسی تحقیق کی طرف دعوت دیتے ہیں اور قرآن انسان کے اندر عقل و شعور اور سوچنے کی صلاحیت کو اُبھارتا ہے لیکن بقول علامہ اقبالؒ؛

واعظِ قوم کی وہ پُختہ خیالی نہ رہی
برقِ طبعی نہ رہی، شُعلہ مقالی نہ رہی

رہ گئی رسمِ اذاں، روحِ بِلالیؓ نہ رہی
فلسفہ رہ گیا، تلقینِ غزالیؒ نہ رہی

آج کل ہمارے چند مُفتیانِ حضرات ایک فضول قِسم کے گیم PUBG پہ فتوے لگانے میں مصروف ہیں اور وہ فلسفہ و تلقینِ غزالیؒ کا باب تو کھولنا بھی گوارا نہیں کرتے۔

کِسی زمانے میں اختلافِ رائے کا احترام ہوتا تھا اور کِسی مجمعے میں کوئی عِلمی بحث چِھڑ جاتی تو سب طالبعلم بن کا اُس کا حصہ بنتے تھے اور مسائل کے مختلف پہلوؤں پر مختلف زاویوں سے غور و فکر کرتے اور جو حل اُنہیں مناسب خیال ہوتا اُس کا انتخاب کرتے لیکن اب تو کہیں عِلمی بحث چِھڑ جائے تو لوگ طالبعلم نہیں بلکہ طالبان بن جاتے ہیں اور اگر کِسی ایک بات پہ اڑ جاتے ہیں تو کہتے ہیں کہ بس یہی بات صحیح ہے اور اِس کے عِلاوہ اورکُچھ بھی نہیں، یعنی سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت بالکل مفلوج ہوکر رہ گئی ہے۔

جب سے یہ سوچ پروان چڑھی ہے کہ سائنس اسلام کے خلاف ہے تب سے ہم روز بروز پستی کی طرف جارہے ہیں۔

آٹھویں صدی عیسوی سے چودھویں صدی عیسوی کے دوران علمِ طِب، فلکیات، فلسفہ، منطق، سیاسیات سمیت سے دیگر شعبوں میں سب بڑے ماہر سائنسدان مُسلمان تھے جِن میں ابنِ رُشد، ابنِ خلدون، یعقوب الکِندی، الرازی، الخورزمی، اِمام جعفر، ابو حامد الغزالی سمیت کئی بڑے نام شامل ہیں لیکن اُس وقت بھی جوتے کی نوک پہ مارنے والی سوچ کے حامل لوگوں کی جدید علوم سے بے زاری اور بے قدری کا عالم یہ تھا کہ اِبنِ رُشد جیسے بڑے سائنسدان کو جو کہ اُس وقت دُنیا کا سب سے بڑا ماہرِ فلکیات تھا، اُسے حاکمِ وقت کے حُکم پہ جامع مسجد کی سُتون کے ساتھ باندھ دِیا گیا اور ہر نمازی کو حُکم دِیا گیا کہ وہ آتے جاتے ہوئے اِبنِ رُشد پہ تُھوکتا ہُوا جائے۔

یعقوب الکِندی جِسے بابائے فلسفہ کہا جاتا تھا اُس کے ساتھ بھی اُس وقت کے حاکم نے کُچھ ایسا ہی سلوک کِیا کہ اُسے بھری محفل میں پچاس کوڑے لگائے گئے اور ہر کوڑے پہ تالیاں بجائی گئیں۔

ماہرِ طِب الرازی کے ساتھ بھی ایسا ہی سلوک کِیا گیا۔ ۔ حاکمِ وقت نے حُکم دِیا کہ الرازی کی لِکھی گئی کِتاب کو اُس کے سر پہ تب تک مارا جائے جب تک یا تو اُس کا سر ٹوٹ جائے یا کِتاب، اُس کی اِتنا مارا گیا کہ وہ اپنی بینائی کھو بیٹھا اور یہاں بھی تحقیق کا ایک باب ہمیشہ کے لئے بند ہوگیا۔

آج دُنیا سائنسی تحقیق کی وجہ سے معاشی، معاشرتی و اقتصادی لحاظ سے ثُریا سِتارے تک پہنچ گئی لیکن ہم ابھی تک لاؤڈ سپیکر کے استعمال کے خلاف اور PUBG کے خلاف فلسفے جھاڑ رہے ہیں۔

سائنسی علوم کی بُنیاد پہ آج دُنیا صنعتی انقلاب سے آگے گزر رہی ہے اور وہ دیگر ممالک و اقوام کہاں سے کہاں پہنچ گئے لیکن آج ہمارے ہاں سائنسی علوم تو دور، آج 40 فیصد سے ذائد مسلمان پڑھنا لِکھنا نہیں جانتا۔

مذہب کو صحیح معنوں میں نہ سمجھنے کا انجام یہ ہُوا کہ برِصغیر میں مسلمان انگریزی سمیت جدید علوم سے دور رہے جبکہ دیگر اقوام اِن علوم میں اُن سے آگے نِکل گئے اور اِس سوچ کی رَد سرسید احمد خان نے کی تو اُن پر بھی فتوے لگنا شروع ہوگئے حالانکہ اِسلام قطعی جدید علوم سے منع نہیں کرتا بلکہ نبی کریمﷺ جب کِسی دوسرے مُلک کے بادشاہ کو خط لِکھتے تو اُس کاتب کو بُلاتے جو اُس زبان پہ عبور رکھتا تھا اور بادشاہ کو اُس کی زبان میں خط لِکھتے اور فرمانِ نبوی ﷺ ہے کہ عِلم حاصل کرو چاہے تُمہیں چین تک ہی کیوں نہ جانا پڑے۔

سو مُفتی مُنیب صاحب آپ سے معذرت کے ساتھ عرض ہے کہ سائنس کو جوتے کی نوک پہ رکھنے سے پہلے باہو بَلیّ کی دور بین اُسے واپس لوٹا دیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •