منظور پشتین کے نام

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

محترم دوست امید ہے آپ بخیر و عافیت ہوں گے۔ وزیرستان کا موسم بھی تھوڑا بہتر ہوگا پہاڑی علاقے ہے۔ روزے مست گزر رہے ہوں گے۔ پنجابیوں نے یہاں بھی ہمارے ساتھ نا انصافی کی ہے اپنے لئے مکہ مدینہ کی سیر والے حج عمروں کا انتخاب کیا ہے اور ہمارے لئے یہ گرمیوں کے روزے چھوڑے ہیں۔

محترم منظور صاحب اگر گوگل میپ سے دیکھے تو براعظم شمالی امریکہ کے انتہائی نیچے کیریبین جزائر میں خشکی کے ایک ٹکڑے پر دو ملک آباد ہیں۔ ایک کا نام ”ہیٹی“ جبکہ دوسرے کا ”ڈومینیکن ریپبلک“ ہے۔ ایک ہی جزیرے پر ہونے کے باوجود دونوں ملکوں کے عوام کے لائف سٹائل میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ ہیٹی ایک تباہ حال افلاس زدہ ملک ہے جبکہ ڈومینیکن ریپبلک کریبین کا خوشحال ترین ملک ہے۔ اگر میں اپنی بات کو اور آسان کرو تو ہیٹی کی خواتین ڈومینیکن رپبلک کے بازار میں اپنا سامان بیچنے کے لئے صبح کے چار بجے لائنوں میں کھڑی ہوجاتی ہیں اور دوپہر کے ایک بجے قریب ان کے لئے گیٹ کھول دیا جاتا ہے اور اتنے ظلم کے باوجود وہ خوش رہتی ہیں کیونکہ یہاں ان کا کچھ بکے گا اور ان کے بچوں کی روزی روٹی بن جائے گی۔

محترم پشتین صاحب یہ دونوں ممالک فرانس کی کالونیاں ہوا کرتی تھی۔ باوجود کہ ہیٹی نے ڈومینیکن ریپبلک سے چالیس سال پہلے فرانس کی تسلط سے آزادی حاصل کی ہیٹی میں انسانوں کے زندگی کا معیار جانوروں سے بدتر ہے۔

پتہ ہے کیوں۔
کیونکہ ہیٹی کے عوام پر انقلاب کا بھوت سوار تھا۔ وہ فرانس کے خلاف جلسوں میں نعرے لگاتے ”یہ جو دہشتگردی ہے اس کے پیچھے وردی ہے، یہ کرنل جرنل دہشتگرد“۔ وہ فرانسیسیوں کو الٹا لٹکانے کی دھمکی دیتے۔ جس کی وجہ سے وہاں کے عوام ایک قوم کے بجائے ایک ہجوم بنے اور ہجوم چیزیں بناتا نہیں بگاڑتا ہے۔

منظور صاحب میں حیران ہو آپ کیسے باچا خان کے پیروکار ہیں۔ باچا خان نے کبھی مارنے کاٹنے کی بات نہیں کی۔ ان کا فلسفہ تو امن اور محبت ہے۔ میری آپ سے التجا ہے خدارا پختون نوجوانوں کو بند گلی میں نہ دھکیلiے۔ بند کریں یہ پختونوں کو انقلابی بنانا۔ ہم نے ہر وقت انقلاب کا ٹھیکہ نہیں لیا۔ دو دفعہ انقلاب کے نام پر ملاوں نے ہمارا بیڑہ غرق کردیا ہے دو دفعہ اسلام کے نام پر پختونوں کا خون بہایا گیا ہے اب قومیت کے نام پر ان کا خون مت بہائیں۔

خدارا ہمیں جینے دیں۔ کوئی زیادتی نہیں ہورہی پختونوں کے ساتھ اس ملک میں۔ آپ کو پشاور میں شاذ و نادر ہی کوئی سندھی اردو سپیکنگ یا پنجابی کاروبار کرتا ملے گا لیکن کراچی اندرون سندھ اور پورے پنجاب کے ہر شہر میں پٹھان کاروبار کرتے نظر آئے گے۔ پاکستان کے عوام ان کو گلے لگاتے ہیں اور انہیں دل میں جگہ دیتے ہیں۔ ہاں پاکستان کے بیشتر اداروں میں کچھ مسائل ہیں جو ہر قومیت کے لئے ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ سیاسی ظلم ہر قومیت کی پارٹی کے ساتھ کرتی ہے۔ آپریشن چاہے کراچی، ڈیرہ بگٹی، لال مسجد یا وزیرستان میں ہو ریاست ہتھیار اٹھانے والوں کے خلاف سخت موقف دکھاتی ہے۔ اب اس کو کسی قوم کے ساتھ جوڑنا نا انصافی ہوگی۔

اور کس کے ساتھ آپ بنائیں گے لر و بر۔ ان کے ساتھ جن کو انقلابیوں نے اس حال پر پہنچادیا ہے کہ پچھلے دنوں ان کا سپیکر اسمبلی اجلاس میں مخالف کے پیچھے تلوار لے کر بھاگتا رہا۔ انقلاب نے وہاں پختونوں کو جو معراج بخشی ہے کم از کم وہاں سے تو سبق سیکھیں۔

میرے پاس ایک تصویر میرے دکان کے روزنامچہ کی ہے جس میں میں نے آج صبح کے دس سے لے کر سہ پہر چار بجے تک پختون بھیک مانگنی والی عورتوں کی تعداد کو نوٹ کیا ہے جس سے آپ کو کم از کم احساس ہوگا کہ پختونوں مسئلہ ریاست نہیں ان کی تعلیم و تربیت ہے اور یہ جو دانشور اور فلسفی آپ کی پیٹ تھپتپاتے اور حقوق و ذمہ داریوں کی بات کرتے ہیں۔ یہ اے سی میں بیٹھ کر آئی فون ایکس سے لکھنے والے کیا جانیں کہ دنیا کا سب سے بڑا فلسفہ ”دال روٹی“ اور دنیا کی سب سے بڑی حقیقت ”خالی پیٹ“ ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •